بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اگر لفظ نا پید ہو جاتے،تحریر:عائشہ گُل

نقطہ نظر
ayeshagul

ذرا آنکھیں بند کر کے سوچیں، اگر آج صبح آپ اٹھیں اور دنیا سے سارے لفظ غائب ہو چکے ہوں۔ نہ آپ کسی کو اپنے دل کا حال بتا سکیں۔ نہ کوئی آپ کی تکلیف سمجھ سکے، نہ محبت کا اظہار ہو سکے اور نہ ہی نفرت کا۔ نہ ماں اپنے بچے کو لوری دے سکے، نہ استاد اپنے شاگرد کو سبق پڑھا سکے، نہ کوئی عدالت میں انصاف مانگ سکے۔ کیا ہوگا؟ انسان تو اپنے اندر ہی قید ہو کر رہ جائے گا، ایک زندہ لاش بن جائے گا۔ ہم جب دل کی بات کسی سے کرتے ہیں تو ہمارے الفاظ ہی اس بات کو دوسرے تک پہنچاتے ہیں، یہ لفظ ہی ہیں جو ہمارے تاثرات اور احساسات کو دوسروں تک منتقل کرتے ہیں۔ اور حقیقت میں یہ رب العالمین کی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے، جس کا ہم دن میں ہزار بار استعمال کرتے ہیں مگر کبھی شکر ادا نہیں کرتے۔


یہ لفظ ہی ہے کہ جب منہ سے نکلے تو عام سی بات بنتی ہے اور جب یہی لفظ منہ سے نکلے تو تلاوتِ قرآن بن جاتی ہے۔ یہ الفاظ ہی ہیں جو "قبول ہے" کہنے پر ایک نامحرم کو ایک لمحے میں محرم بنا دیتے ہیں، اور یہ الفاظ ہی ہیں جو غصے میں "طلاق" کہنے پر ایک محرم کو ایک لمحے میں غیر محرم کر دیتے ہیں۔ ذرا سوچیں!ایک لفظ گھر آباد کر دیتا ہے اور ایک ہی لفظ ہنستا بستا گھر اجاڑ دیتا ہے۔ ایک لفظ "معاف کر دیا" کہنے سے دلوں میں سالوں سے جمی نفرت ختم ہو جاتی ہے، اور ایک لفظ "میں تم سے نفرت کرتا ہوں" کہنے سے سالوں کی محبت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی سے اندازہ لگائیں کہ لفظوں میں کتنی طاقت پوشیدہ ہے۔یہ تلوار سے زیادہ تیز ہیں اور مرہم سے زیادہ نرم بھی۔


اسی لیے اگر الفاظ نا پید ہوتے تو انسان اپنے جذبات کبھی کسی سے شیئر ہی نہ کر سکتا۔ وہ اپنے دکھ، اپنی خوشیاں، اپنے اندر کا سارا سمندر اپنے ساتھ ہی لیے پھرتا، کسی تک پہنچا ہی نہ پاتا۔ ایک ماں جو اپنے بچے کے لیے تڑپ رہی ہے، وہ کیسے بتاتی کہ اسے کیا تکلیف ہے؟ ایک مظلوم جو ظلم سہہ رہا ہے، وہ عدالت میں اپنا مقدمہ کیسے پیش کرتا؟ ایک عاشق جو محبوب سے محبت کرتا ہے، وہ اپنی محبت کا اظہار کیسے کرتا؟ جب انسان اپنی بات کہہ دیتا ہے تو اسے اطمینان ہوتا ہے کہ میں نے اپنا حق ادا کر دیا، میں نے اپنی بات کہہ دی، لیکن لفظ نہ ہوتے تو یہ اطمینان بھی کبھی نصیب نہ ہوتا۔ انسان گونگا، بہرا اور اندھا ہو کر رہ جاتا، حالانکہ اس کے پاس زبان ہوتی، کان ہوتے اور آنکھیں ہوتیں۔


ہم اکثر زندگی میں غصے اور جلد بازی میں ایسے الفاظ بول دیتے ہیں جن کا ہمیں بعد میں بہت پچھتاوا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے ایک بار میں نے اپنی ایک بہت پیاری دوست سے معمولی سی غلط فہمی پر سخت لہجے میں کچھ کہہ دیا۔ وہ لفظ منہ سے نکلتے ہی میں سمجھ گئی کہ میں نے غلط کیا، وہ خاموش ہو گئی لیکن اس کی آنکھوں میں دکھ تھا۔ میں نے اسی وقت معافی تو مانگ لی اور اس نے معاف بھی کر دیا لیکن وہ لفظ جو نکل گیا تھا وہ تیر بن کر میرے اپنے دل میں ہی پیوست ہو گیا۔ آج بھی جب وہ لمحہ یاد آتا ہے تو بہت پچھتاوا ہوتا ہے۔ لفظ تو نکل جاتا ہے لیکن پچھتاوا ہمیشہ کے لیے رہ جاتا ہے۔ اس پچھتاوے کو دور کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم آئندہ زندگی میں ان الفاظ سے اجتناب کریں جو کسی کی تکلیف کا باعث بنیں اور ہمارے لیے پچھتاوا بن جائیں۔


لفظوں کی اسی اہمیت کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انسان کو بیان سکھایا۔ یعنی بولنا سکھایا، لفظوں کا استعمال سکھایا۔ اگر لفظ نہ ہوتے تو نہ قرآن ہوتا، نہ حدیث ہوتی، نہ کوئی کتاب ہوتی۔ آج جو علم ہم تک پہنچا ہے، جو تاریخ ہم پڑھتے ہیں، جو سائنس ہم سیکھتے ہیں، یہ سب لفظوں کی وجہ سے ہے۔ استاد کا پڑھایا ہوا ایک لفظ ایک بچے کی پوری زندگی بدل دیتا ہے۔ ایک ڈاکٹر کا کہا ہوا "تم ٹھیک ہو جاؤ گے" کا ایک لفظ ایک مرتے ہوئے مریض میں جینے کی امید پیدا کر دیتا ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ لفظوں سے زندگی بھی ہے اور موت بھی۔


اور یاد رکھیں! یہ لفظ صرف دنیا میں ہی اثر نہیں رکھتے، آخرت میں بھی ان کا حساب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر اس پر نگہبان مقرر ہے۔ ہمارے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ لکھا جا رہا ہے۔ اسی لیے لفظ امانت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں لفظوں کی یہ نعمت عطا فرما کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان لفظوں کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر حق، سچ اور خیر کے لیے استعمال کریں۔ کسی کا دل نہ توڑیں، کسی پر جھوٹا الزام نہ لگائیں، کسی کو گالی نہ دیں۔ اپنے لفظوں کو دعا بنائیں، دوا بنائیں، کیونکہ روزِ قیامت ہمارے کہے ہوئے ہر ایک لفظ کا حساب ہوگا اور یہی لفظ ہمیں جنت میں بھی لے جا سکتے ہیں اور جہنم میں بھی۔آج ہمارے پاس وقت ہے۔ورنہ کل سوائے ندمت و خسارے کے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ کیونکہ وقت تو گزر ہی جاتا ہے،لیکن الفاظ یاد رہ جاتی ہیں۔