Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

باغی رائیٹرز فورم: اہلِ قلم کے لیے ایک روشن دروازہ ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

نقطہ نظر
shahid naseem

کبھی کبھی ادب کی دنیا میں ایک ایسی آواز بلند ہوتی ہے جو بظاہر بہت معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ آواز ایک تحریک کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کبھی کسی شخص کے ذہن میں ایک خیال جنم لیتا ہے، وہ خیال کاغذ پر اترتا ہے، پھر چند لوگوں تک پہنچتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک قافلہ بن جاتا ہے۔

لفظ بھی عجیب مخلوق ہیں۔

انہیں قید کیا جائے تو خاموش نہیں رہتے، راستہ بنا لیتے ہیں۔

انہیں نظرانداز کیا جائے تو دلوں میں سوال بن کر اترتے ہیں۔

اور اگر انہیں ایک مناسب پلیٹ فارم مل جائے تو وہ معاشرے کی فکری سمت بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

باغی رائیٹرز فورم بھی شاید اسی ایک خیال کا نام ہے۔

ایک ایسا خیال جو محض اعلان نہیں رہا، محض چند خوبصورت جملوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ عملی صورت اختیار کر گیا۔ آج جب میں باغی رائیٹرز فورم کے سفر کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ محض ایک ادبی پلیٹ فارم نہیں بلکہ لفظوں کا ایک ایسا قافلہ دکھائی دیتا ہے جس میں سینئر اہلِ قلم بھی ساتھ چل رہے ہیں اور نئے لکھنے والے بھی اپنے خوابوں، خیالات اور تحریروں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔

اور اس قافلے کے آغاز میں دو نام نمایاں دکھائی دیتے ہیں:

مبشر لقمان اور ملک ممتاز۔

مبشر لقمان نے باغی رائیٹرز فورم کا تصور پیش کیا تو یہ ایک خیال تھا، لیکن اس خیال کو عملی شکل دینا اصل امتحان تھا۔ بہت سے لوگ فورم بنانے کے اعلانات کرتے ہیں، نام رکھتے ہیں، چند دن سرگرم رہتے ہیں اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ مگر یہاں معاملہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ یہاں بات لفظوں سے آگے بڑھی اور عمل تک پہنچی۔

آج سو سے زیادہ لکھاری اس قافلے کا حصہ بن چکے ہیں۔

یہ تعداد محض ایک عدد نہیں۔

یہ سو سے زیادہ ذہن ہیں۔

سو سے زیادہ دل ہیں۔

سو سے زیادہ قلم ہیں۔

سو سے زیادہ کہانیاں ہیں۔

سو سے زیادہ خواب ہیں۔

اور شاید سو سے زیادہ وہ آوازیں ہیں جو اپنے اپنے انداز میں معاشرے سے گفتگو کرنا چاہتی ہیں۔

ایک قلم کار کی خاموش دنیا

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ایک لکھاری کی اصل زندگی کیا ہوتی ہے؟

دنیا اسے چند صفحات پر دیکھتی ہے، مگر ان صفحات کے پیچھے ایک طویل خاموش سفر ہوتا ہے۔ ایک جملہ لکھنے سے پہلے کئی سوال جنم لیتے ہیں۔ ایک کالم کے پیچھے کئی راتیں جاگتی ہیں۔ ایک افسانے کے پیچھے کئی کردار سانس لیتے ہیں۔ ایک شعر کے پیچھے کئی احساسات دفن ہوتے ہیں۔

لکھاری بظاہر اکیلا ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے اندر ایک پوری دنیا لیے پھرتا ہے۔

وہ لکھتا ہے تو کبھی معاشرے کا دکھ لکھتا ہے، کبھی محبت کا قصہ، کبھی سیاست کے نشیب و فراز، کبھی انسانی حقوق کی آواز، کبھی ادب کی خوشبو، کبھی اپنے عہد کی تاریخ۔

لیکن ہر لکھاری کی ایک خواہش ضرور ہوتی ہے:

کوئی اسے پڑھے۔

کوئی اسے سنے۔

کوئی اس کے لفظوں کو پہچانے۔

باغی رائیٹرز فورم نے اسی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔

یہی اس فورم کی اصل خوبصورتی ہے۔

تعارف بھی ایک اعزاز ہے

کسی لکھاری کی تحریر شائع کرنا یقیناً اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اس لکھاری کو متعارف کرانا ہے۔

کیونکہ ہر قلم کار کے پیچھے ایک داستان ہوتی ہے۔

وہ کہاں سے آیا؟

اس نے کب لکھنا شروع کیا؟

اس کا ادبی سفر کتنا طویل ہے؟

اس کے موضوعات کیا ہیں؟

وہ معاشرے کو کیا دینا چاہتا ہے؟

باغی رائیٹرز فورم نے قلم کاروں کی تحریروں کے ساتھ ان کے تعارف کو بھی اہمیت دی۔ یہ ایک معمولی بات نہیں۔

کسی لکھاری کا تعارف شائع ہونا دراصل اس کے قلمی وجود کو تسلیم کرنا ہے۔

یہ کہنا ہے کہ:

"ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں۔

ہم آپ کے لفظ پڑھ رہے ہیں۔

آپ کی محنت ہمارے لیے اہم ہے۔"

ایک لکھاری کے لیے اس سے بڑی حوصلہ افزائی اور کیا ہو سکتی ہے؟

میرے لیے یہ سفر کچھ زیادہ ذاتی بھی ہے

ملک ممتاز سے میری رفاقت آج کی نہیں۔

ہم پندرہ سال سے زیادہ عرصے سے ورلڈ کالمسٹ کلب کے پلیٹ فارم پر ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پندرہ سال کسی کیلنڈر کے چند خانے نہیں ہوتے۔ یہ وقت انسانوں کو پرکھتا بھی ہے، رشتوں کو آزماتا بھی ہے اور رفاقتوں کو معنی بھی دیتا ہے۔

ان برسوں میں ہم نے بہت سے ادبی و صحافتی موسم دیکھے۔ بہت سے چہرے آئے، بہت سے راستے بدلے، بہت سے پلیٹ فارم وجود میں آئے اور کئی خاموش بھی ہوئے۔

مگر قلم کا رشتہ اپنی جگہ قائم رہا۔

اسی لیے جب میں آج باغی رائیٹرز فورم میں ملک ممتاز کو ایک فعال کردار کے ساتھ دیکھتا ہوں تو مجھے یہ منظر اجنبی نہیں لگتا۔ یہ اسی طویل قلمی سفر کی ایک نئی منزل محسوس ہوتی ہے۔

اور شاید یہی خوبصورت بات ہے کہ بعض رفاقتیں عہدوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔

وہ وقت کے ساتھ چلتی ہیں۔

مبشر لقمان کا خواب

مبشر لقمان کا ذکر باغی رائیٹرز فورم کے حوالے سے کرتے ہوئے ایک بات ضرور کہنی چاہیے کہ انہوں نے لکھاریوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کا خیال پیش کیا جہاں قلم کار کو محض ایک نام یا ایک تحریر کے طور پر نہیں بلکہ ایک تخلیق کار کے طور پر دیکھا جائے۔

فورم کا قیام صرف ایک ادارہ بنانے کا اعلان نہیں تھا۔

اصل کامیابی اس وقت سامنے آئی جب لکھنے والے اس قافلے میں شامل ہونے لگے۔

ایک آیا۔

پھر دوسرا آیا۔

پھر کئی آنے لگے۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ قافلہ سو سے زیادہ قلم کاروں تک پہنچ گیا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں خیال اپنی پہلی منزل عبور کر کے حقیقت بن جاتا ہے۔

مبشر لقمان کے لیے یقیناً یہ ایک قابلِ فخر مرحلہ ہے کہ ان کے تصور کو اہلِ قلم نے قبول کیا، اس پر اعتماد کیا اور اپنی تحریروں کے ذریعے اسے زندگی دی۔

لیکن میرے نزدیک اس کامیابی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔

انہوں نے لکھاریوں کو صرف جگہ نہیں دی، شناخت دینے کی کوشش کی ہے۔

ایوارڈ صرف ایک ٹرافی نہیں

دنیا میں ایوارڈ بہت ملتے ہیں۔

مگر ہر ایوارڈ ایک جیسا نہیں ہوتا۔

کچھ ایوارڈ صرف میز پر سجتے ہیں اور وقت کے ساتھ گرد آلود ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایوارڈ انسان کے اندر ایک نئی توانائی پیدا کرتے ہیں۔

لکھاری کے لیے کسی اعزاز کی اصل قیمت اس کی مادی حیثیت نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود اعتراف ہے۔

جب کسی قلم کار کو یہ کہا جاتا ہے کہ:

"آپ کی تحریری خدمات ہمارے لیے قابلِ قدر ہیں۔"

تو دراصل اسے اس کے قلم کی محنت کا اعتراف دیا جاتا ہے۔

باغی رائیٹرز فورم کا سالانہ باغی رائیٹرز ایوارڈ اسی اعتبار سے ایک خوبصورت روایت بن سکتا ہے۔

اور ہر ماہ دو قلم کاروں کو ان کی مسلسل تحریری سرگرمیوں، باقاعدگی اور فورم کو فعال رکھنے کے اعتراف میں ایوارڈ دینے کا تصور بھی لکھاریوں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

کیونکہ لکھنے والا اکثر تنہائی میں لکھتا ہے۔

اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے لفظ کتنے لوگوں تک پہنچے۔

ایسے میں جب کوئی ادارہ اس کے دروازے پر دستک دے کر کہتا ہے:

"ہم نے آپ کی تحریر دیکھی ہے، ہم نے آپ کی محنت محسوس کی ہے۔"

تو قلم کار کے اندر کا چراغ کچھ اور روشن ہو جاتا ہے۔

باغی — صرف نام نہیں، ایک کیفیت

لفظ "باغی" اپنے اندر ایک عجیب سی توانائی رکھتا ہے۔

مگر ادب کا باغی ضروری نہیں کہ شور مچائے۔

کبھی وہ ایک خاموش شعر میں بغاوت کرتا ہے۔

کبھی ایک سچے سوال میں۔

کبھی ایک کالم میں۔

کبھی ایک افسانے کے کردار کے ذریعے۔

اور کبھی وہ صرف یہ کرتا ہے کہ سچ کو خوبصورت الفاظ میں لکھ دیتا ہے۔

باغی رائیٹرز فورم کی خوبصورتی یہی ہو سکتی ہے کہ یہاں "بغاوت" کو شور کے بجائے تخلیقی اظہار میں دیکھا جائے۔

یہاں قلم کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ جمود کے خلاف اٹھے۔

یہاں تحریر نفرت پیدا کرنے کے بجائے سوچ پیدا کرے۔

یہاں اختلاف دشمنی نہ بنے بلکہ مکالمہ بنے۔

یہاں سینئر اپنے تجربے سے نئے لکھنے والوں کی رہنمائی کریں اور نئے لکھنے والے اپنے تازہ خیالات سے ادبی فضا کو نئی توانائی دیں۔

سو سے زیادہ قلم، ایک قافلہ

سو سے زیادہ لکھاریوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا بظاہر ایک انتظامی کامیابی ہے، لیکن ادبی اعتبار سے یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے۔

کیونکہ ہر قلم اپنی الگ دنیا رکھتا ہے۔

کوئی کالم نگار ہے، کوئی شاعر، کوئی افسانہ نگار، کوئی محقق، کوئی صحافی، کوئی مضمون نگار۔

کسی کا قلم معاشرتی مسائل کو موضوع بناتا ہے اور کوئی انسانی جذبات کو لفظ دیتا ہے۔

یہی تنوع کسی بھی ادبی فورم کی طاقت بنتا ہے۔

اگر مختلف آوازیں ایک دوسرے کو سننے لگیں تو ایک فکری معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

باغی رائیٹرز فورم اسی سمت میں ایک خوبصورت قدم دکھائی دیتا ہے۔

ملک ممتاز — ایک طویل رفاقت کا نام

ملک ممتاز کے ساتھ پندرہ سال سے زائد کی رفاقت کا ذکر میرے لیے محض ایک رسمی جملہ نہیں۔

یہ ایک طویل سفر کی یاد ہے۔

ادبی اور صحافتی دنیا میں رشتے ہمیشہ آسان نہیں ہوتے۔ یہاں اختلافات بھی آتے ہیں، فاصلے بھی آتے ہیں، نظریات بھی مختلف ہوتے ہیں اور راستے بھی بدلتے ہیں۔

مگر جو لوگ قلم اور ادب کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، وہ کسی نہ کسی موڑ پر دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے آ جاتے ہیں۔

باغی رائیٹرز فورم کے سفر میں ملک ممتاز کی موجودگی میرے لیے اسی تسلسل کی علامت ہے۔

ایک ایسا تسلسل جس میں کل کا تجربہ آج کی ضرورت سے جڑتا ہے اور آج کی کاوش مستقبل کے لیے راستہ بناتی ہے۔

یہ فورم صرف لکھاریوں کا نہیں، قارئین کا بھی ہے

کسی بھی تحریری پلیٹ فارم کی اصل طاقت اس کے لکھاری نہیں بلکہ اس کے قارئین بھی ہوتے ہیں۔

لکھاری لکھتا ہے، مگر قاری اسے مکمل کرتا ہے۔

ایک اچھا قاری کسی تحریر کو صرف پڑھتا نہیں، اس سے سوال کرتا ہے، اختلاف کرتا ہے، اتفاق کرتا ہے، سوچتا ہے اور پھر اپنے اندر ایک نئی دنیا تعمیر کرتا ہے۔

باغی رائیٹرز فورم اگر لکھاری اور قاری کے درمیان یہ پل مضبوط کر سکے تو اس کی افادیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

یہ فورم اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں چند سیکنڈ کی ویڈیو اور مختصر جملے توجہ حاصل کر لیتے ہیں، وہاں سنجیدہ تحریر کے لیے جگہ بنانا خود ایک ادبی خدمت ہے۔

نئے لکھنے والوں کے لیے امید

مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ باغی رائیٹرز فورم کے دروازے صرف معروف ناموں کے لیے نہیں بلکہ نئے لکھنے والوں کے لیے بھی کھلے ہیں۔

ہر بڑا لکھاری کبھی نیا لکھاری تھا۔

ہر معروف نام نے کبھی پہلی تحریر لکھی تھی۔

ہر کتاب کا آغاز ایک پہلے جملے سے ہوا تھا۔

اور ہر قلم کار کے سفر میں کسی نہ کسی مقام پر ایک ایسے شخص یا ادارے کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے کہے:

"لکھتے رہیے، آپ کی آواز اہم ہے۔"

اگر باغی رائیٹرز فورم کسی نوجوان لکھاری کو یہ اعتماد دے رہا ہے تو یہ صرف ایک تحریر شائع نہیں کر رہا، بلکہ شاید ایک مستقبل کے ادیب کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

ایک ادبی شام کا خواب

نومبر میں ہونے والی باغی رائیٹرز ایوارڈ کی تقریب کو میں صرف ایک تقریب کے طور پر نہیں دیکھتا۔

میرے تصور میں وہ ایک ایسی شام ہے جہاں لفظ ایک دوسرے سے ملیں گے۔

وہاں چہروں کے پیچھے چھپی کہانیاں سامنے آئیں گی۔

وہاں قلم کار اپنے جیسے دوسرے لوگوں سے ملیں گے۔

کسی کے ہاتھ میں ایوارڈ ہوگا، کسی کے سینے میں خوشی، کسی کی آنکھوں میں خواب اور کسی کے دل میں یہ احساس کہ:

"میرے قلم کو بھی پہچانا گیا ہے۔"

شاید یہی کسی ادبی تقریب کی اصل کامیابی ہے۔

شکریہ، مبشر لقمان!

آج اگر میں باغی رائیٹرز فورم کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اچھے کاموں کی تعریف ہونی چاہیے۔

ہم اکثر شکایتیں لکھتے ہیں، مسائل لکھتے ہیں، تنقید کرتے ہیں، مگر جو لوگ خاموشی سے کچھ اچھا کر رہے ہوں، ان کی حوصلہ افزائی بھی قلم کی ذمہ داری ہے۔

مبشر لقمان صاحب!

آپ نے اہلِ قلم کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کرنے کی کوشش کی ہے جہاں لکھنے والے اپنے لفظوں کے ساتھ پہچانے جا سکیں۔

اس خیال کو عملی شکل دینا یقیناً آسان نہیں۔

لیکن سو سے زیادہ قلم کاروں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس تصور نے جگہ بنائی ہے۔

دعا ہے کہ یہ سفر مزید وسیع ہو، مزید لکھاری اس قافلے میں شامل ہوں، اور باغی رائیٹرز فورم ایک ایسی مضبوط ادبی روایت بنے جس کا ذکر آنے والے برسوں میں بھی احترام سے کیا جائے۔

اور ملک ممتاز کے نام

ملک ممتاز!

پندرہ سال سے زیادہ کی رفاقت کے بعد آج ایک نئے ادبی سفر میں ساتھ دیکھنا خوشی کی بات ہے۔

ورلڈ کالمسٹ کلب کے سفر سے باغی رائیٹرز فورم تک یہ سفر دراصل قلم کی مسلسل رفاقت کا سفر ہے۔

وقت بدلتا ہے، پلیٹ فارم بدلتے ہیں، مگر لفظوں سے محبت رکھنے والے لوگ اپنی پہچان برقرار رکھتے ہیں۔

دعا ہے کہ یہ رفاقت مزید مضبوط ہو اور باغی رائیٹرز فورم کے ذریعے بہت سے نئے قلم کار اپنی منزل تک پہنچیں۔

آخری منظر

رات گہری ہو چکی ہے۔

شہر سو رہا ہے۔

مگر کسی کمرے میں ایک لکھاری ابھی جاگ رہا ہے۔

اس کے سامنے سفید کاغذ ہے۔

وہ قلم اٹھاتا ہے۔

کچھ دیر سوچتا ہے۔

پھر ایک جملہ لکھتا ہے۔

شاید وہ جملہ ابھی کسی کو معلوم نہیں۔

شاید دنیا اسے ابھی نہیں جانتی۔

شاید وہ لکھاری بھی ابھی اپنے آپ کو پوری طرح نہیں جانتا۔

لیکن اب اس کے پاس ایک دروازہ ہے۔

ایک پلیٹ فارم ہے۔

ایک قافلہ ہے۔

باغی رائیٹرز فورم۔

اور شاید کل جب وہ اپنی پہلی تحریر وہاں شائع دیکھے گا تو اسے محسوس ہوگا کہ اس کے لفظ اب تنہا نہیں رہے۔

کسی نے انہیں جگہ دے دی ہے۔

کسی نے انہیں پہچان لیا ہے۔

کسی نے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

اور یہی وہ لمحہ ہے جب ایک قلم کار کے اندر کا چراغ روشن ہوتا ہے۔

پھر ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلتا ہے۔

دوسرے سے تیسرا۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے لفظوں کا ایک شہر روشن ہو جاتا ہے۔

باغی رائیٹرز فورم اسی روشن ہوتے ہوئے شہر کا نام ہے۔

یہ صرف ایک فورم نہیں،

یہ قلم کاروں کے لیے ایک دروازہ ہے۔

یہ صرف تحریروں کی اشاعت نہیں،

یہ شناخت کی ایک کوشش ہے۔

یہ صرف ایوارڈ نہیں،

یہ اعترافِ فن ہے۔

اور یہ صرف ایک قافلہ نہیں،

یہ ان لوگوں کی اجتماعی آواز ہے جو سمجھتے ہیں کہ:

جب لفظ زندہ رہتے ہیں تو معاشرے زندہ رہتے ہیں،

اور جب قلم کو عزت ملتی ہے تو فکر کو راستہ ملتا ہے۔

باغی رائیٹرز فورم کے تمام منتظمین، بالخصوص چیف ایگزیکٹو مبشر لقمان اور ملک ممتاز کو اس خوبصورت ادبی کاوش پر خراجِ تحسین۔

دعا ہے کہ یہ قافلہ رکے نہیں،

یہ چراغ بجھے نہیں،

اور اہلِ قلم کی یہ بستی روز بروز آباد ہوتی چلی جائے۔

کیونکہ لفظوں کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔۔۔

اصل سفر تو اب شروع ہوا ہے۔