پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے سے باہر نکلے تو اپنے مرحوم دوست، جناب رمضان کمبوہ، کی یادوں نے جکڑ لیا، جنہیں میں اپنا بڑا بھائی کہتا تھا۔
رمضان کمبوہ پنجاب یونیورسٹی میں سکیورٹی گارڈ تھے۔ رمضان بھائی سے میری پہلی ملاقات گیٹ نمبر 01 سے آگے، یونیورسٹی کے رہائشیوں کے لیے بنائے گئے ایک چھوٹے سے گیٹ پر محرم کے ایام میں ہوئی تھی۔ میں مسلم ٹاؤن تھانے میں ڈیوٹی کرتا تھا اور میرا ڈیوٹی پوائنٹ رمضان بھائی کے ڈیوٹی پوائنٹ سے متصل تھا۔
یہ 2023ء کی بات ہے۔ ایک دن میں ان کے پاس ایک اجنبی کی حیثیت سے جا کر بیٹھا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے میرا استقبال کیا اور چائے کا ایک کپ پیش کیا۔ میں نے چائے کا کپ پیا اور ہمیشہ کے لیے ان کی محبت کا اسیر ہو گیا۔
محرم کے دس دن میری ڈیوٹی ایک ہی پوائنٹ پر ہونے کی وجہ سے رمضان بھائی کے ساتھ چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہر بار ان کا کھلا ہوا چہرہ دیکھتا تو اس انسان میں مجھے اپنائیت کی سوندھی سی خوشبو محسوس ہوتی۔
ایک ماہ بھی نہ گزرا ہوگا کہ میرا تبادلہ تھانہ مسلم ٹاؤن سے تھانہ کاہنہ نو ہو گیا۔ جب کافی دن ملاقات نہ ہوئی تو ایک دن مجھے رمضان بھائی کی کال آئی۔ وہ اپنے محبت بھرے لہجے میں گویا ہوئے:
’’میرا بھرا کتھے چلا گیا اے؟ کئی دن ہو گئے، ملاقات نہیں ہوئی یار!‘‘
میں نے قہقہہ لگایا اور کہا، ’’بھائی! میرا تبادلہ میرے گھر کے نزدیک ہو گیا ہے۔‘‘
دوسری جانب سے آواز دبی ہوئی محسوس ہوئی اور بس اتنا ہی کہا، ’’یار! ادھر ہی رہتے تو ٹھیک تھا۔‘‘
میں نے ان کی بات کو سنی ان سنی کیا اور کچھ باتوں کے بعد کال ختم ہو گئی۔ مہینے میں دو تین مرتبہ فون پر بات ہو جایا کرتی تھی اور ہر بار ان کا یہی اصرار ہوتا کہ یار، واپس اسی تھانے، مسلم ٹاؤن، آ جاؤ۔ ملاقات ہوتی رہے گی۔
رمضان بھائی جب کبھی پریشان ہوتے تو مجھے کال کر لیتے تھے۔ اپنوں کے رویّے اور غیروں کے لہجے جب ان کے نرم دل کو چھلنی کر دیتے تو وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ہر بات مجھ سے شیئر کرتے۔ کال بند ہونے سے پہلے یہ بات کہنا کبھی نہیں بھولتے تھے کہ:
’’احسان! تم میرے چھوٹے بھائی ہو۔ تم مجھے اپنے بھائیوں کی طرح عزیز ہو۔‘‘
میں رمضان بھائی کی اس محبت کو سمجھ نہ سکا کہ ایک انسان بغیر کسی حرص و لالچ کے اتنی اپنائیت اور محبت کیوں کر دے رہا ہے۔ دیر سے ہی سہی، لیکن مجھے سمجھ آئی کہ ہر انسان اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کسی ایسے انسان کی تلاش میں ہوتا ہے جو اس کی باتوں کے پیچھے چھپے درد اور اس کی خاموشی کے پیچھے چھپے کرب کو سمجھ سکے۔
میں خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہتا اور تسلی آمیز گفتگو کے ذریعے ان کے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتا۔ پھر اپنی بات مکمل کرکے گفتگو کا رخ کسی اور طرف موڑ دیتا۔
ایک دن رمضان بھائی مجھے اپنے گھر لے گئے تو میں نے ان کی اہلیہ کو باجی کہہ کر سلام کیا۔ باجی نے مجھے بھائی کہہ کر پکارا اور کہا، ’’تمہارا بھائی تمہاری بڑی تعریف کرتا ہے۔‘‘
میں یہ دیکھ کر حیران تھا کہ رمضان بھائی کی پوری فیملی مجھے جانتی تھی۔ ان کی بیٹیاں مجھے چاچو کہہ رہی تھیں اور میں ان کے سروں پر پیار دے رہا تھا۔ گو کہ ان کی بیٹیاں جوان تھیں، لیکن رشتوں کا تقدس عمر کے سالوں کا محتاج نہیں ہوتا۔
تین سال تک میرا ان کے گھر آنا جانا لگا رہا۔ ایک مرتبہ رمضان بھائی اور ان کی اہلیہ، جنہیں میں باجی کہتا تھا، ہمارے گھر تشریف لائے۔ میں نے ان کی مہمان نوازی کی۔ دونوں بہت خوش ہوئے اور کئی بار انہوں نے اپنے بچوں کے سامنے میری مہمان نوازی کا ذکر کیا۔ رمضان بھائی میری اس محبت اور خاطر تواضع سے بہت خوش ہوئے تھے۔
ایک دن مجھے باجی کی کال آئی۔
’’احسان! تمہارے بھائی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ کارڈیالوجی ہسپتال کے کمرہ نمبر 11 میں داخل ہیں۔ ڈاکٹرز نے آپریشن کرنے کا کہا ہے۔ O پوزیٹیو خون کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
میں نے دو تین افراد کا انتظام کر لیا تھا۔ ہسپتال میں ان سے ملنے گیا تو ہمیشہ ہنس کر ملنے والا شخص ہسپتال کے بستر پر بھی مجھے ہنس کر ملا۔
باتیں کرتے کرتے رمضان بھائی کی آنکھ لگ گئی۔ اچانک آنکھ کھلی تو باجی سے پوچھنے لگے، ’’احسان چلا گیا؟‘‘
میں فوراً بولا، ’’نہیں، نہیں! میں ادھر ہی ہوں۔ میں ابھی نہیں گیا۔‘‘
مختصر ملاقات کے بعد میں واپس آ گیا۔
دو دن گزرے۔ 5 اکتوبر رات کے چار بجے کے قریب رمضان بھائی کے نمبر سے کالز آنا شروع ہو گئیں۔ میں سویا ہوا تھا۔ میری آنکھ صبح چھ بجے کھلی تو میں نے واپس کال کی۔ رمضان بھائی کی بیٹی بولی:
’’چاچو! بابا ہمیں چھوڑ گئے۔‘‘
یہ سنتے ہی جیسے میرے اندر کچھ ٹوٹ کر رہ گیا۔ وہ شخص جو ہمیشہ مسکرا کر ملتا تھا، جو مجھے اپنا چھوٹا بھائی کہتا تھا، جو میری موجودگی میں اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا تھا، اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔ انہیں 6 اکتوبر 2026 کو پنجاب یونیورسٹی کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔
آج بھی ان کی یاد آتی ہے تو دل میں ایک کسک سی اٹھتی ہے۔ ان کی جدائی کا احساس ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:
یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کے کہیں دن سنورنے والے تھے
رمضان بھائی کے بارے میں سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ شاید وہ آج بھی مجھ سے محبت کرتے ہوں گے۔ یقین کیجیے، آج بھی اس دنیا میں ایسے پُرخلوص انسان موجود ہیں، جو محبت بانٹتے ہیں، دوسروں کے دکھ سنتے ہیں اور بغیر کسی غرض کے رشتے نبھاتے ہیں۔
ایسے لوگ نایاب ہوتے ہیں۔ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے، ان کی محبت کو پہچاننا چاہیے اور ان کی موجودگی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بعض لوگ ہماری زندگی میں تھوڑے وقت کے لیے آتے ہیں، مگر اپنے خلوص اور محبت سے دل پر ایسے نقش چھوڑ جاتے ہیں جو عمر بھر نہیں مٹتے۔
اللہ تعالیٰ رمضان بھائی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید پڑھیں






