بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک ماں، ایک عصا اور ایک حکمِ خدا،تحریر: شمسہ رانی

نقطہ نظر
shamsa rani

کبھی کبھی قومیں حالات سے نہیں، اپنے نظام کی بے حسی سے ہارنے لگتی ہیں۔ جب انسان اپنے ہی وطن میں اجنبی بن جائے، جب اس کے حصے میں تحفظ کے بجائے خوف، انصاف کے بجائے انتظار اور عزت کے بجائے ذلت آنے لگے، تو اس کے قدم خودبخود کسی محفوظ پناہ گاہ کی طرف اٹھنے لگتے ہیں۔ آج ہماری اجتماعی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہم ایک ایسے نظام سے نجات چاہتے ہیں جہاں زندگی گزارنا ہر روز ایک نئی آزمائش بن چکا ہے۔ ہم بھاگ رہے ہیں، جیسے یتیم بچے کسی سنگ دل دنیا سے جان بچا کر اپنی ماں کی آغوش میں پناہ لینے کے لیے بھاگتے ہیں۔

ہمیں کوئی محل نہیں چاہیے، نہ آسائشوں سے سجی ہوئی زندگی کی خواہش ہے۔ ہمیں تو بس اپنا گھر چاہیے، وہی ٹوٹی ہوئی چھت، وہی کچی دیواریں، وہی بارش میں ٹپکتا ہوا آنگن، جہاں غربت ہمارے قدموں کی زنجیر ضرور ہو، مگر خوف ہماری سانسوں کا مالک نہ ہو۔ جہاں ایک وقت کی روٹی میسر نہ بھی ہو، تب بھی کوئی ہماری بھوک کو تماشا نہ بنائے۔ جہاں وراثت میں قرض، بیماریاں اور محرومیاں ملیں، مگر ہماری عزتِ نفس کسی کی جاگیر نہ ہو۔

غربت انسان کو تھکا دیتی ہے، مگر بے بسی اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔ بھوک برداشت کی جا سکتی ہے، سردی اور دھوپ کا مقابلہ بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن جب انسان کو اپنے حق کے لیے بھی کسی طاقت ور کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے، جب اس کی ضرورت کو احسان اور اس کی مجبوری کو تماشا بنا دیا جائے، تو زندگی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہونے لگتا ہے۔ صدقہ و زکوٰۃ اگر کسی مستحق کی عزتِ نفس محفوظ رکھنے کے بجائے تشہیر کا ذریعہ بن جائے، تو سوال صرف امداد کا نہیں رہتا، انسانیت کے شعور کا بن جاتا ہے۔

ہم اس لیے گھر واپس نہیں جانا چاہتے کہ وہاں غربت نہیں؛ ہم اس لیے لوٹنا چاہتے ہیں کہ وہاں محبت کا امکان باقی ہے۔ ماں کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ وہ دولت ہے جس کے سامنے دنیا کے خزانے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس کی گود میں رکھا ہوا سر انسان کو یقین دلاتا ہے کہ ابھی دنیا میں ایک ایسی جگہ موجود ہے جہاں اسے کسی تعارف، سفارش یا قیمت کے بغیر قبول کیا جاتا ہے۔ ماں کی آغوش میں انسان صرف جسمانی تھکن نہیں اتارتا، وہ اپنے خوف، اپنی شکستوں اور اپنے اندر کے بکھرے ہوئے وجود کو بھی سمیٹ لیتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک پوری قوم ہمیشہ ماں کی آغوش میں چھپ کر زندہ رہ سکتی ہے؟ کیا ہر مظلوم کو اپنی حفاظت کے لیے کسی ذاتی پناہ گاہ کی تلاش میں نکل جانا چاہیے؟ کیا ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری صرف طاقت ور کی حفاظت اور کمزور کی خاموشی تک محدود رہ گئی ہے؟ نہیں! گھر محبت کی پناہ ضرور ہے، لیکن ایک مہذب معاشرے میں پورا وطن بھی انسان کے لیے تحفظ، انصاف اور وقار کی ضمانت ہونا چاہیے۔

ہمیں ایسا معاشرہ چاہیے جہاں کوئی بچہ یتیم ہونے کے احساس کے ساتھ نہ جئے، کوئی مزدور اپنی محنت کے باوجود بے توقیر نہ ہو، کوئی غریب انصاف خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے کے باعث اپنے حق سے محروم نہ رہے، اور کوئی طاقت ور اپنی قوت کے نشے میں کمزور کی زندگی کا فیصلہ کرنے والا نہ بن جائے۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں قانون کا سایہ سب کے لیے یکساں ہو، جہاں کسی کی عزت اس کی دولت سے نہ ناپی جائے، اور جہاں انسان کو انسان سمجھنے کے لیے اس کی حیثیت پوچھنا ضروری نہ ہو۔

اسی آرزو کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی داستان ہمارے ذہن میں ایک علامت بن کر ابھرتی ہے۔ فرعون محض ایک شخص کا نام نہیں، بلکہ اس ذہنیت کی علامت بھی ہے جو خود کو ہر قانون سے بالاتر سمجھتی ہے، جو انسانوں کو اپنی مرضی کے تابع دیکھنا چاہتی ہے اور جو اپنی طاقت کو ابدی تصور کرنے لگتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے مقابلے میں حق کی آواز کمزور دکھائی دے سکتی ہے، مگر باطل کی طاقت ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ قرآنِ مجید میں فرعون کے انجام کا بیان اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اقتدار، غرور اور جبر کی کوئی قوت خدا کے فیصلے سے بڑی نہیں۔

لیکن آج ہمیں صرف ایک عصا کی تمنا نہیں کرنی، ہمیں اپنے اندر حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہے۔ ہمیں صرف کسی معجزے کا انتظار نہیں کرنا، بلکہ انصاف کے لیے آواز اٹھانی ہے، مظلوم کا ساتھ دینا ہے، قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرنا ہے اور اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنی ہے۔ خدا پر یقین ہمیں بے عمل نہیں، باہمت بناتا ہے۔

ہمیں ایک ماں چاہیے، جو محبت دے؛ ایک عصا چاہیے، جو ظلم کے غرور کو چیلنج کرے؛ اور ایک حکمِ خدا چاہیے، جو فرعونیت کے ہر دعوے کو اس کی حقیقت یاد دلا دے۔

ہماری خواہش اقتدار کی تبدیلی سے بڑھ کر انسان کی تقدیر کی تبدیلی ہے۔ ہم ایسا وطن چاہتے ہیں جہاں کسی کو ظالم سے بھاگ کر اپنی ماں کے پاس جانے کی آرزو نہ کرنی پڑے، کیونکہ وہاں ہر ماں کا بچہ محفوظ ہو، ہر محنت کش کو عزت ملے اور ہر کمزور کو یقین ہو کہ انصاف اس کا بھی حق ہے۔

ہمیں صرف پناہ نہیں، انصاف چاہیے؛ صرف روٹی نہیں، عزت چاہیے؛ صرف وعدے نہیں، ایسا نظام چاہیے جس میں انسان کو انسان سمجھا جائے۔ کیونکہ قومیں اس دن زندہ ہوتی ہیں جب ان کے کمزور ترین فرد کو بھی یہ یقین ہو کہ وہ لاوارث نہیں۔