وسیم عباس کا قتل، یتیم بچے کی دردناک کہانی،تحریر: کاشف خان
نقطہ نظر
کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک خاندان کو نہیں رلاتے بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ملتان کے رائل آرچرڈ میں پیش آنے والا کم سن وسیم عباس کا افسوس ناک واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ وسیم محض ایک بچہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی معصوم زندگی تھی جسے حالات نے پہلے ہی بہت سے دکھ دے رکھے تھے، مگر اسے معاشرے کی بے حسی اور مبینہ ظلم سے بھی تحفظ نہ مل سکا۔
وسیم عباس کے والد اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ والد کی وفات کے بعد اس کی زندگی سے شفقت اور تحفظ کا ایک بڑا سہارا چھن گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس کی والدہ نے دوسری شادی کر لی اور اسے نانا کے پاس چھوڑ دیا۔ معاشی مشکلات کے باعث نانا بھی اس کی مناسب دیکھ بھال نہ کر سکے اور بالآخر بچے کو یتیم خانے میں داخل کرا دیا گیا۔ یوں وہ کم سن بچہ، جسے اس عمر میں محبت، تعلیم، کھیل اور محفوظ بچپن ملنا چاہیے تھا، زندگی کی تلخیوں کے درمیان پلنے لگا۔
بتایا جاتا ہے کہ واقعے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل وسیم کو ایک شخص توقیر نذیر کے پاس گاڑیوں کی صفائی کا کام سیکھنے کے لیے بھیجا گیا۔ بچہ کام سے بھاگنے کی کوشش کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسے ڈانٹا جاتا اور اس کے ساتھ سختی کی جاتی تھی، جس کی وجہ سے وہ وہاں کام کرنے سے گریز کرتا تھا۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی بچے کا کام سے بھاگنا اس بات کا جواز بن سکتا ہے کہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے جس سے اس کی جان ہی چلی جائے؟
اگر بچے کی سرپرستی کرنے والے ادارے کو اس کی مشکلات کا علم تھا تو اس کی شکایات اور رویے کا سنجیدگی سے جائزہ کیوں نہ لیا گیا؟ بچوں کی نگہداشت صرف انہیں چھت اور کھانا فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان کی عزتِ نفس، ذہنی کیفیت اور جسمانی سلامتی کی حفاظت بھی اس ذمہ داری کا لازمی حصہ ہے۔ یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے کام کرنے والے اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بچے کی خاموشی کے پیچھے کوئی خوف، محرومی یا فریاد چھپی ہو سکتی ہے۔
اس افسوس ناک واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، کام سے بھاگنے کی کوشش کے دوران وسیم کو گاڑی سے کچل دیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ بچے کی لاش کی حالت انتہائی خراب ہونے اور چہرہ ناقابلِ شناخت ہونے کی اطلاعات نے لوگوں کو مزید غم زدہ کر دیا۔ اس کی نمازِ جنازہ رات تقریباً ڈھائی بجے ادا کیے جانے کی خبر نے بھی عوام کے دلوں کو دہلا دیا۔
سوچیے، ایک ایسا بچہ جس کے سر پر باپ کا سایہ نہیں تھا، جو پہلے ہی اپنوں سے دور زندگی گزار رہا تھا، آخر اس کا قصور کیا تھا؟ کیا وہ اس لیے سزا کا مستحق تھا کہ وہ کام نہیں کرنا چاہتا تھا؟ اختلاف، غصہ یا نافرمانی کسی انسان کی جان لینے کا جواز نہیں بن سکتے، اور کسی بچے کے معاملے میں تو یہ سوال مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
میں ملتان کے ان وکلا کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے انسانیت کے جذبے کے تحت، کسی ذاتی رشتے یا مالی فائدے کے بغیر، اس معاملے میں قانونی جدوجہد کی اور متاثرہ بچے کے لیے انصاف کی آواز بلند کی۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے اس واقعے کو اجاگر کیے جانے سے بھی یہ معاملہ وسیع پیمانے پر سامنے آیا اور اعلیٰ حکام کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ اگر عوام کسی مظلوم کے حق میں ذمہ داری کے ساتھ آواز اٹھائیں تو ان کی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچ سکتی ہے۔
بعد ازاں پولیس اور سی سی ڈی سے متعلق کارروائی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ بتایا گیا کہ ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کے دوران اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں اہلکاروں نے دفاعی فائرنگ کی اور ملزم ہلاک ہو گیا۔ اس کارروائی کی مکمل تفصیلات اور حالات کی تصدیق متعلقہ حکام کے ریکارڈ سے کی جانی چاہیے۔ تاہم، اس واقعے کا بنیادی سبق یہ ہے کہ انصاف کا نظام قانون، شفاف تفتیش اور جواب دہی کے اصولوں کے مطابق کام کرے تاکہ مظلوموں کو تحفظ ملے اور کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
اس واقعے پر عوامی ردعمل میں وکلا، پولیس اہلکاروں اور سی سی ڈی کی کارروائی کو سراہا گیا۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انصاف صرف کسی ملزم کی گرفتاری یا موت کا نام نہیں؛ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ مستقبل میں کسی دوسرے وسیم عباس کو اس انجام سے بچایا جائے۔ بچوں پر تشدد کی روک تھام، یتیم خانوں کی مؤثر نگرانی، شکایات کے فوری ازالے اور کم عمر بچوں سے کام لینے کے معاملات پر سخت توجہ ضروری ہے۔
آج وسیم عباس ہم میں نہیں رہا، مگر اس کی دردناک کہانی ہمارے سامنے کئی سوال چھوڑ گئی ہے۔ کیا ہم اپنے اردگرد موجود بے سہارا بچوں کی آواز سنتے ہیں؟ کیا ہم ان کی تکلیف کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے اداروں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں؟
اگر پولیس، وکلا، متعلقہ ادارے، میڈیا اور عوام اسی طرح مل کر مظلوموں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں تو ظلم کے خلاف ایک مضبوط معاشرتی حصار قائم کیا جا سکتا ہے۔ وسیم عباس کو واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن اس کے نام پر ہم یہ عہد ضرور کر سکتے ہیں کہ کسی بے سہارا بچے کی فریاد کو نظرانداز نہیں کریں گے۔
وسیم عباس کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم ایسا معاشرہ بنائیں جہاں یتیمی کسی بچے کی کمزوری نہ بنے، غربت اس کی مجبوری نہ ہو اور کسی طاقت ور کو اس کی معصوم زندگی سے کھیلنے کی اجازت نہ ملے۔
مزید پڑھیں





