مصلحت اور منافقت کے بیچ، تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
اصغر خان کی تحریر "مصلحت" بظاہر ایک فرد کی اپنے آپ سے گفتگو ہے۔مگر اس کے اندر ایک پورے معاشرے کا اخلاقی اور نفسیاتی سوال پوشیدہ ہے۔ یہ تحریر اس انسانی رویے کو موضوع بناتی ہے جس میں ہم دوسروں کے لیے اصولوں کا پیمانہ بہت سخت رکھتے ہیں لیکن جب معاملہ اپنے مفاد، تعلقات یا مصلحت کا آتا ہے تو انہی اصولوں میں اپنے لیے گنجائش پیدا کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریر کا "میں" محض ایک فرد کا "میں" نہیں رہتا بلکہ رفتہ رفتہ ایک اجتماعی "ہم" میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
تحریر کا آغاز ایک ایسے کردار سے ہوتا ہے جو صاف گوئی، بے باکی اور اصول پسندی کو اپنی شناخت سمجھتا ہے۔ اسے منافقت سے نفرت ہے اور اس کا یقین ہے کہ اختلاف ہو تو اسے صاف الفاظ میں بیان کرنا چاہیے اور اتفاق نہ ہو تو اتفاق کا دکھاوا نہیں کرنا چاہیے۔ ادبی مجلس میں پیش آنے والا ابتدائی واقعہ اسی مزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا مکالمہ ہے مگر یہی مکالمہ آگے چل کر پوری تحریر کے فکری سفر کی بنیاد بنتا ہے۔ دوست کا یہ جملہ کہ "فرق نیت کا ہے" دراصل اس سوال کا پہلا دروازہ کھولتا ہے جس تک راوی بہت بعد میں پہنچتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہی بے باک اور اصول پسند انسان اپنے فیصلوں کے لیے نئی نئی توجیہات تراشنے لگتا ہے۔ غلط بات پر خاموشی "مصلحت" بن جاتی ہے، اختلاف رکھنے والے شخص کی تعریف "تعلقات کی پاس داری" قرار پاتی ہے اور کسی طاقتور کی ناراضی سے بچنے کے لیے اپنی رائے بدل لینا "دانشمندی" کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ یہاں تحریر انسانی نفسیات کی ایک نہایت باریک حقیقت کو گرفت میں لیتی ہے کہ انسان اکثر اپنے اصول ایک دم ترک نہیں کرتا بلکہ پہلے ان کے معنی بدلتا ہے، پھر انہی بدلے ہوئے معنی کی روشنی میں اپنے عمل کو درست ثابت کرنے لگتا ہے۔ یوں ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لیے الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہے۔
تحریر کا سب سے طاقتور فکری مقام وہ ہے جہاں اندر سے یہ سوال ابھرتا ہے: "اور اگر مصلحت کی قیمت تمہارا ضمیر ہو؟" یہی سوال پوری تحریر کے باطن میں مسلسل گونجتا رہتا ہے۔ مصنف نے منافقت کو صرف ظاہری دوغلے پن تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قول و عمل کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے سے جوڑا ہے۔ انسان جب دوسروں کے رویوں پر اصولی فیصلے کرتا رہے اور اپنے متضاد رویوں کے لیے مسلسل جواز فراہم کرتا رہے تو اس کے اندر ایک خاموش تضاد جنم لیتا ہے۔ باہر سے زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہوتی ہے مگر اندر کہیں وہ شخص اپنے ہی سابقہ وجود سے دور ہوتا جا رہا ہوتا ہے۔
تحریر کی ایک بڑی خوبی اس کا خود احتسابی لہجہ ہے۔ راوی اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنے ہی رویوں کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔ بالخصوص یہ سوال کہ "کیا میں واقعی منافقت سے نفرت کرتا تھا یا صرف دوسروں کی منافقت سے؟" تحریر کو ایک شخصی اعتراف سے اٹھا کر اجتماعی خود احتسابی کی سطح پر لے جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ مصنف دراصل صرف اپنی کہانی نہیں کہہ رہا بلکہ انسانی فطرت کے اس پہلو کو بیان کر رہا ہے جس میں ہم دوسروں کے لیے وہ رعایتیں قبول نہیں کرتے جو اپنے لیے نکال لیتے ہیں۔
تحریر میں ایک نوجوان کا سوال بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جب وہ پوچھتا ہے کہ جو شخص پہلے ہر غلط بات پر اعتراض کیا کرتا تھا، اب خاموش کیوں رہتا ہے، تو یہ سوال دراصل راوی کے موجودہ کردار کے سامنے اس کے ماضی کا آئینہ رکھ دیتا ہے۔ اس لمحے ماضی اور حال آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ وہی شخص، وہی اصول اور وہی بے باکی موجود ہے مگر اب زندگی میں کچھ تعلقات، کچھ مفادات اور کچھ ایسی چیزیں شامل ہو چکی ہیں جنہیں وہ کھونا نہیں چاہتا۔ یہی انسانی کمزوری تحریر کا اصل المیہ ہے: انسان ہمیشہ یہ نہیں سمجھتا کہ وہ اصول چھوڑ رہا ہے۔ بعض اوقات وہ خود کو یقین دلاتا ہے کہ وہ صرف حالات کے ساتھ چلنا سیکھ رہا ہے۔
اس تحریر کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ مصنف مصلحت کو یکسر منفی قرار نہیں دیتا۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ زندگی میں خاموشی کبھی کسی تعلق کو بچا سکتی ہے، برداشت کسی بڑے تصادم کو روک سکتی ہے اور اپنی پسند سے دست بردار ہونا بعض اوقات دوسرے کے حق اور احترام کا تقاضا بھی بن سکتا ہے۔ یہی اعتدال تحریر کو محض اخلاقی وعظ بننے سے بچاتا ہے۔ اصل سوال مصلحت کے وجود کا نہیں بلکہ اس کی حد کا ہے۔ مصلحت وہاں مسئلہ بن جاتی ہے جہاں انسان دوسروں سے سمجھوتا کرتے کرتے اپنے آپ سے سمجھوتا کر بیٹھے اور اپنے ضمیر کی آواز کو بھی کسی خوب صورت جواز کے نیچے دبا دے۔
زبان کے اعتبار سے تحریر سادہ، رواں اور گفتگو سے قریب ہے۔ اس میں مصنوعی لفظی آرائش یا ثقیل اسلوب کے بجائے اعترافی اور مکالماتی فضا غالب ہے جو موضوع کی داخلی نوعیت سے ہم آہنگ ہے۔ سوالیہ جملے اور مختصر مکالمے تحریر کو زندہ رکھتے ہیں اور قاری کو براہِ راست راوی کی ذہنی کشمکش میں شریک کر دیتے ہیں۔ البتہ بعض مقامات پر ایک ہی خیال مختلف صورتوں میں دہرایا گیا ہے۔ اگر ان تکرارات کو قدرے کم کر کے بعض مقامات کو اختصار دیا جائے تو تحریر کی فنی گرفت اور اختتامی تاثر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ تکرار مکمل طور پر بے معنی نہیں کیونکہ یہ راوی کے ذہنی انتشار اور مسلسل خود جواز پیدا کرنے کے عمل کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
صنفی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس تحریر کو روایتی افسانہ کہنا پوری طرح مناسب نہیں ہوگا۔ اگرچہ اس میں کردار، واقعات، مکالمے اور زمانی سفر موجود ہیں لیکن یہاں واقعہ نگاری یا پلاٹ اصل مقصد نہیں۔ واقعات صرف اس داخلی سفر کو نمایاں کرنے کا وسیلہ ہیں جو راوی اپنے ضمیر، ماضی اور موجودہ کردار کے درمیان طے کرتا ہے۔ اس لیے اس کی بنیادی شناخت فکری و اعترافی خود کلامی یا خود کلامیہ نثر کی بنتی ہے۔
اس میں آپ بیتی کے عناصر بھی موجود ہیں، خصوصاً اگر "میں" کو مصنف کی حقیقی زندگی اور ذاتی تجربات کا نمائندہ سمجھا جائے۔ تاہم اسے مکمل آپ بیتی کہنا بھی درست نہیں کیونکہ تحریر کسی فرد کی زندگی کے مسلسل حالات بیان کرنے کے بجائے ایک مخصوص اخلاقی اور فکری مسئلے کے گرد گھومتی ہے۔ اسی طرح "جگ بیتی" کا رنگ بھی اس میں نمایاں ہے کیونکہ ذاتی تجربے کے پردے میں ایک عمومی انسانی اور معاشرتی تجربہ بیان ہوا ہے۔ ایک فرد کے اعتراف سے شروع ہونے والی یہ تحریر بہت سے لوگوں کے اندر چھپے ہوئے سوالات کی آواز بن جاتی ہے۔
یوں صنفی تعین کے اعتبار سے اسے "فکری، اعترافی اور خود احتسابی خود کلامی" کہنا زیادہ موزوں ہے جس میں آپ بیتی اور جگ بیتی کے عناصر بھی شامل ہیں۔ اسے افسانہ کہا جا سکتا ہے تو صرف وسیع تر معنوں میں، لیکن روایتی افسانوی ساخت کے اعتبار سے یہ مکمل افسانہ نہیں۔ اس کی اصل قوت پلاٹ میں نہیں بلکہ داخلی کشمکش، فکری سوال اور اعترافی لہجے میں ہے۔
تحریر کا اختتام دراصل اس کے پورے فکری سفر کا نچوڑ ہے۔ انسان ساری عمر دوسروں کی منافقت سے لڑتا رہ سکتا ہے مگر اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہی رویہ کسی نہ کسی شکل میں اس کے اپنے اندر جگہ بنا لیتا ہے۔ سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ انسان اصول سے ہٹ جاتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اس انحراف کے لیے ایک خوب صورت نام تلاش کر لیتا ہے۔ "منافقت" کو "مصلحت" کا نام دے دینا اسی خود فریبی کی علامت ہے۔ یہی احساس تحریر کو محض ایک شخص کی خود کلامی نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے قاری کے لیے بھی ایک آئینہ بنا دیتا ہے۔
آخرکار "مصلحت" ایک فیصلہ سنانے والی تحریر نہیں بلکہ سوال اٹھانے والی تحریر ہے۔ اس کی ادبی اہمیت اسی میں ہے کہ مصنف نے قاری کو یہ نہیں بتایا کہ مصلحت کہاں ختم ہوتی ہے اور منافقت کہاں سے شروع ہوتی ہے بلکہ اسے اسی سرحد پر لا کھڑا کیا ہے جہاں انسان کو اپنے فیصلوں، اپنے جواز اور اپنے ضمیر کا سامنا خود کرنا پڑتا ہے۔ شاید یہی اس تحریر کا حسن اور سب سے گہرا اور دیرپا اثر ہے کہ اسے پڑھ کر سوال صرف راوی سے نہیں، خود اپنے آپ سے بھی کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں





