بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دیواروں سے دماغوں تک ،تحریر:سعید اشرف ناز

نقطہ نظر

کچھ دہائیاں قبل ہماری چائے کی دکانوں، زلف تراش کدوں اور چھوٹے ہوٹلوں کی کسی نہ کسی دیوار پر عموماً ایک نوٹس آویزاں ہوتا تھا: ’’سیاسی گفتگو کرنا منع ہے۔‘‘ لیکن کبھی کسی گاہک کو محض اس پاداش میں اٹھا کر باہر پھینکتے نہیں دیکھا گیا۔ ہاں، اس چھوٹے سے نوٹس میں ایک دلچسپ بات ضرور تھی: گفتگو سے پرہیز کی درخواست تھی، خیال رکھنے پر پابندی نہیں۔

مگر اب یہ بے ضرر سا محبت نامہ پورے ملک پر چپکے سے لاگو کر دیا گیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب یہ محض ایک فقرہ نہیں، ایک مطلوب و مقصود کیفیت ہے، اور کچھ نڈر و بے باک لوگ اس پر عمل درآمد بھی کروائیں گے۔

قسمت بہت اچھی ہوئی تو ایک فون کال پر جان چھوٹ سکتی ہے، البتہ توبہ کے وعدے کے ساتھ۔ اور اگر قسمت میرے جیسی ہوئی تو نوٹس بھی مل سکتا ہے کہ کل فلاں دربار میں تشریف لائیے، ذرا چہرہ دکھائیے۔ اور اگر قسمت نے بالکل ہی آنکھیں پھیر لیں تو رات کے ڈھائی بجے دروازے کی گھنٹی بھی بج سکتی ہے۔ باقی آپ مجھ سے سیانے تو ہیں ہی۔ پھر آپ نے کتنا ہی قانون پڑھ رکھا ہو، اس گھڑی شاید کسی کام نہ آوے۔

جیسے ہرپہنچے سے پہنچے پیر بزرگ کو جو سبکو شفاء کی دعائیں بتاتے ہیں گر خود زیادہ بیمار ہو جائیں تو آخر کار مریدین کے وسیع تر مفاد میں حصول شفاء کیلئے الشفا انٹرنیشنل حاضری دیتے دکھائی پڑتے ہیں، بالخصوص جنھیں امیر مریدین دستیاب ہوں.

خیر، وقت گزرا، چائے خانے بدلے، گفتگو کے انداز بدلے اور بحث کی میزیں موبائل فون کی اسکرینوں میں سمٹ گئیں۔ مگر اس نوٹس کی روح نے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ ہوٹل میں سیاست پر بات کی جائے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ شہری اپنے گھر میں بیٹھ کر کیا کہہ سکتا ہے، کس موضوع پر لکھ سکتا ہے اور کس جملے کے بعد اسے اپنے دروازے کی گھنٹی سے خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔

کسی معاشرے میں قانون کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ سائبر جرائم، آن لائن ہراسانی، دھمکیوں، فراڈ اور کردار کشی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کسی کو دوسروں کی عزت اچھالنے، جھوٹے الزامات لگانے یا دھمکیاں دینے کی کھلی چھوٹ مل جائے۔ لیکن قانون اور خوف میں ایک بنیادی فرق ہے۔ قانون جرم کی تعریف کرتا ہے، کارروائی کا طریقۂ کار بتاتا ہے اور ملزم کو صفائی پیش کرنے کا حق دیتا ہے۔ خوف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شہری کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی کون سی بات جرم بن سکتی ہے، کس بنیاد پر اسے طلب کیا جا سکتا ہے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اسے کن مراحل سے گزرنا پڑے گا۔

تصور کیجیے، ایک شہری رات کو اپنے گھر میں سو رہا ہے۔ اچانک دروازے کی گھنٹی بجتی ہے۔ باہر موجود اہلکار اسے کسی تفتیش کے لیے ساتھ چلنے کو کہتے ہیں۔ گھر والے پریشان ہیں، سوالات بے شمار ہیں اور جواب کسی کے پاس نہیں۔ فون ملائے جاتے ہیں، واقف کاروں سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ہر گزرتا ہوا لمحہ بے یقینی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس صورتِ حال میں اصل سوال یہ نہیں کہ تفتیش کیوں ہو رہی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا شہری کو الزام جاننے، قانونی مدد حاصل کرنے اور اپنے حقوق کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے؟

ریاست کو قانون نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے استعمال پر سوال نہ اٹھایا جا سکے۔ اداروں کی ساکھ صرف کارروائیوں کی تعداد سے نہیں، ان کے شفاف اور منصفانہ ہونے سے قائم ہوتی ہے۔ شہری قانون کے سامنے جواب دہ ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اپنے اقدامات کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انصاف یک طرفہ احتساب کا نام نہیں۔

یہ مسئلہ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں۔ صحافی، سیاست دان، سماجی کارکن، شاعر، کالم نگار اور عام شہری، سبھی اپنی رائے رکھنے اور اسے بیان کرنے کا حق رکھتے ہیں، قانون کی جائز حدود کے اندر۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص کی بات درست ہو، ہر جملہ مہذب ہو یا ہر رائے سے اتفاق کیا جائے۔ مگر غلطی، بدزبانی، اختلاف اور قابلِ سزا جرم چار الگ چیزیں ہیں۔ کسی بات سے اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جا سکتا ہے؛ کسی غلط دعوے کی تردید کی جا سکتی ہے؛ اور جہاں واقعی جرم ہوا ہو، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان تمام صورتوں کو ایک ہی خانے میں ڈال دینا نہ انصاف ہے، نہ دانش مندی۔

ہماری اجتماعی نفسیات کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جب کسی مخالف کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو ہم میں سے بعض لوگ اسے انصاف کی فتح سمجھ کر خوش ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اس وقت یہ خیال نہیں آتا کہ کل یہی صورتِ حال ہمارے لیے بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ آج جس کی سیاست آپ کو پسند نہیں، اس کی آواز دبانے پر آپ مطمئن ہیں؛ کل آپ کا اپنا مؤقف کسی طاقت ور حلقے کو ناگوار گزر سکتا ہے۔ تب شاید آپ کو احساس ہو کہ آزادیِ اظہار کا حق صرف اپنی بات کہنے کا نام نہیں، مخالف کی بات سننے اور اسے اختلاف کا حق دینے کا نام بھی ہے۔ جو آزادی ہم صرف اپنے لیے چاہتے ہیں اور مخالف کو اس سے محروم دیکھنا چاہتے ہیں، وہ آزادی نہیں، اپنی باری کا انتظار ہے۔

ایک اور غلط فہمی بھی دور ہونی چاہیے کہ حساس موضوعات صرف چند اداروں یا شخصیات تک محدود ہوتے ہیں۔ جب حدود واضح نہ ہوں تو شہری خود ہی اندازے لگانے لگتا ہے کہ کون سا موضوع چھیڑنا محفوظ ہے اور کس بات پر خاموش رہنا بہتر۔ پھر تعلیم، صحت، زراعت، مہنگائی، بلدیاتی انتظام اور سرکاری محکموں کی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے بھی اسے احتیاط کے کئی دروازے عبور کرنا پڑتے ہیں۔ محکمۂ زراعت پر طنز ہو یا کسی سرکاری منصوبے پر تنقید، شہری یہ سوچنے لگتا ہے کہ کہیں ایک معمولی سا جملہ کسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔

اس ماحول کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ زبان پر پہرہ لگانے کے لیے ہر مرتبہ کسی اہلکار کی ضرورت نہیں رہتی۔ آدمی خود ہی اپنا نگران بن جاتا ہے۔ جملہ لکھتا ہے، مٹاتا ہے، دوبارہ لکھتا ہے اور آخر میں اسے محفوظ کرنے کے بجائے حذف کر دیتا ہے۔ یوں خاموشی کسی تحریری حکم کے بغیر بھی جنم لے لیتی ہے۔ یہی خود ساختہ خاموشی کسی معاشرے کے لیے زیادہ تشویش ناک ہے، کیونکہ اس میں پابندی لگانے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا، مگر پابندی کا اثر ہر طرف محسوس ہوتا ہے۔

خاموش معاشرہ لازماً مطمئن معاشرہ نہیں ہوتا۔ کبھی لوگ بولنا اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں، اور کبھی اس لیے کہ انہیں یقین نہیں رہتا کہ ان کی بات سننے کے بجائے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو جائے۔ دونوں صورتوں میں خاموشی کو رضامندی سمجھ لینا ایک بڑی غلطی ہے۔ سوال نہ اٹھنے کا مطلب یہ نہیں کہ مسائل ختم ہو گئے ہیں؛ ممکن ہے سوال کرنے والوں نے صرف اپنے الفاظ واپس لے لیے ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کیا کہا جائے؟ کیا صرف کھانوں کی ترکیبیں، لاہوری کھابوں کے قصے، بلیوں اور کتوں کی شرارتیں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مزاحیہ ویڈیوز ہی ہماری گفتگو کا مستقبل ہیں؟ تفریح یقیناً زندگی کا حصہ ہے۔ نمکین گوشت کی ریل بنائیے، لاہوری چنوں کی تعریف کیجیے، مصنوعی ذہانت سے بلیوں کا مشاعرہ سجائیے اور اس پر دل کھول کر داد بھی دیجیے۔ لیکن شہری زندگی محض تفریح کا نام نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، انصاف اور حکومتی فیصلے بھی اسی زندگی کا حصہ ہیں۔ لوگوں کو اپنی مشکلات بیان کرنے، پالیسیوں پر سوال اٹھانے اور اپنے تجربات دوسروں تک پہنچانے کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے۔ اس حق کے ساتھ ذمہ داری ضرور وابستہ ہے، مگر ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ اختلاف کی اجازت ہی ختم کر دی جائے۔

ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد صرف ہدایات جاری کرنے سے قائم نہیں ہوتا۔ اعتماد تب پیدا ہوتا ہے جب قانون واضح ہو، اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، شہری کو اس کے حقوق کا علم ہو اور اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جائے۔ اگر کسی نے واقعی جرم کیا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کیجیے؛ اگر کسی کی رائے غلط ہے تو اسے دلیل سے غلط ثابت کیجیے۔ ہر سوال کو دشمنی اور ہر تنقید کو بغاوت سمجھنے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا، صرف اختلاف کرنے والوں کی آوازیں کم ہوتی جاتی ہیں۔ اور جب تنقید کا راستہ تنگ ہو جائے تو غلطیوں کی نشان دہی بھی مشکل ہو جاتی ہے، حالاں کہ اصلاح کے لیے غلطی کی نشان دہی ضروری ہوتی ہے۔

چائے خانے کی دیوار پر لگا نوٹس کبھی محض ایک کاروباری احتیاط تھا۔ آج اس کی سب سے خطرناک شکل وہ ہے جو کسی دیوار پر لکھی ہی نہیں، مگر لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ اس نوٹس کے سامنے کوئی بیرا نہیں کھڑا؛ شہری خود اپنی زبان کی نگرانی کر رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کیا کہنا چاہتا ہے، لیکن کہنے سے پہلے ممکنہ نتائج کا حساب لگانے لگتا ہے۔ یوں چائے خانے کی دیوار سے شروع ہونے والی احتیاط ذہن کی دیوار تک پہنچ جاتی ہے۔

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ بالکل درست! مگر پرہیز کس چیز سے ہونا چاہیے؟ جھوٹ سے، نفرت سے، ہراسانی سے اور بے بنیاد الزام تراشی سے، یا سوال کرنے اور اختلاف رکھنے سے؟ پہلی قسم کا پرہیز معاشرے کو بہتر بناتا ہے؛ دوسری اسے خاموش کرتی ہے۔

اور یاد رکھیے، جب کسی ملک میں لوگ اپنی بات کہنے سے پہلے یہ سوچنے لگیں کہ کہیں دروازے کی گھنٹی نہ بج اٹھے، تو مسئلہ صرف گفتگو کا نہیں رہتا۔ پھر سوال یہ نہیں ہوتا کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؛ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ کہنا کیا چاہتے تھے، مگر کہہ نہیں سکے۔

سو، چائے والے ،حجام، اور ہوٹلوں کا وہ پرانا نوٹس آج بھی اپنی جگہ موجود ہے، بس دیوار بدل گئی ہے۔ پہلے اسے پڑھ کر آدمی گفتگو کا موضوع بدل لیتا تھا؛ اب اندیشہ یہ ہے کہ کہیں وہ اپنی سوچ یا شائد قومیت ہی بدلنے پر مجبور نہ ہو جائے۔