کہا جاتا ہے کہ بہنیں ماں کی پرچھائیاں ہوتی ہیں ۔ان کے دل بھی مامتا کے احساس سے لبریز ہوتے ہیں۔قربانی و ایثار کا جذبہ اپنے بہن بھائیوں اور خصوصاً بھائیوں کے لئے بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے ۔یہ خوبیاں یقیننا قدرت کی عطا کردہ ہوں گی ۔اور کُچھ ان ماؤں کی تربیت کا نتیجہ ،جو کہ گھر میں موجود باپ اور بھائیوں کو ہر بات ،ہر شے میں اولیت دینا سکھاتی ہیں۔ خیر یہ تو الگ ایک بڑی بحث ہے ۔
آج میں بات صرف بہنوں کے دل و دماغ میں پائی جانے والی اس بے بیاں محبت اور احساس کی کر رہی ہوں ۔جو کہ عمر پہ بالکل منحصر نہیں ہوتی۔ کیوں کہ وہ تو بس خود سے چند ہی سال چھوٹے بھائیوں کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں ،معصوم سی خطائیں چھپا لینا جانتی اور گویا اپنا فرض سمجھتی ہیں ۔ایک بڑی اور ذمہ دار بہن کی طرح ،ایک ماں کی طرح ،ایک ٹربل شوٹر اور جگری دوست کی طرح ۔
خدا کے فضل سے اس نے ننھی پری پہلوٹھی کی بیٹی کے بعد دو عدد پیارے بیٹوں سے نوازا ہم دونوں میاں بیوی نے تینوں میں کبھی کسی قسم کا فرق نہ رکھا ۔نہ کبھی کسی چیز اور نہ ہی کبھی پیار میں ۔ البتہ یہ یاد بھی نہیں کہ میں نے بیٹی کو کبھی ڈانٹا ہو ،بلکہ بچے جب ذرا بڑے ہوئے تو سب سے چھوٹا بیٹا کہہ بھی دیا کرتا تھا ۔"ہاں جی باجی تو ڈائریکٹ ہیون سے اتری ہے نا ۔وہ تو کُچھ غلط کر ہی نہیں سکتی"کیوں کہ دونوں بھائیوں کو ڈانٹ بھی پڑ جایا کرتی تھی شرارتوں پہ اور کبھی آپس میں لڑنے پہ۔ بیٹی ایسی چڑیا سے دل کی تھی کہ جب بھی بھائیوں کو ڈانٹ پڑتی تو وہ فوراً سہم کر ایک طرف جا بیٹھتی ۔گویا بھائیوں کو نہیں ڈانٹ اسے پڑی ہو ۔یا پھر وہ یوں محسوس کرتی تھی۔
یہ 1994یا 95 کا دور تھا ۔تب اعظم بستی سو فٹ روڈ سے 11۔C بس کا صدر تک بچوں کا کرایہ 50 پیسے ہوا کرتا تھا۔ تینوں بچے صدر کے اسکول میں پڑھنے جاتے تھے ۔میں انہیں اسکول لنچ کے ساتھ ،بس کے کرائے کے علاوہ دو تین روپئے بھی دے دیتی تھی ۔کہ اگر کینٹین سے کچھ لینے کا دل چاہے تو لے لیں ۔تینوں کو برابر پیسے دیتی تھی ۔اب دس بارہ سال کی عمر میں بہن کا بھائیوں کے لئے پیار ،احساس ذمہ داری دیکھیں کہ وہ بچی اکثر اپنے پیسے بچا کر رکھ لیتی،اور صرف گھر سے دئیے جانے والے لنچ پہ گزارہ کر لیتی ۔حالانکہ وہ تو انکا روز کا جیب خرچ ہوتا تھا ۔ کیونکہ کبھی منجھلا بھائ وہ پیسے خرچ لیتا ،اور کبھی میرا چھوٹا بیٹا جو دونوں بڑے بچوں سے فطرتا زیادہ چلبلا اور تیز تھا ۔اکثر اپنے کرائے کے پیسے بھی کھا جاتا تھا ۔پھر چھٹی کے وقت بہن کو بتاتا ،باجی اب کیا کریں میں بھول گیا تھا اور کرائے والے پیسوں سے فلاں چیز کھا لی تھی ۔اپ کے پاس پیسے ہیں کیا؟۔اپ ممی ڈیڈی کو نہیں بتانا ،ورنہ وہ ڈانٹیں گے"۔اور وہ انہیں تسلی دینے کے ساتھ اپنے بچائے ہوئے پیسوں سے ان کا کرایہ دے دیتی۔
اس معصوم بجی کا پیار اور بھائ کی معصوم غلطی چھپانے کا جذبہ ملاحظہ ہو کہ،اس نے تب کھبی بھی یہ بات ہمیں نہیں بتائ۔ نہ کبھی شکایت کی کہ میں بھائیوں کو اپنے حصے کے پیسے دے دیتی ہوں ۔حالانکہ ہم نے اسے کھبی ایسا کچھ کہا بھی نہیں تھا ، وہ تو خود ابھی چھوٹی بچی ہی تو تھی۔ ہاں گھر سے نکلتے ہوئے دھیان سے سڑک پار کرنے اور گاڑیوں کا دھیان رکھنے کی ہدایت ضرور کرتی تھی ۔یہ بات میری بیٹی نے مجھے اس وقت بتائی جب وہ تینوں یونیورسٹیز میں آ چکے تھے ۔ میں نےجب اسے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے تھے ؟تو کہنے لگی " یہ تو پتہ نہیں ،بس وہ پیسے بچا لیتی تھی کہ کبھی بھائیوں کو ضرورت نہ پڑ جائے ".
بس سارے بھائیوں سے صرف یہی کہنا چاہوں گی کہ اپنی ایسی بے لوث، بے غرض پیار کرنے والی۔ اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں وار دینے والی بہنوں کا خیال رکھا کریں۔انہیں پوچھتے رہا کریں۔
دعاوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ
مزید پڑھیں





