بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اب عجیب سے حادثے پیش آنے لگے،تحریر: سمیرا اکرام

نقطہ نظر

پہلے کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا۔ پہلے سب کچھ ٹھیک تھا۔ دن اپنی رفتار سے گزرتے تھے، راتیں خاموشی سے آتی تھیں، اور دل اپنے حال میں مطمئن تھا۔ مگر اب، جانے کیوں، ہر چیز سے ایک انجانا خوف لپٹ گیا ہے۔

اب عجیب سے حادثے پیش آنے لگے۔ جیسے قسمت نے اچانک اپنا رخ بدل لیا ہو۔ جیسے دعاؤں کا کوئی دروازہ آہستہ آہستہ بند ہونے لگا ہو۔

کبھی چائے کا کپ ہاتھ سے گر جاتا ہے، بلا وجہ، بنا کسی وجہ کے۔ کبھی دروازہ بند کرتے ہوئے انگلیاں آ جاتی ہیں۔ کبھی موبائل سے کسی ایسے شخص کا نمبر ڈیلیٹ ہو جاتا ہے، جسے میں کبھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔ یہ چھوٹے چھوٹے حادثے نہیں ہیں۔ یہ نشانیاں ہیں۔ یہ دل کی ٹوٹ پھوٹ کی آوازیں ہیں، جو اب باہر کی دنیا میں سنائی دینے لگی ہیں۔

اب عجیب سے حادثے پیش آنے لگے۔

ایسا لگتا ہے، جیسے میں جس راستے پر چلتی ہوں، وہ راستہ ہی مجھ سے روٹھ گیا ہو۔ میں جو سوچتی ہوں، وہ الٹا ہو جاتا ہے۔ میں جسے بچانا چاہتی ہوں، وہی ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ میں جس شخص کو قریب لانا چاہتی ہوں، وہی سب سے زیادہ دور ہو جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ حادثے اچانک ہوتے ہیں، مگر میری زندگی میں یہ حادثے اچانک نہیں، آہستہ آہستہ آئے ہیں۔ پہلے ایک خواب ٹوٹا، پھر ایک امید بجھ گئی، پھر ایک رشتہ بکھر گیا، اور پھر ایک دن میں نے آئینے میں خود کو دیکھا تو لگا کہ وہ لڑکی، جسے میں جانتی تھی، وہ اب کہیں گم ہو گئی ہے۔ اس کی جگہ ایک ایسی عورت کھڑی ہے، جو مسکراتی تو ہے، مگر اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ہزار آنسو چھپے ہوتے ہیں۔

اب عجیب سے حادثے پیش آنے لگے۔ کبھی کبھی رات کے دو بجے اچانک آنکھ کھل جاتی ہے۔ دل زور زور سے دھڑک رہا ہوتا ہے۔ لگتا ہے، جیسے ابھی کوئی بہت برا خواب دیکھا ہو، مگر خواب یاد نہیں ہوتا۔ صرف ایک خوف یاد رہتا ہے۔ ایک ایسا خوف، جو ہڈیوں میں اتر جاتا ہے۔ میں اٹھ کر پانی پیتی ہوں، کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوں، گلی سنسان ہوتی ہے، آسمان پر چاند ہوتا ہے، مگر دل کہتا ہے: "کچھ ٹھیک نہیں! کچھ ہونے والا ہے۔" اور پھر واقعی کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی پرانی یاد اچانک دل کو چیر دیتی ہے۔ کبھی کسی کی ایک بات سارے دن کا سکون برباد کر دیتی ہے۔ کبھی کسی کی خاموشی سب سے بڑا حادثہ بن جاتی ہے۔ کیا خاموشی بھی حادثہ ہو سکتی ہے؟ ہاں! جب کوئی اپنا اچانک خاموش ہو جائے، تو اس سے بڑا حادثہ اور کیا ہوگا؟ میں نے سنا تھا کہ جب انسان کے اندر کچھ ٹوٹ جاتا ہے، تو باہر کی دنیا بھی ٹوٹنے لگتی ہے۔ اب مجھے یہ بات سچ لگنے لگی ہے۔ میرے اندر جو کچھ ٹوٹا ہے، اس کی کرچیاں اب ہر جگہ بکھری ہوئی ہیں۔ میری ہنسی میں، میری باتوں میں، میری چال میں، میری نیند میں۔

اب عجیب سے حادثے پیش آنے لگے۔ اب میں چیزوں سے ڈرنے لگی ہوں۔ فون کی گھنٹی بجنے سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں کوئی بری خبر نہ ہو۔ کسی کے میسج کے جواب نہ آنے سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ ناراض تو نہیں۔ بارش سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اس میں کوئی پرانی یاد نہ بہہ آئے۔ اور سب سے زیادہ ڈر خود سے لگتا ہے کہ کہیں میں خود ہی اپنے لیے سب سے بڑا حادثہ نہ بن جاؤں۔ لوگ پوچھتے ہیں: "تم بدل گئی ہو؟" میں کیا جواب دوں؟ ہاں، بدل گئی ہوں۔ حادثوں نے بدل دیا ہے۔ وہ لڑکی، جو ہر بات پر ہنس دیا کرتی تھی، اب ہر بات پر سوچنے لگی ہے۔ وہ لڑکی، جو سب پر یقین کر لیتی تھی، اب سب سے ڈرنے لگی ہے۔

مگر ایک بات ہے!

یہ حادثے مجھے مار نہیں سکے۔ انہوں نے مجھے گرایا ضرور، مگر میں پھر اٹھ گئی۔ انہوں نے مجھے رلایا ضرور، مگر میں نے آنسو پونچھ کر پھر سے مسکرانا سیکھ لیا۔ انہوں نے مجھے توڑا ضرور، مگر اس ٹوٹنے میں ہی میں نے خود کو پہچان لیا۔ اب عجیب سے حادثے پیش آنے لگے ہیں، مگر میں نے بھی اب حادثوں سے لڑنا سیکھ لیا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ جس طرح اچھے دن گزر گئے، اسی طرح برے دن بھی گزر جائیں گے۔ بس اب ایک دعا ہے، اے اللہ! میرے بعد آنے والے حادثے چھوٹے ہوں، اور میری ہمت بڑی ہو۔ کیونکہ میں تھک گئی ہوں گر کر اٹھتے اٹھتے، مگر ہار نہیں مانی۔

اور شاید یہی سب سے بڑی جیت ہے۔