الفاظ کے تیر اور معاشرے کی زخمی روح، تحریر: اعجاز راہی
نقطہ نظر
اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر تہذیب سے عاری گفتگو جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بن جاتی ہے
سیاست کسی بھی معاشرے کی اجتماعی زندگی کا ایک اہم شعبہ ہے۔ اس کے ذریعے عوام کے مسائل اجاگر ہوتے ہیں، حکومتوں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور ملک کے مستقبل کے لیے مختلف راستے تجویز کیے جاتے ہیں۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے ایک فطری اور ضروری عمل ہے، لیکن جب سیاسی اختلاف ذاتی حملوں، ذو معنی جملوں اور تضحیک آمیز گفتگو میں تبدیل ہو جائے تو یہ محض سیاسی بحث نہیں رہتا بلکہ معاشرتی اخلاقیات کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک سیاسی نمائندے کی جانب سے ایک خاتون سیاسی رہنما کے بارے میں مبینہ طور پر استعمال کیے گئے ذو معنی الفاظ نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر غور کرنے کی ضرورت پیدا کر دی ہے کہ ہمارے عوامی مکالمے کا معیار کس سمت جا رہا ہے۔ اس کالم میں کسی فرد کا نام لینا مقصود نہیں، کیونکہ اصل مسئلہ کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ اس رویے کا ہے جو مختلف سیاسی جماعتوں اور حلقوں میں وقتاً فوقتاً دکھائی دیتا ہے۔ جب زبان سے دلیل کا رشتہ کمزور اور تضحیک کا رشتہ مضبوط ہونے لگے تو اس کے اثرات سیاست سے نکل کر پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک عوامی عہدہ محض اختیار یا مراعات کا نام نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ جو شخص حکومت، سیاسی جماعت یا عوامی ادارے کی نمائندگی کرتا ہے، اس کے الفاظ عام شہری کے مقابلے میں زیادہ توجہ سے سنے جاتے ہیں۔ اس لیے اس کی گفتگو میں شائستگی، احتیاط اور ذمہ داری کی توقع بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کسی خاتون کے بارے میں ذو معنی اشارے دینا، اس کی تضحیک کرنا یا سیاسی اختلاف کو اس کی ذاتی عزت سے جوڑ دینا کسی بھی صورت میں صحت مند سیاسی ثقافت کی علامت نہیں ہو سکتا۔
یہ اصول صرف خواتین کے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ کسی مرد سیاسی رہنما کے خلاف بھی تضحیک آمیز، فحش یا ذاتی نوعیت کی زبان قابلِ مذمت ہے۔ تاہم خواتین کو سیاسی اختلاف کی بنیاد پر جنس، کردار یا ذاتی زندگی سے متعلق اشاروں کا نشانہ بنانا ایک اضافی معاشرتی مسئلہ پیدا کرتا ہے، کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خواتین کی عوامی شرکت کو ان کی سیاسی کارکردگی کے بجائے ذاتی حوالوں سے جانچا جا سکتا ہے۔ ایسی سوچ خواتین کی سیاسی شرکت اور معاشرے میں ان کے احترام دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ہمیں یہ سوال بھی اٹھانا چاہیے کہ کیا سیاست میں کامیابی کے لیے مخالف کی تضحیک ضروری ہے؟ کیا کسی حکومتی فیصلے پر تنقید کرنے کے لیے ذاتی حملہ ناگزیر ہے؟ کیا کسی خاتون سیاسی رہنما سے اختلاف کرتے ہوئے اس کے مؤقف، پالیسی اور کارکردگی پر بات نہیں کی جا سکتی؟ حقیقت یہ ہے کہ مضبوط دلیل کو ذو معنی جملے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سنجیدہ سیاست میں اختلاف کا معیار مخالف کی تذلیل نہیں بلکہ اپنے مؤقف کی وضاحت، شواہد کی پیش کش اور عوام کے مسائل کا حل ہوتا ہے۔
اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کی ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے۔ اگر کسی نمائندے کی گفتگو میں اخلاقی حدود پامال ہوں تو جماعتی وابستگی کی بنیاد پر خاموشی اختیار کرنا مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اصولی مؤقف یہ ہونا چاہیے کہ سیاسی وابستگی کسی کو بھی غیر مناسب زبان کے استعمال کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ جس طرح سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں سے نظم و ضبط کی توقع رکھتی ہیں، اسی طرح انہیں عوامی گفتگو کے لیے اخلاقی ضابطوں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔
عوام کا کردار بھی اس معاملے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کوئی بھی جملہ چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔ جب ہم کسی توہین آمیز بیان کو تنقید کے بجائے تفریح سمجھ کر شیئر کرتے ہیں، اس پر تالیاں بجاتے ہیں یا مخالف سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو غیر محسوس انداز میں ایسے رویوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ عوامی شعور کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی اختلاف اور اخلاقی حدود کی خلاف ورزی کے درمیان فرق کو سمجھیں۔
اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اسکولوں اور جامعات میں شہری تعلیم، اختلافِ رائے کے آداب اور ڈیجیٹل ذمہ داری کے موضوعات پر گفتگو ہونی چاہیے۔ میڈیا کو بھی ایسے بیانات کی تشہیر کرتے وقت سنسنی خیزی کے بجائے ان کے معاشرتی اثرات کو سامنے رکھنا چاہیے۔ سیاسی جماعتیں اپنے نمائندوں کے لیے واضح اخلاقی ضابطہ تشکیل دے سکتی ہیں، جس میں ذاتی تضحیک، صنفی تعصبات اور توہین آمیز زبان سے اجتناب کی ہدایت شامل ہو۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ سیاسی رہنماؤں کا احتساب صرف اپنی پسندیدہ جماعت کے مخالفین کے لیے مخصوص نہ رکھیں۔ اگر ایک ہی زبان یا رویہ اپنے سیاسی مخالف کی طرف سے ناقابلِ قبول ہے تو اپنی جماعت کے نمائندے کی جانب سے بھی اسے مسترد کرنا چاہیے۔ اصولوں کی پاسداری اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ سب کے لیے یکساں ہو۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ سیاست میں اختلاف ختم نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اسے ختم کرنا جمہوریت کے لیے مفید ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اختلاف کو تہذیب، دلیل اور ذمہ داری کے دائرے میں رکھا جائے۔ سیاسی رہنما قوم کے سامنے صرف اپنے خیالات نہیں رکھتے بلکہ اپنے طرزِ گفتگو کے ذریعے معاشرتی رویوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں خواتین اور مرد دونوں عزت کے ساتھ عوامی زندگی میں حصہ لے سکیں، تو ہمیں ذو معنی اشاروں، ذاتی تضحیک اور اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے والی زبان کو معمول بننے سے روکنا ہوگا۔
جمہوریت صرف ووٹ دینے کا نام نہیں؛ یہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے احترام، دلیل کی پاسداری اور اخلاقی ذمہ داری کا نام بھی ہے۔
مزید پڑھیں




