امیر اور کم امیر کی جنگ،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
نقطہ نظر
امیر اور غریب کی جنگ سمجھنا آسان ہے۔ ایک کے پاس دولت ہے، دوسرے کے پاس ضرورتیں۔ ایک حکم دیتا ہے، دوسرا حکم سنتا ہے۔ ایک کے لیے زندگی آسائش کا نام ہے، دوسرے کے لیے مہینے کے آخری دن تک پہنچنا بھی ایک معرکہ ہے۔ اس لڑائی میں فریقین کی شناخت واضح ہوتی ہے، اس لیے غریب اپنی محرومی کو پہچان لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس کیا نہیں ہے اور یہ بھی کہ وہ کس چیز سے محروم رکھا گیا ہے۔ مگر ایک ایسی جنگ بھی ہے جس میں دونوں فریق امیر ہوتے ہیں، دونوں کے پاس وسائل ہوتے ہیں، دونوں عزت دار سمجھے جاتے ہیں، لیکن دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے سے کم تر دکھائی نہیں دینا چاہتا۔ یہ امیر اور غریب کی جنگ نہیں، امیر اور کم امیر کی جنگ ہے؛ اور اس کا میدان انسان کا ذہن ہوتا ہے۔
دنیا میں اسے ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: ملینئر اور بلینئر کا فرق۔ ملینئر کے پاس اتنی دولت ہوتی ہے کہ وہ عام آدمی کی کئی نسلوں کی ضروریات پوری کر سکتا ہے، مگر جب اس کی نظر بلینئر پر پڑتی ہے تو اسے اپنی دولت بھی کم محسوس ہونے لگتی ہے۔ جس شخص کو دنیا کامیاب کہتی ہے، وہ کسی دوسرے کی کامیابی کے سامنے خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی محرومی حقیقت میں نہیں، موازنے میں جنم لیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خواہش، حسد میں اور مقابلہ ذہنی اذیت میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
پاکستان میں اس جنگ کی صورتیں دیکھنی ہوں تو سرکاری افسران اور سیاست دانوں کے حلقوں میں جھانک لیجیے۔ ایک شخص سی ایس ایس کا امتحان پاس کرتا ہے، دوسرا پی ایم ایس کے ذریعے افسر بنتا ہے۔ دونوں نے محنت کی، دونوں نے امتحانات دیے، دونوں نے اپنے مستقبل کے لیے خواب دیکھے۔ مگر عملی زندگی میں جب اختیار، مراعات، پروٹوکول اور فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا فرق سامنے آتا ہے تو ایک عجیب نفسیاتی کشمکش جنم لیتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی افسران کے درمیان بعض اوقات یہی سوال سر اٹھاتا ہے کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے؟ کس کی بات زیادہ وزن رکھتی ہے؟ کس کا حکم زیادہ دور تک پہنچتا ہے؟
یہاں مسئلہ صرف عہدے کا نہیں رہتا، شناخت کا بن جاتا ہے۔ آدمی اپنے کام سے پہچانے جانے کے بجائے اپنے منصب کی برتری سے پہچانا جانا چاہتا ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ میں نے عوام کے لیے کیا کیا، بلکہ لاشعوری طور پر یہ حساب لگاتا رہتا ہے کہ مجھ سے کم یا زیادہ اختیار کس کے پاس ہے۔ ایک افسر کی گاڑی کے آگے پیچھے کتنی گاڑیاں ہیں، کس کی آمد پر کون کھڑا ہوتا ہے، کس کے فون پر فیصلہ بدل جاتا ہے اور کس کی سفارش کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بظاہر یہ معمولی باتیں ہیں، مگر طاقت کے بھوکے ذہن کے لیے یہی زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتی ہیں۔
سیاست میں بھی یہی کہانی دوسرے کرداروں کے ساتھ دہرائی جاتی ہے۔ ایک ایم این اے قومی اسمبلی کا رکن ہے، دوسرا ایم پی اے صوبائی اسمبلی کا۔ دونوں عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں، دونوں اپنے حلقے میں بااثر سمجھے جاتے ہیں، لیکن جب اختیار اور رسائی کا موازنہ شروع ہوتا ہے تو تعلقات کی سطح پر بھی دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ ایک کی نظر وفاقی وزیر پر ہوتی ہے، دوسرے کی صوبائی وزیر پر؛ ایک کو مرکز تک رسائی کا فخر ہے، دوسرے کو صوبے میں اپنی اہمیت کا احساس۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر افسر یا سیاست دان اس نفسیات کا شکار ہو، لیکن جہاں منصب کو خدمت کے بجائے برتری کا پیمانہ بنا لیا جائے، وہاں انسان اپنے عہدے کے ساتھ اپنی انا بھی باندھ لیتا ہے۔
غریب آدمی اکثر اپنی غربت کو قبول کر لیتا ہے، کیونکہ اس کی محرومی دکھائی دیتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس مکان نہیں، اچھی گاڑی نہیں، سفارش نہیں، اختیار نہیں۔ اس کا دکھ تلخ ضرور ہے، مگر اسے اپنی محرومی کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ اس کے برعکس کم امیر یا کم بااختیار شخص ایک عجیب قید میں گرفتار ہو سکتا ہے۔ وہ اتنا محروم نہیں کہ سب کچھ چھوڑ دے اور اتنا مطمئن بھی نہیں کہ سکون سے جی سکے۔ اس کے پاس کامیابی ہے، مگر کسی اور کی کامیابی اسے ناکامی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے پاس اختیار ہے، مگر کسی دوسرے کا زیادہ اختیار اس کے لیے بے چینی کا سبب بن جاتا ہے۔ وہ آگے بڑھ بھی جائے تو اسے ہمیشہ کوئی ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو اس سے آگے کھڑا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دوسروں سے نہیں، اپنے ہی مرتبے کے تصور سے ہارنے لگتا ہے۔ اس نفسیاتی جنگ کی سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اس کا کوئی آخری مرحلہ نہیں۔ دولت کی ایک حد ہو سکتی ہے، مگر برتری کی خواہش کی کوئی حد نہیں۔ آج آدمی اپنے ساتھی سے بڑا عہدہ چاہتا ہے، کل اس سے زیادہ اختیار، پرسوں اس سے زیادہ شہرت۔ ہر کامیابی کے بعد خوشی کا دورانیہ مختصر ہوتا جاتا ہے، کیونکہ ذہن اپنی منزل طے کرنے کے بجائے دوسروں کی پوزیشن دیکھ کر اپنا معیار بدلتا رہتا ہے۔ یوں انسان کے پاس وہ سب کچھ جمع ہوتا جاتا ہے جسے دنیا کامیابی کہتی ہے، مگر اس کے اندر سکون کی جگہ خالی ہوتی جاتی ہے۔
شاید اسی لیے بعض لوگوں کی زندگی باہر سے شاندار اور اندر سے شکستہ ہوتی ہے۔ وہ محفلوں میں مسکراتے ہیں، دفتروں میں حکم چلاتے ہیں، تقریبات میں عزت پاتے ہیں، لیکن تنہائی میں اپنے سے آگے کھڑے کسی شخص کا تصور انہیں بے چین رکھتا ہے۔ ہر فون کال میں کسی بڑے آدمی کی تلاش، ہر ملاقات میں اپنی حیثیت منوانے کی کوشش اور ہر کامیاب ہم عصر کے ساتھ ایک خاموش مقابلہ ان کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ بے چینی ہمیشہ بیماری کی صورت اختیار نہیں کرتی، مگر مسلسل موازنہ انسان کی ذہنی صحت اور تعلقات دونوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے معاشرے میں کامیابی کے پیمانے تو بہت بنا لیے، سکون کا پیمانہ کبھی طے نہیں کیا۔ ہم پوچھتے ہیں تمہاری تنخواہ کتنی ہے، عہدہ کیا ہے، گاڑی کون سی ہے، تم تک رسائی کس کی ہے؛ لیکن شائد ہی پوچھتے ہیں کہ تم رات کو کتنے اطمینان سے سوتے ہو۔ ہم نے انسان کی قدر اس کے کردار سے ہٹا کر اس کی حیثیت کے ساتھ جوڑ دی ہے۔ اب آدمی کو انسان ہونے کے لیے بھی کسی دوسرے سے بڑا ثابت ہونا پڑتا ہے۔
غریب کی جنگ روٹی سے شروع ہو کر روٹی پر ختم ہو سکتی ہے، مگر طاقت کے نشے میں مبتلا انسان کی جنگ اکثر اپنی انا سے شروع ہو کر اسی کی قبر تک پہنچتی ہے۔ ایک شخص وسائل نہ ہونے کے باعث بے بس ہے، دوسرا وسائل ہونے کے باوجود دوسروں سے آگے نکلنے کی خواہش کا قیدی۔
اور شاید انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی دوسروں سے بہتر بناتے بناتے، دوسروں سے بہتر دکھائی دینے میں گزار دیتا ہے۔
کیونکہ غربت انسان سے بہت کچھ چھین سکتی ہے، مگر برتری کی بھوک انسان سے وہ سکون بھی چھین لیتی ہے جسے خریدنے کی طاقت اس کے پاس پہلے ہی موجود ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں




