جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اندھیرے میں روشنی بیچنے والا ،تحریر:سمیرا اکرام

نقطہ نظر

عدنان بائیس سال کا تھا۔ ڈگری مکمل، نوکری کوئی نہیں۔ گھر والے کہتے، کچھ کر۔ دوست کہتے، یوٹیوبر بن جا۔ رشتہ دار کہتے، باہر چلا جا۔ اس کا دماغ بھی اس کے گاؤں کی بجلی جیسا تھا، کبھی آتی، کبھی جاتی۔

اس کے پاس کوئی بڑا ہنر نہیں تھا، بس ایک پرانی سائیکل اور ایک خیال۔ اس نے دیکھا کہ گاؤں میں جب بجلی جاتی ہے تو سب کے پاس موبائل کی ٹارچ تو ہے، لیکن کسی کے پاس بیٹھ کر بات کرنے کا وقت نہیں۔ سب اپنی اپنی ٹارچ میں اکیلے ہیں۔ اس نے ایک عجیب کام شروع کیا۔ اس نے لکڑی کے ڈبے میں بیس موم بتیاں رکھیں اور شام کو آواز لگائی، ”روشنی لے لو، پانچ روپے کی روشنی۔“ نوجوان لڑکے ہنسے، ”اوئے عدنان، یہ کون سا بزنس ہے؟ اس سے تو تیرا نیٹ کا پیکج بھی نہیں لگے گا۔ ٹک ٹاک بنا، پیسہ کما۔“ عدنان نے جواب نہیں دیا۔ وہ روز آتا، روز دو موم بتیاں بکتیں، باقی واپس۔ اس کی ماں بھی پریشان، ”بیٹا، تیرے سارے دوست شہر جا کر کما رہے ہیں، تو یہ بچوں والا کام کر رہا ہے؟“

عدنان کہتا، ”امی، سب تیز روشنی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، موبائل کی، شہر کی، شارٹ کٹ کی۔ میں دھیمی روشنی بیچ رہا ہوں، جو بجھتی نہیں۔“

ایک دن اس کے ایک دوست نے اسے چیلنج کیا، ”اگر تیرا بزنس اتنا ہی اچھا ہے تو ہمیں ثابت کر، ہم جیسے نوجوان تیری موم بتی کیوں خریدیں؟“ عدنان نے کہا، ”تم نہیں خریدو گے، جب تک تمہاری اپنی روشنی نہ بجھے۔“

اور پھر وہ رات آ گئی۔ گرمیوں میں پورے اوکاڑہ کا گرڈ فیل ہو گیا۔ اعلان ہوا، بجلی 3 دن نہیں آئے گی۔ موبائل ٹاور بند، وائی فائی بند، پاور بینک ختم۔ وہ تمام نوجوان جو دن رات موبائل پر تھے، اچانک خالی ہو گئے۔ کوئی ریل نہیں، کوئی سٹوری نہیں۔ اندھیرا اتنا کہ اپنا ہاتھ بھی نظر نہ آئے۔

اس رات گاؤں میں صرف ایک جگہ روشنی تھی، عدنان کی سائیکل۔ اس کے ڈبے میں اس بار بیس نہیں، تین سو موم بتیاں تھیں۔ اس نے پچھلے 6 مہینے کی کمائی سے جوڑی تھیں۔ لوگ دوڑے، ”عدنان، ایک دے دے۔“

عدنان نے کہا، ”بیچوں گا نہیں، بانٹوں گا۔ لیکن میری ایک شرط ہے، خاص کر تم نوجوانوں کے لیے۔ ایک موم بتی کے بدلے تمہیں اپنا ایک گھنٹہ دینا ہوگا، بغیر موبائل کے۔ اس ایک گھنٹے میں تم نے سوچنا ہے کہ تم اصل میں کرنا کیا چاہتے ہو، دوسروں کو دیکھ کر نہیں، اپنے دل سے۔“ نوجوانوں نے پہلے مذاق سمجھا، پھر مان گئے، کیونکہ اندھیرے میں اور کچھ تھا ہی نہیں۔ اس رات گاؤں میں پہلی بار ہوا کہ نوجوان چھتوں پر بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے، وہی نوجوان جو مہینوں سے ایک دوسرے سے صرف کمنٹس میں بات کرتے تھے۔ کسی نے کہا، یار میں تو پولیس میں جانا چاہتا تھا، بس لوگوں کے ڈر سے نہیں گیا۔ کسی نے کہا، میں تو استاد بننا چاہتا ہوں۔

اس اندھیرے نے انہیں وہ دکھا دیا جو روشنی میں نظر نہیں آیا تھا، اپنا اصل خواب۔

جب بجلی واپس آئی، تو 15 نوجوان عدنان کے پاس آئے۔ بولے، ”ہمیں بھی تیرے ساتھ کام کرنا ہے۔“ عدنان نے مسکرا کر کہا، ”موم بتی بیچنا نہیں، روشنی بانٹنا سیکھو۔“ آج اس گاؤں میں عدنان کی ایک چھوٹی اکیڈمی ہے، نام ہے ”روشنی۔“ وہاں وہ سولر لائٹس بنانا سکھاتا ہے، اور ساتھ ہی ہر شام آدھا گھنٹہ بجلی بند کر کے سب نوجوانوں کو اپنے مستقبل پر سوچنے کو کہتا ہے۔ وہی لڑکے جو اسے ناکام کہتے تھے، آج اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

عدنان نے اپنی اکیڈمی میں لکھ رکھا ہے:

”اے نوجوان! آج کے دور میں سب سے بڑا اندھیرا بجلی کا نہیں، منزل کا ہے۔ تمہارے پاس موبائل کی روشنی ہے، ڈگری کی روشنی ہے، لیکن دل کی روشنی بند ہے۔ جب تک تم دوسروں کی سٹوری میں روشنی ڈھونڈو گے، اپنی زندگی میں اندھیرا رہے گا۔ اپنی ایک چھوٹی سی موم بتی خود جلاؤ، چاہے ساری دنیا ہنسے۔ یاد رکھو، بڑی بڑی لائٹیں ایک بٹن سے بند ہو جاتی ہیں، لیکن تمہاری چھوٹی سی موم بتی آندھی میں بھی جلتی رہے گی۔ تم اندھیرے میں روشنی بیچنے والے بنو، رش میں کھو جانے والے نہیں۔“