جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

باغی ٹی وی، میرے قلم کا معتبر ساتھی،تحریر: نیہا علی

نقطہ نظر
Kitchen and Me, written by: Neha Ali

رات کی خاموشی اپنے پَر پھیلائے ہوئے تھی۔ میز پر رکھی ڈائری کے اوراق ہوا کے ہلکے جھونکوں سے جنبش کر رہے تھے۔ سامنے رکھا قلم میری انگلیوں کے درمیان تھا اور ذہن میں بیتے ہوئے چار برسوں کی یادیں دستک دے رہی تھی۔ یہ چار برس محض وقت کا گزرنا نہیں تھا، بلکہ احساسات کو لفظوں میں ڈھالنے، خیالات کو ترتیب دینے اور اپنے اندر کی آواز کو تحریر کا روپ دینے کی مسلسل جدوجہد تھے۔لکھتے ہوئے مجھے چار برس بیت چکے ہیں۔ اس سفر میں کئی موسم بدلے، کئی موضوعات نے توجہ کھینچی اور کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ایک تحریر مکمل کرنے کے بعد دیر تک سوچتی رہی کہ کیا میرے لفظ اپنے مقصد تک پہنچ سکیں گے؟ مگر قلم سے رشتہ ایسا تھا کہ خاموش رہنا ممکن نہ ہوا۔


میں مختلف ادبی پلیٹ فارمز پر اپنی تحریریں پیش کرتی رہی ہوں۔ کہیں پذیرائی ملی، کہیں حوصلہ افزائی اور کہیں تنقید نے سوچ کے نئے دریچے کھولے۔ ہر پلیٹ فارم سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملا۔ میرے لیے یہ تمام مواقع میرے ادبی سفر کا حصہ ہیں، کیونکہ ایک لکھنے والا ہر تجربے سے اپنی فکر کو مزید وسعت دیتا ہے۔


اسی سفر کے دوران چند ماہ قبل باغی ٹی وی سے وابستگی کا موقع ملا۔ اس معتبر ادارے کا رکن بننے کا شرف حاصل ہوا تو اسے اپنے ادبی سفر کا ایک نیا اور خوش گوار تجربہ سمجھا۔


باغی ٹی وی پر میری تحریروں کی اشاعت میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ یہاں میری ایک تحریر کے بعد دوسری تحریر بھی شائع ہوئی، جس کا عنوان "خاموشی بولتی ہے" ہے۔ اس تحریر کو اخبار میں بھی شائع ہونے کا موقع ملا۔

ویسے تو ہر روز ہی فیس بک کے پیچ پر لگائی جاتی ہے،میرے لیے یہ خوشی کا باعث تھا کہ میری کاوش ایک سے زائد ذرائع سے قارئین تک پہنچی۔


"خاموشی بولتی ہے" میرے لیے محض ایک عنوان نہیں، بلکہ انسانی احساسات کی ایک ایسی کیفیت کا استعارہ ہے جسے اکثر لوگ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ انسان بسا اوقات زبان سے کچھ نہیں کہتا، مگر اس کے اندر ایک پوری داستان جنم لے رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قلم محسوس کرتا اور لفظوں میں بیان کرتا ہے۔


جب میں نے اپنی تحریر کی اشاعت دیکھی تو دل میں تشکر کا جذبہ پیدا ہوا۔ مجھے اپنے چار سالہ سفر کی وہ تمام کوششیں یاد آئیں جو کبھی خاموشی سے ڈائری کے صفحات پر رقم ہوتی تھی۔ آج وہی لفظ مختلف قارئین تک پہنچ رہے تھے۔


میں یہ سمجھتی ہوں کہ کسی بھی لکھنے والے کے لیے اپنی تخلیق کی اشاعت خوشی کا باعث ہوتی ہے، مگر اس خوشی کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ تحریر جب قارئین تک پہنچتی ہے تو قلم کار کو اپنے لفظوں کے انتخاب، موضوع کی معنویت اور بیان کی صداقت کا زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے۔


باغی ٹی وی سے وابستگی کو ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں، اس لیے میں اسے اپنے طویل ادبی سفر کا ایک نیا باب سمجھتی ہوں۔ اس ادارے کی جانب سے میری تحریروں کو جگہ ملنا میرے لیے حوصلہ افزائی ہے۔ میں اس پذیرائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور اس پر تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔


میرے نزدیک کسی بھی ادبی ادارے کی خوب صورتی اس بات میں ہے کہ وہ اہلِ قلم کو اظہار کا موقع دے، ان کی تخلیقی کاوشوں کو قارئین تک پہنچائے اور ادب کے فروغ میں اپنا حصہ ادا کرے۔ نئے لکھنے والوں کے لیے ایسے مواقع یقیناً اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے قلم کار کو اپنے کام کو وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔


تاہم میں اپنے قلم کو کسی ایک پلیٹ فارم تک محدود نہیں سمجھتی۔ میرا ادبی سفر مختلف پلیٹ فارمز کے ساتھ جاری ہے اور ہر ادارہ اپنی جگہ قابلِ قدر ہے۔ باغی ٹی وی بھی ان ذرائع میں ایک اہم اضافہ ہے، جہاں میری تحریروں کو پذیرائی میسر آئی۔


میں چاہتی ہوں کہ میرے لفظ محض داد و تحسین حاصل کرنے کے لیے نہ ہوں، بلکہ معاشرتی رویوں کی اصلاح، انسانی احساسات کی ترجمانی اور حقائق کی عکاسی کا وسیلہ بنیں۔ میرا قلم ان لوگوں کے لیے لکھے جن کی آواز اکثر شور میں دب جاتی ہے، ان احساسات کو بیان کرے جنہیں زبان نہیں ملتی اور ان مسائل کو موضوع بنائے جن پر گفتگو کرنا ضروری ہے۔


چار برس پہلے قلم سے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ منزل کا تعین شاید ابھی باقی ہے، مگر راستے سے محبت ضرور ہو چکی ہے۔


میں باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کی تہِ دل سے ممنون ہوں کہ انہوں نے میری تحریروں کو اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دی اور میری ادبی کاوشوں کی پذیرائی کی۔ میری دعا ہے کہ یہ ادارہ ادب و صحافت کے میدان میں مزید ترقی کرے اور اہلِ قلم کے لیے اظہار و اشاعت کے نئے در وا کرتا رہے۔


آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ قلم کار کی اصل پہچان اس کے لفظ ہوتے ہیں۔ پلیٹ فارم اسے قارئین تک پہنچنے کا وسیلہ فراہم کرتے ہیں، مگر لفظوں میں جان ڈالنے کے لیے خلوص، مطالعہ، مشاہدہ اور مسلسل ریاضت درکار ہوتی ہے۔


میرا قلم چار برس سے رواں ہے، میرا سفر ابھی جاری ہے، اور باغی ٹی وی اس سفر کا ایک نیا، قابلِ قدر اور خوش گوار حوالہ ہے۔


کیونکہ لکھنا صرف لفظوں کو یکجا کرنا نہیں، بلکہ اپنے عہد کے احساسات کو محفوظ کرنا بھی ہے۔