جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایمانداری کے ثمرات ،تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

ایمانداری ایک ایسا لفظ ہے جو آج کل کے دور میں آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ایمانداری کے لفظ کو بھولتے جا رہے ہیں معاشرہ ایماندار کا ساتھ نہیں دیتا جبکہ بے ایمان کی خوب تعریف ہوتی ہے۔شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں ذاتی مفادات کو رشتوں، احساسات اور اخلاقیات سے زیادہ اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔ ہم اکثر ایمانداری کو صرف کاروبار، لین دین اور معاملات تک محدود سمجھتے ہیں، حالانکہ ایمانداری کا دائرہ زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہے۔ ہمیں صرف اپنے کاروبار اور مالی معاملات میں ہی ایمانداری کا ثبوت نہیں دینا چاہیے بلکہ اپنے رشتوں میں بھی سچائی اور خلوص کو اپنانا چاہیے، چاہے وہ رشتے خون کے ہوں یا تعلق اور دوستی کے۔ کیونکہ رشتوں میں ایمانداری سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔


ایمانداری دراصل انسان کے کردار کی وہ خوبصورتی ہے جو اسے دوسروں کی نظروں میں قابلِ اعتماد بناتی ہے۔ ایک ایماندار انسان ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے وقتی نقصان ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے فائدے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتا ہے، وہ شاید کچھ وقت کے لیے کامیاب دکھائی دے، لیکن ایک دن اس کی حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اعتماد ایک ایسی دولت ہے جسے حاصل کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں، لیکن اسے کھونے کے لیے ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے۔


ہماری زندگی میں بہت سے رشتے ایسے ہوتے ہیں جو صرف اعتماد کی بنیاد پر قائم رہتے ہیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، میاں بیوی، دوست اور دیگر رشتے سبھی ہم سے سچائی اور خلوص کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر ہم کسی کے سامنے اپنی شخصیت کا ایک رخ پیش کریں اور حقیقت میں ہمارے رویے بالکل مختلف ہوں تو یہ بھی ایک طرح کی بے ایمانی ہے۔ کسی کے جذبات سے کھیلنا، جھوٹے وعدے کرنا، ضرورت کے وقت ساتھ چھوڑ دینا اور اپنی سہولت کے مطابق رشتوں کی اہمیت بدل لینا بھی ایمانداری کے منافی ہے۔


اکثر ہم دوسروں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مخلص رہیں، ہماری باتوں کا بھرم رکھیں اور ہمارے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہ پہنچائیں، لیکن کیا ہم خود بھی دوسروں کے ساتھ ایسا ہی رویہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں؟ کیا ہم کسی کی غیر موجودگی میں بھی اس کی عزت کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہمارے الفاظ اور عمل میں یکسانیت ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر ہمیں دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے خود غور کرنا چاہیے۔


اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:


وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ


ترجمہ: اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ (سورۃ التوبہ: 119)


یہ مختصر سی آیت ہمیں سچائی اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا درس دیتی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)


اسلام ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں دیانت داری اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو نبوت سے پہلے بھی صادق اور امین کہا جاتا تھا۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ سچائی، امانت اور وعدے کی پابندی کو اہمیت دی۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو ایک انسان کو معاشرے میں عزت اور مقام عطا کرتی ہیں۔


آج ہمارے معاشرے میں بے ایمانی کی بہت سی صورتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کہیں کاروبار میں ناپ تول کی کمی ہے، کہیں ملاوٹ اور دھوکا دہی ہے، کہیں ملازمت میں ذمہ داریوں سے غفلت برتی جاتی ہے تو کہیں رشتوں میں جھوٹ اور منافقت نے جگہ بنا لی ہے۔ ہم دوسروں سے تو سچائی کی توقع رکھتے ہیں لیکن جب اپنی باری آتی ہے تو چھوٹے چھوٹے فائدوں کے لیے اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایمانداری کا تعلق صرف بڑے معاملات سے نہیں بلکہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی ہے۔


ایک طالب علم کا امتحان میں نقل نہ کرنا، ایک دکاندار کا درست چیز اور درست قیمت بتانا، ایک ملازم کا اپنی ذمہ داری پوری کرنا، کسی کی امانت کی حفاظت کرنا اور کسی سے کیا ہوا وعدہ نبھانا بھی ایمانداری کی مثالیں ہیں۔ اسی طرح کسی کی ذاتی بات کو راز رکھنا اور کسی کی غیر موجودگی میں اس کے اعتماد کو قائم رکھنا بھی اچھے کردار کی علامت ہے۔


ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایمانداری کا مطلب صرف دوسروں کے ساتھ سچ بولنا نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے بھی سچا ہونا ہے۔ اپنی غلطی تسلیم کرنا، اپنی کوتاہی پر معذرت کرنا اور اپنی اصلاح کی کوشش کرنا بھی ایمانداری کا حصہ ہے۔ غلطی ہر انسان سے ہو سکتی ہے، لیکن اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا انسان کے کردار کو مزید کمزور کر دیتا ہے۔


اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رشتے مضبوط ہوں، ہمارے معاشرے میں اعتماد قائم ہو اور ہماری آنے والی نسلیں اچھے اخلاق کی حامل ہوں تو ہمیں ایمانداری کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنانا ہوگا۔ بچوں کو صرف نصیحتوں کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے عمل سے سچائی اور دیانت داری کا سبق دینا ہوگا، کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔


ایمانداری کوئی ایسی خوبی نہیں جسے صرف ضرورت کے وقت اپنایا جائے، بلکہ یہ انسان کی مستقل پہچان ہونی چاہیے۔ ہمیں ایسا کردار اپنانا چاہیے کہ ہماری موجودگی میں بھی لوگ ہم پر اعتماد کریں اور ہماری غیر موجودگی میں بھی ہماری سچائی کی گواہی دیں۔ کیونکہ دولت، شہرت اور عہدے انسان کو وقتی عزت تو دے سکتے ہیں، لیکن حقیقی عزت ہمیشہ اچھے کردار، سچائی اور ایمانداری سے حاصل ہوتی ہے۔