عورت کو پہلے انسان سمجھا جائے،تحریر: کومل شہزادی
نقطہ نظر
جب بھی عورت کے حقوق، اس کی آزادی، تعلیم، ملازمت یا گھریلو ذمہ داریوں پر گفتگو ہوتی ہے تو ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا رویہ سامنے آتا ہے۔ عورت کو کبھی "قربانی کی مورتی" بنا دیا جاتا ہے، کبھی "گھر کی عزت" کا بوجھ اس کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے، اور کبھی اسے صرف ایک ایسی ہستی سمجھ لیا جاتا ہے جس کا کام دوسروں کی خدمت کرنا ہے۔ ان تمام شناختوں کے درمیان ایک بنیادی حقیقت کہیں گم ہو جاتی ہے، اور وہ یہ کہ عورت سب سے پہلے ایک انسان ہے۔
انسان ہونے کے ناطے اس کے بھی احساسات ہیں، خواب ہیں، خواہشات ہیں، صلاحیتیں ہیں اور سب سے بڑھ کر عزتِ نفس ہے۔ وہ بھی تھکتی ہے، وہ بھی بیمار ہوتی ہے، وہ بھی ذہنی دباؤ محسوس کرتی ہے، اور اسے بھی محبت، احترام اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں عورت سے اکثر یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں برداشت کرے، خاموش رہے اور اپنی ذات کو دوسروں کی خوشی کے لیے قربان کرتی رہے۔
میری اپنی زندگی کا ایک خوبصورت تجربہ اس سوچ سے مختلف ہے۔ مجھ سے بڑے میرے دونوں بھائی کھانا بنانا جانتے ہیں۔ اگر گھر میں ضرورت ہو تو وہ باورچی خانے میں میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔ کبھی چائے بنا لیتے ہیں، کبھی سبزی کاٹ دیتے ہیں، کبھی برتن اٹھا دیتے ہیں۔ نہ ان کی عزت کم ہوئی، نہ ان کی مردانگی پر کوئی حرف آیا، اور نہ ہی ان کی شخصیت میں کوئی کمی پیدا ہوئی۔ بلکہ میں سمجھتی ہوں کہ یہی تربیت انہیں ایک بہتر شوہر، بہتر باپ اور بہتر انسان بنائے گی۔
اصل مسئلہ باورچی خانہ نہیں، بلکہ وہ ذہنیت ہے جس میں مرد کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ گھر کا کوئی بھی کام کرنا اس کی شان کے خلاف ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جو مرد دفتر میں اپنے افسر کے احکامات پر عمل کرتا ہے، بازار سے سامان اٹھاتا ہے، دوستوں کی مدد کرتا ہے، وہی اگر اپنی بیوی کے ساتھ ایک کپ چائے بنا لے یا بچوں کی دیکھ بھال میں ہاتھ بٹا دے تو اسے اپنی مردانگی خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہے۔ آخر کیوں؟
اس کی وجہ وہ سماجی تربیت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ لڑکوں کو بچپن سے کہا جاتا ہے کہ "یہ لڑکیوں کے کام ہیں"، جبکہ لڑکیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ "شوہر کی ہر بات ماننا ہی اچھی بیوی کی نشانی ہے۔" یوں دونوں کی شخصیت ایک غیر متوازن سوچ کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔
اسلام کی تعلیمات پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک بالکل مختلف تصویر دکھائی دیتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ اپنے گھر کے کاموں میں اہلِ خانہ کی مدد فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے کبھی خدمت کو اپنی شان کے خلاف نہیں سمجھا۔ اسوۂ رسول ﷺ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عظمت اختیار میں نہیں بلکہ اخلاق، محبت اور خدمت میں ہے۔ افسوس کہ ہم نے مذہب کے نام پر ثقافتی روایات کو تو اپنا لیا، مگر دین کی اصل روح کو نظر انداز کر دیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں مرد کو غیر ضروری برتری دے کر خود اس پر بھی ایک بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ اسے بچپن سے رونا منع کیا جاتا ہے، کمزوری ظاہر کرنے سے روکا جاتا ہے اور ہر وقت طاقتور نظر آنے کا دباؤ دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف عورت کو ہمیشہ ایڈجسٹمنٹ، برداشت اور خاموشی کا درس دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں اپنی فطری انسانیت سے دور ہوتے جاتے ہیں۔
کسی بھی گھر کی خوشی اس بات میں نہیں کہ ایک حکم دے اور دوسرا صرف حکم مانے، بلکہ اس میں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ جب شوہر تھکا ہو تو بیوی اس کا خیال رکھے، اور جب بیوی تھکی ہو تو شوہر اس کا ہاتھ بٹائے۔ یہی شراکت زندگی ہے، یہی محبت ہے، یہی رفاقت ہے۔
تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ سوچ کو وسیع کرنا بھی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مرد وہ نہیں جو صرف بڑی ملازمت کرتا ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنی بیوی کو اپنی برابر کا انسان سمجھے، اس کی رائے کی قدر کرے، اس کے خوابوں کی عزت کرے اور اس کی مشکلات میں اس کا ساتھ دے۔ اسی طرح ایک تعلیم یافتہ عورت بھی وہ ہے جو تعلقات کو باہمی احترام، محبت اور تعاون کی بنیاد پر استوار کرے۔
ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت بھی بدلنی ہوگی۔ بیٹیوں کو صرف کھانا پکانا نہ سکھائیں، بلکہ فیصلے کرنا، خود اعتمادی اور اپنے حقوق پہچاننا بھی سکھائیں۔ اسی طرح بیٹوں کو صرف کمانا ہی نہ سکھائیں بلکہ گھر کے کام، احترام، برداشت اور ذمہ داری بھی سکھائیں۔ جب ایک لڑکا اپنی ماں، بہن اور بیوی کو انسان سمجھنا سیکھ جائے گا تو معاشرے میں بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
عورت کو دیوی بنانے کی ضرورت نہیں، نہ ہی اسے قربانی کا استعارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اسے صرف وہ مقام دے دیا جائے جو ہر انسان کا حق ہے: عزت، احترام، برابری اور اپنی شخصیت کے ساتھ جینے کا حق۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا پیمانہ اس کی عمارتیں، سڑکیں یا معیشت نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں عورت اور مرد کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جس دن ہم عورت کو سب سے پہلے ایک انسان مان لیں گے، اسی دن ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں مہذب، متوازن اور انصاف پسند بن جائے گا۔
مزید پڑھیں





