آسائشوں کے باوجود ناشکری ،تحریر: ماہ جبین اظہر
نقطہ نظر
ایک دور تھا جب گھر میں والدین کی موجودگی ہی بچوں کے لیے نظم و ضبط، محبت اور احترام کی علامت ہوا کرتی تھی۔ باپ گھر میں قدم رکھتا تو بچے ادب سے اپنی نظریں جھکا لیتے۔ بیٹیاں حیا اور احترام کے احساس سے اپنے سروں کو دوپٹوں سے ڈھانپ لیتیں۔ ماں کی آواز پر کام چھوڑ کر اس کی مدد کو پہنچنا اور باپ کی خدمت کو سعادت سمجھنا معمول کی بات تھی۔ اس زمانے میں زندگی آج کی طرح سہولتوں سے بھرپور نہیں تھی، مگر رشتوں میں خلوص، دلوں میں اطمینان اور گھروں میں اپنائیت ضرور تھی۔
لڑکیاں جوان ہوتے ہی اپنی ماؤں کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیتیں۔ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ گھر صرف دیواروں کا نام نہیں، بلکہ ذمہ داریوں، محبتوں اور باہمی تعاون سے تشکیل پاتا ہے۔ بیٹے بھی والدین کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ والدین کی خواہشات کا خیال رکھنا، ان کی ضروریات پوری کرنا اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانا اولاد کی خوشی ہوا کرتی تھی۔
اس دور میں بڑوں کے باہمی مشورے سے بچوں کے رشتے طے ہو جاتے تھے۔ بیشتر بچے والدین کے فیصلوں کو اعتماد کی نگاہ سے دیکھتے اور اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کر دیتے۔ ہر شادی کامیاب نہیں ہوتی تھی، کیونکہ اختلافات اور مسائل ہر زمانے میں موجود رہے ہیں، مگر رشتوں کو نبھانے، برداشت کرنے اور خاندان کو جوڑے رکھنے کا جذبہ نسبتاً نمایاں تھا۔
اولاد کے پاس آج جیسی سہولیات نہیں تھیں۔ نہ ہر ہاتھ میں موبائل فون تھا، نہ گھر گھر لیپ ٹاپ، نہ مہنگے پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کا رجحان اتنا عام تھا۔ کئی بچے محدود وسائل میں تعلیم حاصل کرتے، پرانے کپڑوں میں خوش رہتے اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو زندگی کا سرمایہ سمجھتے تھے۔ والدین بھی اپنی استطاعت کے مطابق بچوں کی ضروریات پوری کرتے، مگر اولاد ان کی قربانیوں کو محسوس کرتی تھی۔
آج صورتِ حال بدل چکی ہے۔ والدین اپنی اولاد کو بہتر سے بہتر زندگی دینے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں جدید موبائل فون ہیں، آن لائن تعلیم کے لیے لیپ ٹاپ ہیں، مہنگے پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں داخلے ہیں، برانڈڈ لباس ہیں اور زندگی کی بے شمار سہولیات ہیں۔ والدین اپنی خواہشات محدود کرکے بچوں کے خواب پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی مائیں اپنی ضروریات قربان کر دیتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔ کئی باپ اپنی صحت، آرام اور سکون داؤ پر لگا کر اولاد کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا آسائشوں میں اضافے کے ساتھ اولاد کے دلوں میں شکرگزاری بھی بڑھی ہے؟
بدقسمتی سے ہر گھر کی کہانی ایسی نہیں۔ آج بہت سے والدین اپنی اولاد کے رویوں سے دکھی ہیں۔ بچے معمولی خواہش پوری نہ ہونے پر ناراض ہو جاتے ہیں، والدین کی نصیحت انہیں بوجھ محسوس ہوتی ہے، اور ان کی محبت بھری روک ٹوک آزادی میں مداخلت دکھائی دیتی ہے۔ بعض اوقات والدین کی برسوں کی قربانیاں ایک لمحے کی ناراضی کے سامنے بے معنی بنا دی جاتی ہیں۔
لیکن اس صورتِ حال کا ذمہ دار صرف آج کی نسل کو قرار دینا بھی مکمل انصاف نہیں ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرہ، تربیت، بدلتی ترجیحات اور ٹیکنالوجی سب مل کر انسان کے رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
آج کے بچے ایک ایسے ماحول میں پرورش پا رہے ہیں جہاں ہر طرف مقابلہ، نمود و نمائش اور فوری خواہشات کی تکمیل کا رجحان موجود ہے۔ سوشل میڈیا انہیں مسلسل یہ احساس دلاتا ہے کہ دوسروں کی زندگی ان سے زیادہ خوب صورت، آرام دہ اور کامیاب ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی موجود نعمتوں کو دیکھنے کے بجائے ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں جو ابھی ان کے پاس نہیں۔
پہلے بچوں کی خوشیاں محدود تھیں، اس لیے چھوٹی چیزیں بھی بڑی خوشی دے جاتی تھیں۔ آج خواہشات کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ایک خواہش پوری ہوتے ہی دوسری جنم لے لیتی ہے۔ انسان کے پاس جتنا زیادہ آتا ہے، بعض اوقات اتنا ہی زیادہ کا طلب گار ہو جاتا ہے۔ یہی بے اطمینانی ناشکری کو جنم دیتی ہے۔
تاہم یہاں والدین کو بھی اپنے کردار پر غور کرنا ہوگا۔ بعض والدین محبت کے نام پر بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں، ہر ضد کے سامنے جھک جاتے ہیں اور انہیں زندگی کی مشکلات سے دور رکھتے ہیں۔ وہ بچوں کو سہولتیں تو فراہم کرتے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس نہیں دلاتے۔ انہیں یہ نہیں سکھاتے کہ گھر میں کام کرنا، بزرگوں کا خیال رکھنا، اپنی چیزیں سنبھالنا اور دوسروں کی ضروریات کا احترام کرنا بھی زندگی کا حصہ ہے۔
تربیت صرف اچھے اسکول میں داخلہ دلوانے، مہنگے کپڑے پہنانے یا جدید سہولیات فراہم کرنے کا نام نہیں۔ تربیت تو اس وقت شروع ہوتی ہے جب بچہ گھر میں کسی بڑے سے احترام سے بات کرنا سیکھتا ہے، اپنی ماں کے تھکے ہوئے چہرے کو پڑھتا ہے، باپ کی خاموش پریشانی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی خواہش سے پہلے گھر کی ضرورت کو اہمیت دیتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ احترام خوف سے نہیں، محبت اور تربیت سے پیدا ہوتا ہے۔ ماضی میں بعض گھروں میں سختی اور خوف بھی تھا، جسے مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بچوں کی رائے، جذبات اور شخصیت کا احترام بھی ضروری ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان ایسا تعلق ہونا چاہیے جس میں محبت کے ساتھ اعتماد، اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری موجود ہو۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین بچوں کو سہولتیں دینے کے ساتھ زندگی کی حقیقتوں سے بھی روشناس کرائیں۔ انہیں بتائیں کہ ہر خواہش فوراً پوری نہیں ہوتی، ہر کامیابی محنت مانگتی ہے اور ہر رشتہ توجہ کا طلب گار ہوتا ہے۔ بچوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ والدین صرف ضروریات پوری کرنے والی مشینیں نہیں، بلکہ احساسات رکھنے والے انسان ہیں، جنہیں محبت، وقت اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔
دوسری طرف اولاد کو بھی اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ جن ہاتھوں نے ہمیں چلنا سکھایا، کیا آج ہم ان ہاتھوں کو سہارا دینے کے لیے تیار ہیں؟ جن لوگوں نے ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے اپنی بڑی خواہشیں قربان کیں، کیا ہم ان کے چہروں پر سکون لانے کی کوشش کرتے ہیں؟
والدین کی خدمت صرف مالی مدد کا نام نہیں۔ کبھی ان کے پاس بیٹھ جانا، ان کی بات توجہ سے سن لینا، ان کے کام میں ہاتھ بٹا دینا اور ان کی رائے کو اہمیت دینا بھی محبت کی خوب صورت صورتیں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آسائشیں زندگی کو آسان بنا سکتی ہیں، مگر دلوں کو مطمئن نہیں کر سکتیں۔ اطمینان شکرگزاری، محبت، قناعت اور مضبوط رشتوں سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی اولاد کو دنیا کی ہر سہولت دے دیں، مگر رشتوں کی قدر نہ سکھائیں تو ہماری تربیت ادھوری رہ جائے گی۔
آئیے اپنے گھروں میں ایک بار پھر محبت، احترام اور شکرگزاری کی فضا قائم کریں۔ بچوں کو صرف کامیاب انسان نہیں، اچھا انسان بننے کی تعلیم دیں۔ کیونکہ والدین کے لیے اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ ان کی اولاد آسائشوں کے ساتھ ساتھ احساس بھی رکھتی ہو، حقوق کے ساتھ فرائض بھی سمجھتی ہو اور زندگی کی تمام نعمتوں میں اپنے والدین کی دعاؤں کو سب سے قیمتی سرمایہ مانتی ہو۔
مزید پڑھیں





