بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آسمان میرا بھی تو ہے،تحریر: مہوش شفیق

نقطہ نظر

رات کے آخری پہر شہر کی روشنیاں مدھم پڑ چکی تھیں۔ گلی کے آخری سرے پر واقع چھوٹے سے گھر کی چھت پر عائشہ خاموش بیٹھی آسمان کو تک رہی تھی۔اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صرف سوال تھے۔

وہ اکثر سوچتی تھی،

"کیا خواب بھی امیر اور غریب ہوتے ہیں؟"

اس کے سامنے پھیلا ہوا آسمان سب کے لیے ایک جیسا تھا۔ ستارے بھی وہی، چاند بھی وہی، ہوا بھی وہی… مگر زمین پر لوگوں کی قسمتیں مختلف تھیں۔

عائشہ کے والد ایک معمولی مزدور تھے۔ گھر کا خرچ مشکل سے چلتا تھا۔ محلے کی لڑکیاں بڑے خواب دیکھنے سے پہلے اپنے حالات دیکھ لیا کرتی تھیں، مگر عائشہ کو یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ انسان خواب دیکھنے سے پہلے اجازت کیوں مانگے؟

وہ پڑھنا چاہتی تھی۔

بہت آگے جانا چاہتی تھی۔

مگر ہر بار گھر کے حالات اس کے خوابوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے۔ایک دن اس کے والد نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا،

"بیٹی، اب مزید پڑھائی مشکل ہے۔ گھر کے حالات تم سے زیادہ واقف ہیں۔"

عائشہ نے سر جھکا لیا۔

وہ جانتی تھی کہ باپ مجبور ہے، ظالم نہیں۔

اس رات وہ پھر چھت پر گئی۔

چاند بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔

عائشہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور پہلی بار اس کی آنکھوں سے آنسو نہیں، غصہ نکلا۔

"اگر یہ آسمان سب کا ہے تو میرے لیے اتنا دور کیوں ہے؟"

اچانک پیچھے سے اس کے والد کی آواز آئی۔

"آسمان دور نہیں ہوتا بیٹی… انسان کبھی کبھی خود کو زمین تک محدود کر لیتا ہے۔"

عائشہ نے پلٹ کر دیکھا۔

والد کے ہاتھ میں ایک پرانی کتاب تھی۔

انہوں نے کتاب اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا،

"یہ تمہاری ماں کی تھی۔ وہ بھی پڑھنا چاہتی تھی، مگر اسے موقع نہیں ملا۔ میں تمہارا خواب نہیں توڑنا چاہتا۔"

عائشہ نے کتاب سینے سے لگا لی۔

اس رات اس نے فیصلہ کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں، وہ کوشش نہیں چھوڑے گی۔

اگلے کئی مہینے آسان نہیں تھے۔

دن میں وہ گھر کے کام کرتی، شام کو بچوں کو پڑھاتی اور رات کو خود پڑھتی۔ کبھی بجلی چلی جاتی تو وہ چھت پر بیٹھ کر چاندنی میں کتاب کھول لیتی۔

محلے والے ہنستے تھے۔

"اتنی پڑھائی کرکے کیا کرے گی؟"

کوئی کہتا،

"آخرکار تو گھر ہی سنبھالنا ہے۔"

عائشہ ہر بات سنتی، مسکراتی اور آسمان کی طرف دیکھ کر خود سے کہتی:

"آسمان میرا بھی تو ہے۔"

پھر ایک دن شہر میں ایک بڑے تعلیمی ادارے کی اسکالرشپ کا اعلان ہوا۔

عائشہ نے فارم بھر دیا۔

امتحان کا دن آیا تو اس کے پاس اچھے کپڑے نہیں تھے، مہنگا قلم نہیں تھا، اور نہ کوئی سفارش۔

صرف ایک چیز تھی

اس کا یقین۔

وہ امتحان دے کر واپس آئی تو اسے لگا شاید اس کا خواب پھر ہار گیا۔

کئی ہفتے گزر گئے۔

پھر ایک صبح دروازے پر ڈاکیا آیا۔

ایک خط تھا۔

عائشہ نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔

اس کی آنکھیں چند لمحوں کے لیے الفاظ پر رک گئیں۔

پھر وہ اچانک رونے لگی۔

"ابو…!"

والد گھبرا کر اٹھے۔

"کیا ہوا؟"

عائشہ نے خط ان کے ہاتھ میں دے دیا۔

اسے اسکالرشپ مل گئی تھی۔والد نے خط پڑھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔انہوں نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا،

"دیکھا؟ میں نے کہا تھا نا… آسمان دور نہیں ہوتا۔"

کئی سال بعد اسی شہر کے ایک بڑے ہال میں عائشہ اسٹیج پر کھڑی تھی۔

سامنے سینکڑوں لوگ بیٹھے تھے۔اسے ایک اعزاز دیا جا رہا تھا۔

مائیک اس کے سامنے آیا تو اس نے کچھ لمحے خاموش رہ کر چھت کی طرف دیکھا۔

پھر بولی:

"میں نے زندگی میں بہت بار سنا کہ کچھ خواب ہمارے لیے نہیں ہوتے۔ مگر میں نے ایک بات کبھی نہیں مانی…"

وہ مسکرائی۔

"آسمان کسی ایک کا نہیں ہوتا۔"

ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

لیکن عائشہ کی نظر صرف ایک شخص کو تلاش کر رہی تھی۔

آخری صف میں اس کے والد بیٹھے تھے۔

سادہ کپڑے، تھکا ہوا چہرہ، مگر آنکھوں میں فخر کی روشنی۔

عائشہ اسٹیج سے اتری اور سیدھی اپنے والد کے پاس گئی۔

والد نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا:

"اب بتاؤ… آسمان کتنا دور ہے؟"

عائشہ نے آنسوؤں کے درمیان مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا۔

"بس اتنا ہی دور… جتنا انسان اپنے خواب سے ہمت ہارنے کے بعد سمجھ لیتا ہے۔"

اس رات وہ دوبارہ اپنی پرانی چھت پر کھڑی تھی۔

وہی آسمان تھا۔

وہی ستارے تھے۔

مگر آج اس کے دل میں کوئی سوال نہیں تھا۔

صرف ایک یقین تھا:

"آسمان میرا بھی تو ہے…"