پاکستان کے دیہات اور چھوٹے گاؤں ملک کی روح ہیں، جہاں نہ صرف ہماری ثقافت اور روایات جڑی ہوئی ہیں بلکہ یہاں کے لوگ سادہ دل اور محنتی ہوتے ہیں۔ مگر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ دیہات میں طبی سہولیات کا فقدان اور جدید علاج معالجے کی کمی نے یہاں کے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس خلیج کو پر کرنے کے بجائے، کئی بار وہ غلط ہاتھوں میں جا پڑتی ہے اور دیہات کے لوگ غیر مستند، غیر تعلیم یافتہ اور کبھی کبھار مہلک عطائی ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
یہ عطائی ڈاکٹرز، جو بغیر کسی باقاعدہ طبی تعلیم اور تربیت کے غیر سرکاری طور پر علاج کرتے ہیں، دیہاتیوں کے لیے موت کے سائے بن جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو طب کے حقیقی اصولوں کو نظر انداز کرکے جھاڑ پھونک، جڑی بوٹیوں، دعاؤں، اور کئی بار خوفناک طریقوں سے مریضوں کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ لیکن ان کا علاج اکثر جان لیوا ثابت ہوتا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف مریضوں کی جانیں خطرے میں پڑتی ہیں بلکہ پورے سماج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
"عطائی ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی پہچان اور ان کی وجہ"
دیہاتی علاقوں میں جدید ہسپتالوں کی عدم موجودگی، ماہر ڈاکٹروں کی کمی اور طبی سہولیات کی ناقص فراہمی کی وجہ سے دیہات کے لوگ عطائی ڈاکٹروں کے پاس جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر غریب طبقے کے لیے یہ واحد سہولت ہوتی ہے جو کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہے، اور اکثر یہ لوگ اس بات پر یقین کر لیتے ہیں کہ ان کا علاج ہو جائے گا۔
عطائی ڈاکٹروں کی پہچان اس لیے بھی بڑھتی ہے کہ وہ دیہات کی زبان، رسم و رواج اور ثقافت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کے درد اور بیماریوں کو روحانی یا جادوئی نظریے سے سمجھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں، جس سے متاثرہ افراد کو یقین ہو جاتا ہے کہ ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ یہ لوگ اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس ہی وہ طاقت ہے جو بیماری کو جڑ سے ختم کر سکتی ہے، جبکہ حقیقت میں ان کے ہاتھ میں صرف چند گھریلو نسخے اور عجیب قسم کی ادویات ہوتی ہیں۔
"عطائی ڈاکٹروں کے خطرات اور ان کے اثرات"
دیہات میں عطائی ڈاکٹروں کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف ایک طبی مسئلہ بن چکا ہے بلکہ یہ ایک سماجی اور معاشرتی خطرہ بھی ہے، جو کئی حوالوں سے گاؤں کی زندگی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
1. بیماری کی غلط تشخیص
عطائی ڈاکٹروں کے پاس جدید تشخیصی آلات یا سائنسی علم کا فقدان ہوتا ہے۔ وہ بیماری کی اصل وجہ معلوم کرنے کی بجائے صرف ظاہری علامات کو دیکھ کر علاج شروع کر دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کئی بار بیماری کی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں اور مریض کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔
2. غیر معیاری اور خطرناک علاج
بہت سے عطائی اپنے علاج کے لیے زہریلے یا نقصان دہ جڑی بوٹیاں، انجیکشن یا گھریلو نسخے استعمال کر لیتے ہیں جو کہ مریض کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسے نسخے مریض کی جان بھی لے لیتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے یہ خطرہ دو چند ہو جاتا ہے۔
3. بیماری کی بروقت اور صحیح علاج میں تاخیر
جب لوگ بیماری کی ابتدائی علامات میں ہی عطائیوں کے پاس چلے جاتے ہیں تو اکثر وہ اصل علاج معالجے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کئی بار یہ لوگ اپنی بیماری کی شدت بڑھنے پر ہی کسی مستند ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، لیکن تب تک بیماری بہت زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہوتی ہے۔
4. حقیقی ڈاکٹروں کی بدنامی
جب مریض عطائیوں کی غلطیوں کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی حالت خراب ہو جاتی ہے، تو دیہات کے لوگ اکثر اپنے غصے کا اظہار حقیقی اور ماہر ڈاکٹروں پر کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی ناکامی کی وجہ سے ان کا علاج نہیں ہو پایا، حالانکہ اصل وجہ عطائیوں کا غیر معیاری علاج ہوتا ہے۔
"عطائی ڈاکٹروں کی معاشرتی اہمیت"
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دیہات میں عطائیوں کی موجودگی کسی حد تک ان کی سماجی اہمیت اور قبولیت کا مظہر بھی ہے۔ دیہاتی لوگ ان کو اپنے گھروں اور دلوں میں جگہ دیتے ہیں کیونکہ وہ انہی کے درمیان سے ہوتے ہیں اور اکثر ان کے ساتھ ذاتی اور ثقافتی روابط بھی پروان چڑھتے ہیں۔ وہ بیماری کو صرف جسمانی مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ اس میں روحانی اور ذہنی پہلو بھی شامل ہوتا ہے، جس کا فائدہ عطائی ڈاکٹر اٹھاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، عطائیوں کا علاج اکثر روایتی نسخوں پر مشتمل ہوتا ہے جسے دیہاتی لوگ زیادہ قابل قبول سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ ان کی ثقافت اور روایت سے جُڑا ہوتا ہے۔ لہٰذا، عطائیوں کی جگہ آسانی سے کوئی اور نہیں لے سکتا جب تک کہ متبادل نظام معیاری، سستا اور قابل رسائی نہ ہو۔
اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے؟
دیہات میں عطائی ڈاکٹروں کے خطرناک رجحان کو ختم کرنے کے لیے ہمیں ایک مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس میں سماجی، تعلیمی، طبی اور قانونی پہلو شامل ہوں۔
1. تعلیم اور شعور کی بیداری
دیہاتی عوام کو جدید طبی علاج کی اہمیت اور عطائی ڈاکٹروں کے خطرات کے بارے میں آگاہی دینا انتہائی ضروری ہے۔ حکومت اور سماجی تنظیمیں دیہات میں صحت کے حوالے سے ورکشاپس، سیمینارز اور کیمپس کا انعقاد کریں جہاں لوگوں کو بیماریوں کی درست شناخت اور علاج کی سائنسی اہمیت بتائی جائے۔
2. دیہی صحت کی سہولیات کی بہتر فراہمی
حکومت کو چاہیے کہ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت مراکز اور ہسپتال قائم کرے جہاں تربیت یافتہ ڈاکٹر، نرس اور دیگر طبی عملہ دستیاب ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ موبائل ہیلتھ یونٹس بھی چلائی جائیں تاکہ دور دراز علاقوں تک معیاری طبی سہولت پہنچائی جا سکیں
3. عطائی ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کارروائی
غیر قانونی طبی خدمات فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہیں پابند کیا جائے کہ بغیر لائسنس اور تعلیم کے کوئی علاج نہ کریں۔ یہ قدم مریضوں کی جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔
4. مقامی رہنماؤں اور مذہبی علماء کا کردار
دیہاتی معاشروں میں بزرگ، مذہبی رہنما اور جماعت کے قائدین کی بڑی عزت ہوتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ صحت کے حوالے سے مثبت پیغام دیں، عطائی ڈاکٹروں کے خلاف آگاہی پھیلائیں اور لوگوں کو جدید علاج کی طرف راغب کریں۔
5. دیہی نوجوانوں کی تربیت
نوجوانوں کو صحت کے میدان میں تعلیم دینے اور انہیں مقامی صحت ورکروں کے طور پر تربیت دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی میں مددگار بن سکیں۔ اس طرح عطائیوں کی جگہ صحت کے معیاری ورکروں سے بھر جائے گی۔
دیہات کے عطائی ڈاکٹرز کا مسئلہ صرف طبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک سماجی اور تعلیمی بحران بھی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو گا جب تک دیہات میں معیاری صحت کی سہولیات فراہم نہ کی جائیں اور لوگوں کے شعور میں اضافہ نہ کیا جائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دیہی علاقوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کریں تاکہ ہر انسان کو بروقت اور محفوظ علاج مل سکے۔
اگر دیہاتی عوام کو جدید اور معیاری علاج کی سہولت مل جائے اور عطائی ڈاکٹروں کی غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جائے، تو یقیناً دیہات میں صحت کا نظام بہتر ہو سکتا ہے اور لاکھوں جانیں بھی محفوظ ہوں جائیں گی۔ تب ہی ہمارا ملک ایک صحت مند اور خوشحال سماج کی طرف گامزن ہو سکے گا۔
مزید پڑھیں






