جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

باپ کے جانے کے بعد دنیا بدل جاتی ہے،تحریر: مہر بشارت صدیقی

نقطہ نظر

باپ صرف ایک رشتے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی چھت ہے جس کے سائے میں اولاد خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے۔ باپ گھر کی وہ مضبوط دیوار ہوتا ہے جس کے ہوتے ہوئے زمانے کی سختیاں بھی کم محسوس ہوتی ہیں۔ اولاد کے سر پر باپ کا ہاتھ ہو تو اسے زندگی کی بہت سی پریشانیوں کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اگر دنیا میں کوئی مشکل پیش آگئی، کوئی راستہ بند ہوگیا، کوئی سہارا چھن گیا تو ایک شخص ایسا ضرور ہے جو اس کے لیے ہر مشکل کا مقابلہ کرے گا۔ وہ شخص باپ ہوتا ہے، جو اپنی تکلیف چھپا کر اولاد کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہے۔


لیکن زندگی کا سب سے تلخ سچ یہ ہے کہ جب تک باپ زندہ ہوتا ہے، اولاد کو اس کی قدر کا مکمل احساس نہیں ہوتا۔ باپ کی کمائی سے گھر چلتا ہے، اس کی محنت سے بچوں کی خواہشات پوری ہوتی ہیں، اس کی موجودگی سے رشتوں میں ایک وقار قائم رہتا ہے اور اس کے نام سے اولاد کو معاشرے میں ایک پہچان ملتی ہے۔ رشتہ داروں کی آمدورفت رہتی ہے، دوست احباب گھر کا رخ کرتے ہیں، خوشیوں میں شریک ہونے والے بہت سے لوگ دکھائی دیتے ہیں اور اولاد کو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہے۔


مگر جب یہی باپ دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو بعض اوقات زندگی کی حقیقتیں ایک ایک کرکے سامنے آنے لگتی ہیں۔ وہی گھر جہاں کبھی رونقیں ہوا کرتی تھیں، خاموشی کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ وہی اولاد جو کبھی باپ کے سائے میں بے فکر ہوکر زندگی گزارتی تھی، اچانک ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ گھر کے اخراجات، تعلیم، روزگار، بہن بھائیوں کی ضروریات اور مستقبل کی فکریں اسے احساس دلاتی ہیں کہ جس شخص کو وہ محض گھر کا سربراہ سمجھتی تھی، درحقیقت وہ پورے خاندان کا سہارا تھا۔


سوال یہ ہے کہ باپ کے جانے کے بعد بعض رشتے کیوں بدل جاتے ہیں؟ وہ دوست جو کبھی ہر وقت ساتھ رہنے کا دعویٰ کرتے تھے، مشکل وقت میں دور کیوں ہو جاتے ہیں؟ وہ رشتہ دار جو خوشیوں میں شریک ہونے کے لیے سب سے آگے ہوتے تھے، پریشانیوں کے دنوں میں خاموش کیوں ہو جاتے ہیں؟ کیا رشتوں کی بنیاد صرف خوشحالی، دولت اور معاشرتی حیثیت پر قائم ہوتی ہے؟ کیا انسان کی عزت اس کی شخصیت سے زیادہ اس کے مالی حالات سے وابستہ ہو چکی ہے؟


یقیناً تمام رشتے ایسے نہیں ہوتے۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو مشکل وقت میں اپنے پیاروں کا ہاتھ تھامتے ہیں، یتیم بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں اور کسی مفاد کے بغیر دوسروں کے دکھ بانٹتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض لوگ رشتوں کو محبت کے بجائے فائدے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب تک کسی شخص سے کوئی فائدہ حاصل ہو رہا ہو، اس کی قدر کی جاتی ہے، اور جب وہ فائدہ ختم ہو جائے تو تعلقات میں بھی سرد مہری آنے لگتی ہے۔


باپ کی وفات کے بعد اولاد کو صرف ایک انسان کی جدائی کا دکھ نہیں سہنا پڑتا، بلکہ اسے اس تحفظ، اعتماد اور سہارے کی کمی بھی محسوس ہوتی ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر اس کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ باپ کی موجودگی میں اولاد کو کسی تقریب میں جانے، کسی رشتے دار سے ملنے یا کسی مشکل کا سامنا کرنے میں ایک اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ باپ کے بعد یہی اولاد بعض اوقات معمولی معاملات میں بھی خود کو تنہا محسوس کرتی ہے۔ اس کے مسائل سننے والے کم ہو جاتے ہیں، اس کی خاموشی سمجھنے والے کم رہ جاتے ہیں اور اس کے دکھ میں شریک ہونے والے بھی محدود ہو جاتے ہیں۔


زندگی کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ جب تک انسان باپ کی کمائی پر زندگی گزارتا ہے، اسے پیسے کی اصل قدر کا اندازہ نہیں ہوتا۔ خواہش پوری کرنا آسان لگتا ہے، خرچ معمولی محسوس ہوتا ہے اور زندگی کی سہولتیں اپنا حق معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن جب یہی اولاد خود کمانے لگتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایک روپیہ کمانے کے لیے کتنی محنت، کتنی قربانی اور کتنی پریشانی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ بجلی کا بل، بچوں کی فیس، گھر کا راشن، علاج معالجہ اور روزمرہ کے اخراجات اسے سمجھا دیتے ہیں کہ باپ کی کمائی محض پیسہ نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے ایک عمر کی محنت، اپنی خواہشات کی قربانی اور خاندان کے لیے بے شمار خاموش جدوجہد چھپی ہوئی تھی۔


تب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ باپ نے خود کتنی بار اپنی ضرورتیں نظرانداز کیں تاکہ اس کی اولاد کی خواہش پوری ہو سکے۔ اس نے کتنی بار اپنی پریشانی چھپائی تاکہ بچوں کے چہروں پر مایوسی نہ آئے۔ کتنی مرتبہ تھکن کے باوجود کام پر گیا، کتنی بار اپنی خواہشات کو قربان کیا اور کتنے دکھ اپنے سینے میں دفن کیے، صرف اس لیے کہ اس کے بچوں کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔


ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اکثر زندہ رشتوں کی قدر ان کے بچھڑ جانے کے بعد کرتے ہیں۔ باپ کے ہوتے ہوئے اس کی نصیحتیں بوجھ محسوس ہوتی ہیں، اس کی روک ٹوک بری لگتی ہے اور اس کی محنت معمول کی بات دکھائی دیتی ہے۔ لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو اس کی آواز سننے کو دل ترستا ہے، اس کی ڈانٹ بھی محبت محسوس ہونے لگتی ہے اور اس کی موجودگی کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔


ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ باپ کی وفات کے بعد اولاد کی عزت، اس کا مقام اور اس کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہو جاتیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خاندان، رشتہ داروں اور دوستوں کو پہلے سے زیادہ محبت، تعاون اور خلوص کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کسی یتیم بچے کے سر پر ہاتھ رکھنا، کسی پریشان خاندان کی مدد کرنا اور کسی تنہا انسان کو حوصلہ دینا محض احسان نہیں بلکہ انسانیت کی پہچان ہے۔


معاشرے کو یہ سوچنا ہوگا کہ رشتے صرف خوشیوں کے ساتھی بننے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ اصل رشتے وہ ہیں جو مشکل وقت میں بھی ساتھ نبھاتے ہیں۔ اگر کسی شخص کے مالی حالات بدل جائیں، اس کا سہارا چھن جائے یا اس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے تو اسے تنہا چھوڑ دینا رشتوں کی روح کے خلاف ہے۔


باپ کی اصل قدر اس کی زندگی میں کیجیے، کیونکہ قبر پر پھول رکھنے سے زیادہ ضروری ہے کہ زندگی میں اس کے چہرے پر مسکراہٹ سجائی جائے۔ اس کی محنت کو پہچانیے، اس کی قربانیوں کو سمجھیے اور اس کی موجودگی کو اللہ تعالیٰ کی نعمت جانیے۔


اور جن لوگوں کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے، انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ زندگی کی مشکلات انسان کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط بھی بناتی ہیں۔ اپنے والد کی تربیت، محنت اور دی ہوئی اقدار کو اپنی طاقت بنائیے۔ رشتوں کی بے رخی سے دل شکستہ ہونے کے بجائے اپنے کردار کو اتنا مضبوط بنائیے کہ آپ کی پہچان کسی کے سہارے کی محتاج نہ رہے۔


کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ باپ باپ ہوتا ہے، اس کا نعم البدل کوئی نہیں۔ اس کی موجودگی میں زندگی آسان محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے جانے کے بعد انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک شخص نہیں، بلکہ ایک پورا جہان تھا۔


اللہ تعالیٰ تمام مرحوم والدین کی مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور جن کے والدین حیات ہیں، انہیں ان کی قدر کرنے اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔