Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچوں کا مستقبل محفوظ کریں،تحریر: قیصر چوہدری

نقطہ نظر

بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی معصوم آنکھوں میں آنے والے کل کے خواب، ان کے ننھے قدموں میں قوم کی ترقی اور ان کی تربیت میں ایک بہتر معاشرے کی بنیاد پوشیدہ ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ زیادتی، ہراسانی، تشدد اور استحصال کے واقعات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔


سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات بچے اپنے ہی جاننے والوں یا قریبی حلقے میں غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ ’’اجنبی سے بات نہ کرنا‘‘ بلکہ انہیں مناسب اور نامناسب لمس، ذاتی حدود اور مشکوک رویے کے بارے میں بھی عمر کے مطابق سادہ الفاظ میں آگاہ کریں۔ بچے کو یہ اعتماد دینا بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص اسے خوف زدہ کرے، دھمکائے یا نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش کرے تو وہ بلاخوف اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتا سکتا ہے۔


ہمیں اپنی تربیت میں ایک اہم تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو خاموش رہنے کے بجائے بولنے کا حوصلہ دینا ہوگا۔ اکثر بچے شرمندگی، خوف یا ڈانٹ کے ڈر سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کسی کو نہیں بتاتے۔ اگر والدین بچے کی ہر بات توجہ سے سنیں اور اس کے سوالات کو نظرانداز نہ کریں تو بچہ مشکل صورتِ حال میں مدد طلب کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔


اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہمارے تعلیمی اداروں سے بھی متعلق ہے۔ اسکولوں میں بچوں کے تحفظ کے واضح اصول ہونے چاہئیں، اساتذہ اور عملے کی مناسب تربیت ہونی چاہیے اور شکایت کی صورت میں ایسا محفوظ نظام موجود ہونا چاہیے جہاں بچہ یا والدین بلاخوف اطلاع دے سکیں۔ بچوں کی حفاظت محض ایک تقریر یا آگاہی مہم کا موضوع نہیں بلکہ مستقل ادارہ جاتی ذمہ داری ہے۔


میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی خبر دیتے ہوئے متاثرہ بچے کی شناخت اور عزتِ نفس کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ سنسنی پھیلانے کے بجائے عوام کو یہ بتایا جائے کہ والدین کیا احتیاط کریں، بچے کو کس طرح اعتماد دیں اور کسی واقعے کی صورت میں قانونی و حفاظتی مدد کیسے حاصل کی جائے۔


لیکن صرف قوانین بنا دینا کافی نہیں۔ اصل ضرورت قانون پر مؤثر عمل درآمد، بروقت شکایت، شفاف تفتیش اور متاثرہ بچے اور اس کے خاندان کو مناسب تحفظ و معاونت فراہم کرنے کی ہے۔ جب معاشرے میں یہ احساس مضبوط ہوگا کہ بچوں کے خلاف جرم چھپایا نہیں جائے گا بلکہ ذمہ داری کے ساتھ رپورٹ کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی تو جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔


ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی بچے کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذمہ دار خود بچہ نہیں ہوتا۔ اسے الزام، شرمندگی یا خاموشی کا بوجھ دینا مسئلے کو مزید سنگین کر سکتا ہے۔ ایسے بچے کو سب سے پہلے تحفظ، محبت، اعتماد اور مناسب پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔


آج ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، محلوں، مساجد، کھیل کے میدانوں اور معاشرتی اداروں میں بچوں کے تحفظ کو ترجیح دینا ہوگی۔ والدین بچوں کو وقت دیں، ان کی بات سنیں، ان کے رویوں میں اچانک آنے والی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لیں اور انہیں یہ یقین دلائیں کہ:


’’تم ہمیں ہر بات بتا سکتے ہو، ہم تمہیں سنیں گے۔‘‘


ایک محفوظ معاشرہ وہ نہیں جہاں جرائم کی خبریں صرف کم دکھائی دیں؛ محفوظ معاشرہ وہ ہے جہاں بچے خوف کے بغیر اپنی زندگی گزار سکیں، اپنی بات کہہ سکیں اور بڑوں کو ان کی حفاظت کی ذمہ داری کا احساس ہو۔


بچوں کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ جس معاشرے کا بچپن محفوظ نہ ہو، اس کا مستقبل بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL