جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچوں پر تشدد اور ہماری معاشرتی بے حسی،تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

بچہ جب اس دُنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اسے سب سے پہلے محبت، تحفظ اور شفقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین کی آغوش اس کے لیے دُنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ ہونی چاہیے، مگر ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ بعض بچوں کے لیے یہی پناہ گاہ خوف، مارپیٹ اور ذہنی اذیت کا مرکز بن جاتی ہے۔ کہیں معمولی غلطی پر بچے کے گال پر تھپڑ رسید کیا جاتا ہے، کہیں کم نمبر لانے پر اسے ذلیل کیا جاتا ہے اور کہیں غربت کے ہاتھوں مجبور معصوم بچوں سے اُن کی عمر سے بڑھ کر کام لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان معصوم بچوں کا قصور کیا ہے؟ اور وہ کون سے نفسیاتی عوامل ہیں جو بعض بڑوں کو بچوں پر تشدد کرنے پر آمادہ کرتے ہیں؟گھروں سے تعلیمی اداروں تک پھیلے ہوئے بچوں پر تشدد کے واقعات، ہماری معاشرتی اوراجتماعی بے حسی کا ثبوت ہیں۔


پاکستانی معاشرے میں مہنگائی، بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور گھریلو مسائل نے بہت سے خاندانوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ان حالات میں ذہنی دباؤ کا شکار ہونا فطری بات ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے مسائل کا غصہ ان بچوں پر نکالنے لگتا ہے جو ان مشکلات کے ذمہ دار ہی نہیں ہوتے۔تصور کیجیے، ایک باپ سارا دن روزگار کی تلاش میں خوار ہونے کے بعد گھر لوٹتا ہے۔ گھر کے اخراجات پورے کرنے کی فکر اسے پہلے ہی پریشان کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں اگر بچہ شور مچا دے یا کوئی چیز توڑ بیٹھے تو باپ اپنا غصہ کو قابو میں رکھنے کے بجائے اسے مارنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ جذبات پر قابو نہ پانے اور کمزور پر طاقت آزمانے کی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔ معاشی پریشانیاں یقیناً حقیقی ہیں، لیکن وہ بچوں پر تشدد کا جواز نہیں بن سکتیں۔


بچوں پر تشدد کی ایک اہم نفسیاتی وجہ تشدد کا نسل در نسل منتقل ہونا بھی ہے۔ ہمارے ہاں اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ”ہم بھی بچپن میں مار کھاتے تھے، تبھی انسان بنے ہیں۔“ یہ سوچ اس خطرناک تصور کو جنم دیتی ہے کہ جسمانی سزا بچوں کی تربیت کا لازمی حصہ ہے۔جو شخص اپنے بچپن میں مسلسل مارپیٹ، تذلیل اور خوف کا سامنا کرتا رہا ہو، وہ بعض اوقات انہی رویّوں کو معمول سمجھنے لگتا ہے۔ چنانچہ جب وہ خود والدین بننے کی عمرکو پہنچتا ہے تو اپنے بچوں کے ساتھ بھی وہی سلوک دہرا سکتا ہے۔ یوں تشدد ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے لگتا ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ بچپن میں تشدد سہنے والا ہر شخص مستقبل میں تشدد کرنے والا نہیں بنتا۔ محبت، تعلیم اور نفسیاتی معاونت اس سلسلے کو توڑ سکتی ہیں۔


ہمارے معاشرے میں بچے کی ذہانت اور قابلیت کو اکثر اس کے امتحانی نمبروں سے ناپا جاتا ہے۔ اچھے نمبر لانے پر تعریف اور کم نمبر آنے پر ڈانٹ ڈپٹ، دوسروں سے موازنہ اور بعض اوقات جسمانی سزا معمول بنتی جا رہی ہے۔ والدین یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بچے کی ذہنی صلاحیت، سیکھنے کی رفتار اور دلچسپیاں مختلف ہوتی ہیں۔جب ایک طالب علم امتحان میں توقع سے کم نمبر حاصل کرتا ہے اور اسے گھر پہنچتے ہی یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ نکما، نالائق یا خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث ہے تو اس کی خود اعتمادی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ مسلسل تذلیل بچے میں خوف، احساسِ کمتری اور تعلیمی بے دلی پیدا کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چند نمبروں کی خاطر بچے کا ذہنی سکون قربان کر دینا دانش مندی ہے؟ تعلیم کا مقصد شخصیت سنوارنا ہے، اسے خوف زدہ کرنا نہیں۔


بعض افراد اضطراب یا شدید ذہنی دباؤ یا پھر جذبات پر قابو پانے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب نفسیاتی مدد اور خاندانی تعاون میسر نہ ہو تو بچوں کی عام شرارتیں بھی ان کے لیے ناقابلِ برداشت بن سکتی ہیں۔ تاہم، ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کو تشدد سے جوڑ دینا درست نہیں؛ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ضرورت مند افراد کو بروقت مدد فراہم کی جائے۔اس کے ساتھ ہمدردی کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بعض والدین بچوں کے احساسات کو اہمیت نہیں دیتے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے لیے خوف، دھمکی اور تذلیل کا سہارا لیتے ہیں۔ کسی بچے کو بار بار یہ کہنا کہ وہ کسی کام کا نہیں، اس کی بات کو مسلسل نظر انداز کرنا یا اسے دوسروں کے سامنے ذلیل کرنا بھی جذباتی تشدد ہے۔ جسمانی زخم وقت کے ساتھ بھر سکتے ہیں، لیکن بعض الفاظ کے زخم بچے کی شخصیت پر طویل عرصے تک اثر انداز رہتے ہیں۔


پاکستان میں غربت اور معاشی ناہمواری بھی بچوں کے تحفظ کے مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہیں۔ بعض کم عمر بچے گھریلو ملازمت یا دوسرے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں، جہاں انہیں سخت رویّے، تذلیل اور بعض اوقات جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسی گھر میں کام کرنے والے بچے سے برتن ٹوٹ جانے پر مارپیٹ کرنا یا معمولی غلطی پر اسے کھانے سے محروم رکھنا محض سختی نہیں، بلکہ اس کی عزت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔یہاں مسئلہ صرف غربت نہیں، بلکہ طاقت کا ناجائز استعمال اور اس تصور کی موجودگی بھی ہے کہ کمزور انسان کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کیا جا سکتا ہے۔ معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو، اس کی عزت، سلامتی اور تحفظ یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔


بچوں پر تشدد کی روک تھام صرف قوانین بنانے سے ممکن نہیں؛ اس کے لیے سوچ اور رویّوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ والدین کو یہ سکھانا ہوگا کہ بچوں کی تربیت مارپیٹ کے بجائے محبت، مکالمے، صبر اور مثبت نظم و ضبط سے بھی کی جا سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا کے بجائے رہنمائی اور مشاورت کو فروغ دینا چاہیے۔ ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی آسان بنانے، بچوں کے تحفظ کے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے اور تشدد کے واقعات کی محفوظ رپورٹنگ کے نظام کو مؤثر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ذرائع ابلاغ، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ والدین کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ بچوں کی غلطی پر ان کی اصلاح کرنا تربیت ہے، مگر انہیں خوف زدہ کرنا، ذلیل کرنا یا جسمانی اذیت دینا ان کی شخصیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔


ہم اکثر کہتے ہیں کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں، لیکن کیا ہم واقعی ان کے مستقبل کی حفاظت کر رہے ہیں؟ اگر گھر میں بچہ خوف زدہ ہو، اسکول میں عدم تحفظ کا شکار ہو اور معاشرے میں اس کی آواز سننے والا کوئی نہ ہو تو اس کی شخصیت اعتماد، محبت اور احساسِ تحفظ سے کیسے پروان چڑھے گی؟بچے ہمارے صبر کا امتحان لینے کے لیے پیدا نہیں ہوتے، بلکہ انہیں ہماری رہنمائی، شفقت اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی غلطیوں کو تشدد سے نہیں، حکمت اور محبت سے درست کیا جا سکتا ہے۔


یاد رکھیے، بچے کو مار کر خاموش تو کرایا جا سکتا ہے، لیکن اُس کے دل میں پیدا ہونے والے خوف کو ختم کرنا آسان نہیں۔ اگر ہم ایک پُرامن، مہذب اور مضبوط پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گھروں میں بچوں کے لیے امن قائم کرنا ہوگا، کیونکہ جس معاشرے میں بچپن محفوظ نہ ہو، وہاں مستقبل بھی غیر محفوظ رہتا ہے۔