Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بدزبانی اور ناشکری ،گھریلو زندگی کا دیمک،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ہے اور خاندان کا محور وہ چھت ہے جسے ہم گھر کہتے ہیں۔ اینٹ، گارے، سیمنٹ اور قیمتی ساز و سامان سے سجائی گئی عمارتیں درحقیقت مکان ہوتی ہیں، جبکہ گھر باہمی اپنائیت، جذباتی تحفظ اور شائستہ رویوں سے وجود پاتا ہے۔ جب تک اس چاردیواری کے اندر محبت، پاسِ خاطر اور شکر گزاری کی روشنی رہتی ہے، یہ دنیا کی تمام پریشانیوں سے پناہ دینے والی سب سے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج ہمارے بیشتر گھرانوں کو بیرونی خطرات سے زیادہ اندرونی زوال کا سامنا ہے۔ یہ زوال کسی بڑے حادثے کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ کے منفی رویے، تلخ جملے اور مسلسل بے قدری اسے اندر ہی اندر چاٹ جاتی ہے۔ ان منفی عادات میں بدزبانی اور ناشکری وہ زہریلے کیڑے ہیں جو دیمک کی مانند خاموشی کے ساتھ گھریلو زندگی کے مضبوط ستونوں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ بظاہر سلامت نظر آنے والا رشتہ ایک معمولی جھٹکے سے زمیں بوس ہو جاتا ہے۔

یہ سوال انتہائی غور طلب ہے کہ آخر شریکِ حیات کے درمیان یہ تلخی کیسے اور کیوں در آتی ہے۔ کوئی بھی انسان شعوری طور پر اپنے سکون کو برباد کرنا نہیں چاہتا، مگر لاشعوری تربیت اور نفسیاتی محرکات اس بگاڑ کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اگر مردوں کے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے معاشرے کی مخصوص ساخت ان کے مزاج میں ایک خاص قسم کی حاکمیت اور غیر لچکدار سختی پیدا کر دیتی ہے۔ بچپن سے دی جانے والی یہ غلط پٹی کہ مرد کو ہر حال میں برتر اور سخت گیر نظر آنا چاہیے، اس کی انا کو غیر متوازن بنا دیتی ہے۔ وہ معافی مانگنے، جھک جانے یا نرمی کا مظاہرہ کرنے کو اپنی مردانگی کی توہین سمجھنے لگتا ہے۔ اس پر مستزاد معاشی دوڑ، روزگار کی الجھنیں اور مہنگائی کا وہ بھیانک بوجھ ہے جو مرد کے اعصاب کو چٹخا کر رکھ دیتا ہے۔ بدقسمتی سے، باہر کے اس شدید دباؤ، خوف اور بے بسی کو مثبت انداز میں سنبھالنے کے بجائے بیشتر مرد گھر کی چوکھٹ پار کرتے ہی اپنی تلخی کا نشانہ اہل خانہ کو بناتے ہیں۔ وہ اپنے رعب اور غلبے کے اظہار کے لیے سخت کلامی اور تحقیر آمیز لہجہ اختیار کرتے ہیں اور یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ خوف کے بل بوتے پر ہی نظام چلایا جا سکتا ہے، جبکہ سچ یہ ہے کہ خوف سے بزدلی پیدا ہو سکتی ہے، احترام نہیں۔

دوسری طرف عورت کے منفی رویے کے محرکات بھی گہرے نفسیاتی اور معاشرتی تناظر کے حامل ہیں۔ عورت فطری طور پر ہمدردی، گفتگو اور اعتراف کی پیاسی ہوتی ہے۔ جب وہ صبح سے رات تک گھریلو کام کاج، چولہے کی تپش اور بچوں کی نگہداشت میں اپنی صلاحیتیں جھونک دیتی ہے، مگر اس کے جواب میں داد و تحسین کا ایک کلمہ سننے کو بھی ترستی رہے، تو اس کے اندر گھٹن جنم لیتی ہے۔ جب قربانیوں کو فرض کا نام دے کر نظرانداز کر دیا جائے تو دل میں تلخی کی گرہیں پڑنے لگتی ہیں۔ اس پر جب سوشل میڈیا کے نام نہاد پرفیکٹ طرزِ زندگی اور مادی آسائشوں کا اپنے حالات سے غیر حقیقی موازنہ شامل ہو جائے، تو قناعت کی جگہ ناشکری اور حسرتیں لے لیتی ہیں۔ یہ ناشکری آہستہ آہستہ زبان کے ذائقے کو بدل دیتی ہے اور روزمرہ گفتگو میں طعنوں، شکووں اور ترش روئی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یوں دونوں طرف سے ایک ایسا ناپسندیدہ ردعمل شروع ہوتا ہے جس میں مرد کی سختی عورت کو مزید چڑچڑا بناتی ہے اور عورت کے شکوے مرد کے غصے کو مزید بھڑکا دیتے ہیں۔

بدزبانی اور ناشکری کے گھریلو فضا پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ انتہائی تباہ کن ہیں۔ تیر اور تلوار کے زخم تو وقت گزرنے کے ساتھ مندمل ہو جاتے ہیں مگر زبان کے زخم روح کی گہرائیوں میں زندگی بھر رِستے رہتے ہیں۔ جس گھر میں صبح و شام ایک دوسرے کی تذلیل کی جائے اور وسائل کی کمی کا رونا رویا جائے، وہاں سے روحانی برکت، دلی اطمینان اور باہمی کشش ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتی ہے۔ سب سے بھیانک اور دردناک تاوان وہ معصوم بچے چکاتے ہیں جو اس میدانِ جنگ میں پرورش پاتے ہیں۔ والدین کی چیخ و پکار، توہین آمیز الفاظ اور تلخ چہرے دیکھ کر پلنے والی نسل شدید احساسِ کمتری، خوف، جھجھک یا خود جارحیت کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ وہ بچے زندگی بھر پر اعتماد شخصیت نہیں بن پاتے اور آگے چل کر ان کے اپنے تعلقات بھی انہی تلخیوں کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے رشتوں کا یہی بگڑا ہوا نمونہ اپنے سامنے دیکھا ہوتا ہے۔

اس دیمک سے نجات حاصل کرنے اور اپنے گھر کو دوبارہ جنت نظیر بنانے کے لیے کسی معجزے کی نہیں بلکہ باہمی احساسِ ذمہ داری اور کردار کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اور نہ ہی رشتہ انا کی جنگ کا میدان ہوتا ہے جہاں ایک کو جھکا کر دوسرے کو جیتنا ہو۔ اس خوش گوار فضا کی بحالی کے لیے مرد اور عورت دونوں کو اپنے روایتی ہٹ دھرمی کے حصار سے باہر نکلنا ہو گا۔ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر اپنے لہجے میں شفقت، ملاطفت اور بردباری لائے۔ وہ سمجھ لے کہ وہ گھر کا حاکم نہیں بلکہ پاسبان اور کفیل ہے۔ باہر کے مسائل اور تھکن کا غبار گھر کے آنگن پر جھاڑنے کے بجائے اپنے شریکِ حیات کے کاموں کی کھل کر تعریف کرے اور محبت کا اظہار کرے۔ تعریف کے دو بول اور تھکاوٹ پر ہمدردی کا ایک جملہ عورت کے پورے دن کی مشقت کو پل بھر میں زائل کر دیتا ہے۔

اسی طرح عورت کے کندھوں پر بھی یہ بھاری اخلاقی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ قناعت، شکر گزاری اور وقار کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی محنت اور تگ و دو کی قدر کرے، چاہے حالات کتنے ہی تنگی کا شکار کیوں نہ ہوں۔ غیروں کی چمک دمک کو دیکھ کر اپنے گھر کے دیئے کی بے قدری کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ اپنی زبان کو طعنوں اور بیزاری سے پاک کر کے جب عورت مسکراہٹ اور شیریں کلامی سے اپنے شریکِ سفر کا استقبال کرتی ہے، تو مرد باہر کے سخت ترین طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی نئی طاقت پاتا ہے۔ اگر دونوں فریق یہ عزم کر لیں کہ اختلاف کی صورت میں غصے پر قابو رکھیں گے، آواز اونچی کرنے کے بجائے دلیل اور احترام سے بات کریں گے اور خامیوں کو نظرانداز کر کے خوبیوں پر شکر ادا کریں گے، تو کوئی دیمک ان کے گھر کے سکون کو نہیں چاٹ سکتی۔ خوشگوار زندگی محلات کی محتاج نہیں، یہ تو صرف دو نرم دلوں اور دو شائستہ زبانوں کے ملن کا خوبصورت نام ہے۔