بیٹی کے خوابوں کے قاتل کون؟ تحریر: ملک محمد شاکر بہاولپوری
نقطہ نظر
آخر بیٹی کا قصور کیا ہے کہ دنیا میں آنکھ کھولتے ہی بعض گھروں کی خوشیاں ماند پڑ جاتی ہیں؟ بیٹے کی پیدائش پر مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں، مبارک بادیں دی جاتی ہیں، لیکن بیٹی پیدا ہو تو بعض چہروں پر اداسی چھا جاتی ہے اور ماں تک کو طعنے سننے پڑتے ہیں۔ ذرا سوچیے! جس بچی نے ابھی بولنا بھی نہیں سیکھا، اسے کس جرم کی پاداش میں کم تر سمجھ لیا جاتا ہے؟ کیا اس نے خود اپنے لیے بیٹی ہونا منتخب کیا تھا؟ اگر نہیں، تو پھر اس سے نفرت کیسی اور اس کی پیدائش پر ماتم کیوں؟
اسلام نے اس ظالمانہ سوچ کو چودہ سو سال پہلے ہی مسترد کر دیا تھا۔ زمانۂ جاہلیت میں بعض لوگ بیٹی کی پیدائش کو باعثِ عار سمجھتے اور اسے زندہ درگور کر دیتے تھے۔ قرآنِ مجید نے ان کے اس سنگ دلانہ رویے کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: ’’اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ اس بری خبر کے باعث لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ آیا اسے ذلت کے ساتھ زندہ رکھے یا مٹی میں دبا دے۔ خبردار! بہت برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔‘‘ (سورۃ النحل: 58-59)
قرآن کے یہ الفاظ آج بھی ہمارے معاشرتی ضمیر پر دستک دے رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس زمانے میں بعض بچیوں کو مٹی میں دفن کیا جاتا تھا، جبکہ آج ان کے خواب، خواہشات، صلاحیتیں اور خود اعتمادی زندہ دفن کر دی جاتی ہیں۔ تب زمین کھودی جاتی تھی، آج امتیازی سلوک، تعلیم سے محرومی اور مسلسل طعنوں کے ذریعے ان کی شخصیت کو زخمی کیا جاتا ہے۔ طریقے بدل گئے، مگر سوچ کا المیہ اب بھی زندہ ہے۔
ذرا ان گھروں کا تصور کیجیے جہاں بیٹے کے لیے مہنگا لباس خریدا جاتا ہے، مگر بیٹی کی ضرورت فضول خرچی سمجھی جاتی ہے؛ جہاں بیٹے کی تعلیم مستقبل میں سرمایہ کاری اور بیٹی کی تعلیم بے فائدہ خرچ قرار پاتی ہے؛ جہاں بیٹے کی غلطی معاف کر دی جاتی ہے، مگر بیٹی کی معمولی لغزش پر اس کی عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے۔ کیا یہ انصاف اور تربیت ہے؟ کیا ایسے رویوں کے ساتھ ایک مہذب اسلامی معاشرے کا خواب دیکھا جا سکتا ہے؟
یاد رکھیے! بیٹی بھی اسی رب کی عطا ہے جس نے بیٹا عطا کیا۔ والدین اولاد کے انتخاب میں مختار نہیں، تو اپنی پسند کو اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر فوقیت دینے کا حق انہیں کس نے دیا؟ بیٹی کی پیدائش پر ماں کو طعنے دینے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ بچے کی جنس اس کے اختیار میں نہیں؟ پھر اسے اس معاملے میں قصوروار ٹھہرا کر اس کے دل پر زخم کیوں لگائے جاتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کو باعثِ اجر و فضیلت قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے دو لڑکیوں کی بلوغت تک کفالت و پرورش کی، وہ قیامت کے دن آپ ﷺ کے ساتھ ہوگا، اور یہ فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ملائیں۔ (صحیح مسلم)
غور کیجیے! جس بیٹی کو بعض لوگ بوجھ سمجھتے ہیں، اس کی محبت بھری پرورش کو نبی کریم ﷺ نے اپنی قربت کی بشارت سے وابستہ فرمایا۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم جاہلیت کی باقیات کو اپناتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو۔
صنفی تفریق صرف اخلاقی برائی نہیں، بلکہ بچوں کے مستقبل پر بھی کاری ضرب ہے۔ جب کسی بچی کو بار بار احساس دلایا جائے کہ وہ اپنے بھائی سے کم اہم ہے تو اس میں احساسِ محرومی، خوف اور خود اعتمادی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس محبت، عزت اور مساوی مواقع اسے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد سکھاتے ہیں۔ والدین کی ذمہ داری صرف خوراک اور چھت فراہم کرنا نہیں، بلکہ بچوں کو تحفظ، احترام اور روشن مستقبل کی امید دینا بھی ہے۔
آئیے، اپنے گریبانوں میں جھانکیں! اگر ہمارے گھر میں بیٹے کے لیے خوشی اور بیٹی کے لیے خاموشی ہے تو ہمیں اپنی سوچ کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ اگر بیٹے کو خواب دیکھنے کا حق اور بیٹی کے خوابوں پر پہرے ہیں تو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اگر ہم بیٹے کی کامیابی پر فخر اور بیٹی کی قابلیت کو نظرانداز کرتے ہیں تو اپنے انصاف کا معیار بدلنا ہوگا۔
بیٹی بوجھ نہیں، اللہ تعالیٰ کی عطا ہے؛ شرمندگی نہیں، عزت کی مستحق ہے؛ محرومی نہیں، بلکہ محبت، تعلیم اور روشن مستقبل کی حق دار ہے۔
جس معاشرے میں بیٹی کی پیدائش پر ماتم اور بیٹے کی پیدائش پر جشن منایا جائے، اسے دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑا ہونا چاہیے۔ قوموں کی عظمت بلند عمارتوں، دولت کے انباروں اور دعوؤں سے نہیں، بلکہ اس انصاف سے پہچانی جاتی ہے جو وہ اپنے کمزور ترین فرد کو فراہم کرتی ہیں۔
آج عہد کیجیے کہ ہمارے گھروں میں بیٹی اور بیٹے کے درمیان محبت، عزت اور مواقع کی بنیاد پر ناانصافی نہیں ہوگی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم زبان سے اسلام کی سربلندی کے نعرے لگاتے رہیں، مگر ہمارے اپنے گھروں میں بیٹی کی آنکھوں سے گرتے آنسو ہماری تمام دعوے داریوں پر سوالیہ نشان بن جائیں!
مزید پڑھیں





