بیٹی کی تعلیم قوم کا مستقبل ہے،تحریر:عظمیٰ شیخ
نقطہ نظریہ کیسا المیہ ہے کہ جس ہاتھ میں قوم کی تقدیر کا قلم ہونا چاہیے تھا، ہم آج بھی اسی ہاتھ کو تعلیم سے محروم رکھنے کے بہانے تراش رہے ہیں۔ آج بھی ہمارے کئی گھروں میں بیٹے کی تعلیم کو سرمایہ کاری اور بیٹی کی تعلیم کو فضول خرچی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
مجھے اکثر کہا جاتا ہے کہ لڑکی نے پڑھ لکھ کر کرنا کیا ہے؟ آخر اس نے گھر ہی تو سنبھالنا ہے۔ میں مسکرا کر جواب دیتی ہوں، ہاں! اسی لیے تو اسے پڑھانا زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ اس نے گھر جیسی عظیم سلطنت کو سنبھالنا ہے۔ اس نے ایک نسل کو پروان چڑھانا ہے۔ ایک جاہل ماں ایک بیمار معاشرے کو جنم دیتی ہے اور ایک تعلیم یافتہ ماں ایک صحت مند تہذیب کی بنیاد رکھتی ہے۔
افریقہ کے عظیم مفکر ڈاکٹر اگگری کا وہ قول آج حرفِ آخر ہے کہ "ایک مرد کو تعلیم دینا ایک فرد کو تعلیم دینا ہے، لیکن ایک عورت کو تعلیم دینا ایک پورے خاندان کو تعلیم دینا ہے۔"
ہمارا دین تو اس سے بھی آگے ہے۔ اسلام نے عورت کی تعلیم پر کوئی احسان نہیں کیا، اسے اس کا بنیادی حق قرار دیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی "اِقرا" مرد و زن دونوں کے لیے تھی۔ اور نبی کریم ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 224]
ہم اسلام کی تاریخ کو کیوں بھول جاتے ہیں؟ کیا ہماری تاریخ میں تعلیم یافتہ خواتین کی کمی ہے؟
ذرا سوچیے!
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دیکھیے۔ وہ عرب کی سب سے بڑی کاروباری خاتون تھیں۔ [سیرت ابن ہشام] انہوں نے ثابت کیا کہ عورت چادر اور چار دیواری میں رہ کر بھی تجارت کر سکتی ہے، معیشت چلا سکتی ہے۔ وہ صرف ایک بیوی نہیں ایک بہترین مشیر اور معاشی سہارا تھیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھیے۔ 2210 احادیث کی راویہ بڑے بڑے صحابہ جن کے دروازے پر آ کر زانوئے تلمذ تہہ کرتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ ہمیں جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رجوع کرتے۔ [جامع ترمذی: 3883] ایک عورت پوری امت کی یونیورسٹی بن گئی۔ کیا اس سے بڑی کوئی سند ہے؟
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہی دیکھ لیں جنہوں نے بتایا کہ اصل تعلیم کردار سازی کا نام ہے۔
تو پھر آج ہم اپنی بچیوں کو کیوں روکتے ہیں؟
آج ہمیں لیڈی ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، تو وہ کہاں سے آئیں گی؟ جب ہم اپنی بیٹیوں کو ڈاکٹر بننے ہی نہیں دیں گے۔ ہمیں باکردار معلمات کی ضرورت ہے، وہ کہاں سے آئیں گی؟
علامہ اقبال نے سچ کہا تھا:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اور حالی نے اسی درد کو یوں بیان کیا تھا:
ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے
میری اس کالم کے توسط سے دو گزارشات ہیں۔
پہلی گزارش میری بیٹیوں سے: میری بچیو! تعلیم کو اپنا زیور سمجھو۔ یہ وہ دولت ہے جو تم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ایسی تعلیم حاصل کرو جس میں ڈگری کے ساتھ ساتھ حیا بھی ہو، علم کے ساتھ ساتھ عمل بھی ہو اور جدیدیت کے ساتھ ساتھ دین بھی ہو۔ ایسی تعلیم جو تمہیں حضرت خدیجہ جیسی باہمت، حضرت عائشہ جیسی صاحبِ علم
اور حضرت فاطمہ جیسی حیا والی بنو ۔
دوسری گزارش والدین سے: خدارا اپنی بیٹیوں کے پر نہ کاٹیے ۔ ان پر اعتماد کیجیے۔ ان کی تعلیم پر لگنے والا ہر روپیہ صدقۂ جاریہ ہے۔ کل کو یہی بیٹی آپ کا فخر بنے گی۔
آپ کے بڑھاپے کا سہارا بنے گی، اور اس معاشرے کی اصلاح اور ترقی کا ذریعہ بنے گی۔
یاد رکھیے، جب ایک بیٹی قلم اٹھائےتو صرف اپنا مقدر نہیں لکھتی بلکہ پوری قوم کا مستقبل لکھتی ہے۔
مزید پڑھیں





