Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بیٹی کو پردہ سکھایا اور بیٹے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟تحریر : سیدہ شبانہ رضوی

نقطہ نظر
shabana rizvi

کسی بچی یا عورت کے ساتھ زیادتی ہوتی تو ہمارا پہلا سوال اکثر یہی ہوتا تھا:

"اس نے لباس کیسا پہن رکھا تھا؟"

ہم نے جانے کتنی بار مظلوم کے لباس کو مجرم اور مجرم کو بے قصور بنانے کی کوشش کی۔ جیسے کسی عورت یا بچی کا لباس کسی دوسرے انسان کو اس پر ظلم کرنے کا اختیار دے دیتا ہو۔

پھر کیمرے آئے، سی سی ٹی وی لگے اور بہت سے ایسے مناظر ہمارے سامنے آنے لگے جنہوں نے اس مفروضے کو توڑ دیا۔ ہم نے دیکھا کہ صرف مختصر لباس والی عورت ہی نشانہ نہیں بنتی؛ دوپٹے میں لپٹی ہوئی بھی محفوظ نہیں، چادر اوڑھنے والی بھی نہیں، حتیٰ کہ برقعے میں موجود عورت بھی ظلم سے محفوظ نہیں رہی۔

تو پھر سوال یہ ہے:

اگر لباس ہی وجہ تھا تو لباس بدلنے کے بعد بھی جرم کیوں نہیں رکا؟

اور آج یہ سوال صرف عورتوں تک محدود نہیں رہا۔ جب معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے ہیں تو دل کانپ جاتا ہے۔ وہ بچیاں جن کے ہاتھ میں گڑیا ہونی چاہیے، جن کی دنیا اسکول، کتابوں اور کھیل کے میدانوں تک محدود ہونی چاہیے، وہ درندگی کا شکار ہو رہی ہیں۔

تب دل پوچھتا ہے:

ہم بیٹیوں کو آخر کس چیز سے بچا رہے ہیں، اور بیٹوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟

ہم اپنی بیٹیوں کو بچپن سے سمجھاتے ہیں: اکیلی باہر مت جانا، اجنبی سے بات مت کرنا، لباس مناسب رکھنا، رات کو باہر مت نکلنا، کسی پر فوراً اعتبار مت کرنا، اپنی حفاظت کرنا۔

لیکن کیا ہم اپنے بیٹوں سے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے بات کرتے ہیں؟

کیا ہم انہیں بتاتے ہیں کہ کسی کی اجازت کے بغیر اسے چھونا غلط ہے؟

کیا ہم سمجھاتے ہیں کہ ہر انسان کو اپنے جسم اور ذاتی حدود پر اختیار حاصل ہے؟

کیا ہم انہیں سکھاتے ہیں کہ "نہیں" کا مطلب واقعی "نہیں" ہوتا ہے؟

کیا ہم انہیں بتاتے ہیں کہ کسی کمزور، چھوٹے یا خاموش انسان پر اپنی خواہش مسلط کرنا مردانگی نہیں، ظلم ہے؟

اور سب سے اہم سوال:

ہم بیٹی کو پردہ سکھاتے ہیں، بیٹے کو کیا سکھاتے ہیں؟

ہم بیٹی سے کہتے ہیں، "اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔"

مگر کیا ہم بیٹے سے بھی کہتے ہیں، "اپنی نگاہوں کی حفاظت کرو"؟

ہم بیٹی کو حیا کا درس دیتے ہیں، مگر کیا بیٹے کو بھی حیا کا مفہوم سمجھاتے ہیں؟

ہم بیٹی کو اپنے جسم کی حفاظت کرنا سکھاتے ہیں، مگر کیا بیٹے کو یہ بتاتے ہیں کہ دوسروں کے جسم، عزت اور حدود کا احترام بھی اس کی ذمہ داری ہے؟

اور تربیت تو بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے۔

جب ہمارا بیٹا اپنی بہن کا کھلونا چھینتا ہے اور ہم مسکرا کر کہتے ہیں، "لڑکے تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔"

جب وہ بہن کو دھکا دیتا ہے اور ہم اسے معمولی شرارت سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

جب وہ کسی لڑکی پر فقرہ کستا ہے اور دوستوں کے درمیان اسے "مردانگی" سمجھا جاتا ہے۔

جب وہ کسی لڑکی کی تصویر اس کی اجازت کے بغیر محفوظ یا شیئر کرتا ہے اور ہم کہہ دیتے ہیں، "بس مذاق ہے۔"

تب ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔

کیونکہ بعض اوقات غلط رویے اچانک جرم کی شکل اختیار نہیں کرتے۔ وہ چھوٹی چھوٹی بدتمیزیوں، حدود کی خلاف ورزیوں اور نظرانداز کی گئی شرارتوں کو "لڑکوں کی عادت" کہہ کر معاف کرنے سے پروان چڑھتے ہیں۔

اس لیے بیٹے کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ وہ خود محفوظ رہے۔ اسے یہ بھی سکھانا ہوگا کہ اس کی وجہ سے کوئی دوسرا غیر محفوظ نہ ہو۔

اسے سمجھانا ہوگا کہ طاقت کسی کمزور پر اختیار کا نام نہیں۔ اصل مردانگی کسی کو خوفزدہ کرنے میں نہیں بلکہ اسے تحفظ کا احساس دینے میں ہے۔ اصل طاقت کسی کی حد توڑنے میں نہیں بلکہ اپنی خواہش کو حدود میں رکھنے میں ہے۔

ہمیں اپنے بچوں سے ان موضوعات پر بات کرنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ انہیں جسمانی حدود، ذاتی جگہ، اچھے اور نامناسب لمس، رضامندی اور مدد لینے کے طریقے عمر کے مطابق سمجھانا ضروری ہے۔

اور صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "اجنبی سے بچنا۔"

کیونکہ خطرہ ہمیشہ اجنبی کی طرف سے نہیں ہوتا۔ کبھی وہ جان پہچان کا شخص بھی ہو سکتا ہے، کوئی رشتہ دار، پڑوسی یا ایسا فرد بھی جس پر بچہ اعتماد کرتا ہو۔

اسی لیے بچوں کو یہ یقین بھی دینا ہوگا کہ اگر کوئی انہیں ڈرائے، دھمکائے، نامناسب طریقے سے چھوئے یا کہے کہ "یہ بات کسی کو مت بتانا" تو وہ خاموش نہ رہیں۔

اور والدین کو انہیں یہ اعتماد دینا ہوگا:

"تم ہمیں کوئی بھی بات بتا سکتے ہو۔ ہم پہلے تمہیں سنیں گے، پھر تمہاری مدد کریں گے۔"

کیونکہ کبھی ایک بچے کی خاموشی کے پیچھے ایسا خوف چھپا ہوتا ہے جسے ہم نے سننے کی کوشش ہی نہیں کی ہوتی۔

اور اگر ہمارا بیٹا کوئی غلط حرکت کرے تو صرف یہ کہہ کر معاملہ ختم نہ کریں:

"بچہ ہے، غلطی ہو گئی۔"

کچھ رویے ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت پر روکنا ضروری ہوتا ہے۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے بچوں کی ہر غلطی پر پردہ ڈال دیں۔ کبھی کبھی بچے سے محبت کا سب سے مشکل اظہار یہی ہوتا ہے کہ ہم اسے روکیں، سمجھائیں، اصلاح کریں اور ضرورت پڑنے پر ماہرین سے مدد لیں۔

ہمیں اپنے بیٹوں کو صرف ڈاکٹر، انجینئر، افسر، کھلاڑی یا کامیاب انسان نہیں بنانا؛ ہمیں انہیں اچھا انسان بنانا ہے۔

ایسا انسان جو کسی کی خاموشی کو رضامندی نہ سمجھے۔

ایسا انسان جو کسی کی کمزوری سے فائدہ نہ اٹھائے۔

ایسا انسان جو طاقت رکھتے ہوئے بھی حدود کا احترام کرے۔

ایسا انسان جس کے سامنے کسی ماں کو اپنی بیٹی کے لیے خوف محسوس نہ ہو۔

ہمیں اپنی بیٹیوں کو پردہ، حیا اور احتیاط ضرور سکھانی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی اپنے بیٹوں کو بھی نگاہ کی حیا، زبان کی شرافت، ہاتھ کی حدود اور کردار کی ذمہ داری سکھانا ہوگی۔

کیونکہ محفوظ معاشرہ صرف بیٹیوں کو چھپا دینے سے نہیں بنتا، بلکہ ایسے بیٹے تیار کرنے سے بنتا ہے جن سے کسی کی بیٹی کو چھپانے کی ضرورت نہ پڑے۔

ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں...

جس دن ہماری اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ غلط ہو، اس دن اگر کوئی ہمیں یہ کہے:

"اس نے لباس ہی ایسا پہن رکھا تھا!"

تو ہمیں کیسا محسوس ہوگا؟

شاید اسی لمحے ہمیں اندازہ ہو کہ کسی اور کی بیٹی کے لیے کہے گئے یہ الفاظ کتنے ظالم تھے۔

ہم بیٹیوں کو یہ نہ سکھائیں کہ انہیں ہر حال میں دنیا سے ڈر کر جینا ہے۔ انہیں احتیاط ضرور سکھائیں، مگر بیٹوں کو یہ بھی سکھائیں کہ وہ کسی کے خوف کی وجہ نہ بنیں۔

ہم بیٹیوں کو یہ بتانے میں مصروف رہے کہ دنیا سے کیسے بچنا ہے۔

اب وقت ہے کہ بیٹوں کو یہ سکھائیں کہ وہ کسی کے لیے دنیا کو خوفناک نہ بنیں۔

کیونکہ ہماری اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ ہماری بیٹی محفوظ گھر واپس آ گئی۔

اصل کامیابی تو اس دن ہوگی جب ہر ماں اپنی بیٹی کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے بے خوف ہو کر کہہ سکے:

"جاؤ بیٹی... دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں۔"

اور شاید اس خواب کی پہلی اینٹ کسی سڑک، کسی قانون یا کسی کیمرے سے نہیں، بلکہ ایک ماں کی گود میں بیٹھے ہوئے بیٹے کی تربیت سے رکھی جائے گی۔