احمد کو ڈاک سے ایک لفافہ ملا۔ اس نے سوچا شاید کسی رشتے دار نے عیدی بھیجی ہے۔ لفافہ کھولا تو اندر سے عیدی نہیں بلکہ بجلی کا بل نکلا۔ بل دیکھ کر احمد کو عید کے بجائے جنازے کا گمان ہوا۔ وہ چیخا، ”بیگم! ہم لٹ گئے۔“ بیوی بھاگ کر آئی اور بولی، ”کیا ہوا؟ ڈاکو آ گئے؟“ احمد نے کہا، ”ڈاکو نہیں بلکہ اس سے بڑے آ گئے ہیں۔ واپڈا والے۔“
احمد کے گھر میں کل سامان یہ ہے: ایک پنکھا جو چلتا کم ہے اور شور زیادہ کرتا ہے۔ دو بلب جو جلتے کم ہیں اور ٹمٹماتے زیادہ ہیں۔ اور ایک میٹر جو بجلی سے زیادہ وفادار ہے۔ بجلی ہو یا نہ ہو میٹر اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہے۔ بجلی جائے تو میٹر کہتا ہے کہ میں جاگ رہا ہوں۔ بجلی آئے تو میٹر کہتا ہے کہ میں بھاگ رہا ہوں۔ احمد کہتا ہے کہ یہ میٹر نہیں بلکہ میرا دشمن ہے جو دیوار پر لٹکا ہوا ہے۔
وہ بل لے کر واپڈا دفتر پہنچا۔ کلرک نے بل کو یوں دیکھا جیسے ڈاکٹر ایکسرے دیکھتا ہے۔ پھر بولا، ”بھائی! گرمی زیادہ تھی۔“ احمد نے کہا، ”واہ! گرمی باہر زیادہ تھی اور بل میرے گھر زیادہ آ گیا۔ یہ کون سی سائنس ہے؟“ کلرک نے جواب دیا، ”یہ واپڈا سائنس ہے۔ اس میں گرمی کا حساب سورج سے نہیں بلکہ آپ کی جیب سے ہوتا ہے۔“
احمد نے کہا، ”بھائی! بجلی تو آتی ہی نہیں۔“ کلرک نے جواب دیا، ”یہی تو ترقی ہے۔ بجلی آئے نہ آئے بل ضرور آئے گا۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ گھر گھر بجلی نہیں بلکہ گھر گھر بل پہنچائیں گے۔“
بل کی پشت پر تفصیل پڑھو تو آدمی پی ایچ ڈی کر لے۔ لکھا ہوتا ہے: اصل قیمت سو روپے، فیول ایڈجسٹمنٹ پانچ سو، سرچارج تین سو، ڈیوٹی دو سو، ٹیکس چار سو اور ٹیکس پر ٹیکس چھ سو۔ آخر میں لکھا ہوتا ہے کہ آپ کا اپنا واپڈا۔ احمد کہتا ہے کہ میرا اپنا ہوتا تو اتنا ظلم نہ کرتا۔
محلے کے چاچا رحیم کی کہانی سنو۔ ان کی پنشن بیس ہزار روپے ہے اور بل پینتیس ہزار۔ چاچا نے بل دیکھ کر چشمہ اتارا پھر لگایا اور دوبارہ اتار کر کہا، ”بیٹا! یہ بل ہے یا میرے گناہوں کا حساب؟“ اب چاچا نے گھر میں نیا اصول بنایا ہے۔ دن کو سب گھر سے باہر سورج کی روشنی میں بیٹھو اور رات کو سب سو جاؤ کیونکہ جاگنے سے بلب جلے گا اور بلب جلے گا تو بل آئے گا۔
ایک خاتون دفتر میں آئی اور بولی، ”بھائی! میرے گھر تو صرف ایک پنکھا ہے۔“ کلرک نے کہا، ”بی بی! اسی لیے بل زیادہ ہے۔ ایک پنکھا سارا بوجھ اکیلا اٹھا رہا ہے۔ اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔“ خاتون نے پوچھا، ”تو کیا دو پنکھے لگا لوں؟“ کلرک نے جواب دیا، ”نہیں۔ پنکھا بیچ دو اور سکون سے رہو۔“
اب تو حالت یہ ہے کہ بچہ اگر غلطی سے بٹن کو ہاتھ لگا دے تو پورا گھر چیختا ہے، خبردار! واپڈا جاگ رہا ہے۔ مہمان شام کو آئے تو میزبان کہتا ہے، ”بھائی! باتیں اندھیرے میں کرتے ہیں کیونکہ روشنی میں بل آتا ہے۔“ اور دولہا رشتہ دیکھنے سے پہلے پوچھتا ہے، ”لڑکی والوں کے گھر کا بل کتنا آتا ہے؟“
احمد نے تنگ آ کر میٹر پر ایک کپڑا ڈال دیا ہے اور لکھ دیا ہے، بھائی! آرام کر لے۔ ہم بھی انسان ہیں۔ مگر میٹر کپڑے کے نیچے سے بھی بھاگ رہا ہے۔
آخر میں سچ یہی ہے کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ہر مہینے آنے والا وہ بم ہے جو نہ آواز کرتا ہے نہ دھواں دیتا ہے۔ بس سیدھا غریب کی جیب پر گرتا ہے۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
