عصرِ حاضر کے بڑے معاشرتی مسائل میں ایک اہم مسئلہ طلاق اور ازدواجی رشتوں کی بڑھتی ہوئی ٹوٹ پھوٹ ہے۔ آج ایسے جوڑے بھی دکھائی دیتے ہیں جو شادی کے چند ہی روز یا چند ماہ بعد ایک دوسرے سے جدا ہونے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ طبقے تک محدود نہیں رہا؛ پڑھے لکھے اور باشعور سمجھے جانے والے گھرانوں میں بھی رشتے تیزی سے بکھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
زمانہ بدل گیا، ترجیحات بدل گئیں، شادی کے طریقے بدل گئے، مگر رشتوں کے اندر پیدا ہونے والی ذہنی اذیت، تحقیر، گالم گلوچ، جسمانی تشدد اور ذمہ داری سے فرار جیسے مسائل کم ہونے کے بجائے کئی صورتوں میں زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔ المیہ صرف یہ نہیں کہ رشتے ٹوٹ رہے ہیں؛ المیہ یہ بھی ہے کہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا سارا بوجھ بھی اکثر عورت ہی کے کندھوں پر رکھ دیا جاتا ہے۔
اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے، خاموشی اور وقار کے ساتھ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو بھی معاشرہ انہیں سوالوں، طعنوں اور الزاموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے اور اگر عورت کسی ایسے رشتے سے نکلنے کا فیصلہ کرے جہاں شوہر نشے کا عادی ہو، مارپیٹ کرتا ہو، گالم گلوچ کو معمول سمجھتا ہو، ذمہ داریوں سے بھاگتا ہو یا گھر چلانے کی بنیادی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کرتا ہو تو سوال پھر بھی عورت سے ہی کیا جاتا ہے
"تم نے اسے بدلنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟"
جیسے شادی عورت کو ایک بیوی نہیں بلکہ اصلاحی مرکز کی منتظم بنا دیتی ہے۔
اس سے کہا جاتا ہے کہ شوہر کو سمجھاؤ، اس کا نشہ چھڑاؤ، اس کا غصہ ختم کرو، اس کی بدزبانی برداشت کرو، اس کی مار سہو، اس کی بے ذمہ داری کو حکمت سے سنبھالو اور ہر خرابی کے باوجود رشتہ نبھاؤ۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس مرد سے یہ سوال کم ہی کیا جاتا ہے کہ آخر اس نے اپنی بیوی کو سکون، تحفظ اور عزت دینے کے لیے کیا کیا؟
معاشرے کا یہ دوہرا معیار اس وقت اور زیادہ تکلیف دہ ہو جاتا ہے جب تمام خرابیوں کے باوجود ایک مرد کے لیے دوسری شادی یا نیا رشتہ تلاش کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہتا، جبکہ عورت کے لیے ایک ناکام رشتے کا اختتام بھی عمر بھر کا سماجی مقدمہ بنا دیا جاتا ہے۔
ہمیں شاید طلاق سے پہلے رشتوں کے اندر موجود ظلم، بے اعتنائی اور ذمہ داری سے فرار پر بات کرنا سیکھنا ہوگی۔ کیونکہ ہر ٹوٹا ہوا رشتہ صرف ایک عورت کی ناکامی نہیں ہوتا، اور ہر قائم رہنے والا رشتہ لازماً کامیاب بھی نہیں ہوتا۔
میں یہ نہیں کہتی کہ ہر طلاق کی جڑ ایک ہی ہوتی ہے، نہ ہر ٹوٹتے رشتے کا الزام صرف مرد یا صرف عورت کے سر رکھا جا سکتا ہے۔ رشتے دو انسانوں سے بنتے ہیں اور ان کے بکھرنے کے اسباب بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ مگر میں یہ ضرور کہوں گی کہ ہر طلاق کے پیچھے عورت کی بدزبانی، ضد یا نافرمانی نہیں ہوتی۔
کیا معلوم وہ ایک ایسے مرد کے ساتھ رہتے رہتے تھک گئی ہو جو نشے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا چکا تھا؟
کیا معلوم وہ ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنے سے انکار کر رہی ہو جو اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کرتا رہا؟
کیا معلوم اس نے برسوں گالم گلوچ سنی ہو، جسمانی تشدد برداشت کیا ہو، وعدوں کے ٹوٹنے کا دکھ جھیلا ہو اور ہر صبح یہ سوچ کر اٹھتی رہی ہو کہ شاید آج حالات بدل جائیں گے؟
ہم اکثر عورت کے فیصلے کو دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے گزری ہوئی پوری زندگی کو نہیں۔
ہم کہتے ہیں، "اس نے گھر توڑ دیا۔"
مگر یہ نہیں پوچھتے کہ وہ گھر اس کے لیے کب سے گھر رہ بھی گیا تھا؟
ہم کہتے ہیں، "اس نے نبھایا نہیں۔"
مگر یہ نہیں جانتے کہ شاید وہ برسوں اپنی استطاعت سے زیادہ نبھاتی رہی ہو۔
اور شاید سب سے آسان الزام یہی ہے کہ عورت میں برداشت نہیں تھی کیونکہ اس سوال کا سامنا کرنا زیادہ مشکل ہے کہ آخر ایک انسان کو ایسی زندگی میں کتنی دیر تک رہنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جہاں اس کی عزت، سکون اور سلامتی مسلسل مجروح ہو رہی ہو؟
رشتہ بچانا یقیناً اہم ہے، مگر رشتہ بچانے کی تمام ذمہ داری عورت کے سر رکھ دینا انصاف نہیں
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے عورت کی مظلومیت کو صبر کا دلکش غلاف پہنا رکھا ہے، مگر اس کے اپنے وجود کے لیے اٹھائے گئے ہر خوددارانہ قدم کو سرکشی کا نام دے دیا ہے۔ ہم ایک ایسی قائم شدہ ذہنیت کے قیدی ہیں جہاں عورت کا گھٹ گھٹ کر جینا، تحقیر سہنا اور خاموشی سے باطنی موت مرتے رہنا تو ایک شاندار اور قابلِ تقلید روایت سمجھا جاتا ہے، مگر اپنے تحفظ، سلامتی اور عزتِ نفس کی خاطر کسی ناکام اور اذیت ناک رشتے سے الگ ہو جانا ایک ناقابلِ معافی جرم یا عیب قرار پاتا ہے۔
ہمیں اس فکری مغالطے سے باہر نکلنے کی اشد ضرورت ہے کہ عورت کی شخصیت کا نکھار یا اس کی بقا کسی خارجی رشتے کی محتاج ہے۔ عورت کا حقیقی جمال نہ طلاق کے بعد بیدار ہوتا ہے، نہ کسی محبت کی وادی میں، اور نہ ہی مرد سے کنارہ کش ہو جانے میں اس کی کوئی تکمیل پوشیدہ ہے۔ عورت دراصل تب حسیں تر ہوتی ہے جب وہ اپنی ذات کے عرفان سے آشنا ہوتی ہے، اپنی اندرونی مسرت کے ساتھ جینا سیکھتی ہے اور یہ ادراک حاصل کر لیتی ہے کہ اسے ہر حال میں زمانے کی رضا کا محتاج بن کر نہیں جینا۔
معاشرہ جسے طلاق کا داغ کہہ کر عورت کو متنازع بنانے کی کوشش کرتا ہے، وہ ہر صورت میں داغ نہیں بعض حالات میں یہ ایک مشکل مگر باوقار فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ طلاق نہ لازماً کسی عورت کی شکست ہے اور نہ ہر رشتے کا اختتام زندگی کا اختتام۔ بعض اوقات یہ مسلسل اذیت، تحقیر اور بے توقیری سے نکل کر ایک محفوظ زندگی کی طرف قدم ہوتا ہے۔
طلاق یقیناً ایسا عمل نہیں جسے معمولی سمجھ کر اختیار کیا جائے۔ اسلام نے نکاح کے بندھن کو اہمیت دی ہے اور حتیٰ الامکان رشتے کو نبھانے، اصلاح اور باہمی صلح کی کوشش کی ترغیب دی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طلاق شرعاً جائز راستہ ہے؛ اسے حرام قرار نہیں دیا گیا۔ اس لیے کسی جائز مگر ناپسندیدہ عمل کو ہر حال میں گناہ اور عورت کے لیے عمر بھر کا داغ بنا دینا بھی درست رویہ نہیں
جس طرح ہمیں اپنے معاشرے میں فحش مواد دیکھنے، حرام کمائی، حرام خوراک، گناہوں اور دوسری ناپسندیدہ یا ممنوع چیزوں کے بارے میں دینی حساسیت دکھائی دیتی ہے، اسی طرح ازدواجی زندگی میں ظلم، تشدد، نشہ، بدزبانی، بے ذمہ داری اور مسلسل تحقیر جیسے رویوں پر بھی سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔
طلاق کو پسندیدہ بنا دینا بھی درست نہیں، مگر ہر طلاق کو عورت کی بدکرداری یا ناکامی قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ بعض اوقات رشتہ بچانے کی کوشش ضروری ہوتی ہے، اور بعض اوقات تمام اصلاحی راستے آزمانے کے بعد علیحدگی ہی وہ راستہ رہ جاتی ہے جس کے ذریعے دو انسان مزید اذیت سے نکل سکتے ہیں۔
ذرا سوچیے، جس راستے کو دین نے ایک جائز راستے کے طور پر تسلیم کیا ہو، اسے معاشرہ ہر حال میں عیب قرار دینے والا کون ہوتا ہے؟ محض معاشرتی دباؤ کی خاطر ایک ایسا رشتہ گھسیٹتے رہنا جس میں عزت، امن اور انسانیت مسلسل پامال ہو رہی ہو، اسے صرف اس لیے مقدس نہیں کہا جا سکتا کہ دنیا اسے قائم رکھنے پر اصرار کرتی ہے۔
دو خاندان جو ایک رشتہ جوڑنے کے لیے اپنی جمع پونجی لگا دیتے ہیں، کیا وہ یہ سب اس لیے کرتے ہیں کہ کل اپنی ہی بیٹی کو ایک ناکام رشتے کا داغ دے کر واپس لے آئیں؟ کیا والدین اپنی عمر بھر کی کمائی اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ بیٹی کل طعنوں کے ساتھ اپنے گھر لوٹ آئے؟ کیا وہ قرضوں میں اس لیے ڈوبتے ہیں کہ چند برس بعد اسی بیٹی کو یہ سننا پڑے کہ "تم اپنا گھر نہ بچا سکیں"؟
ذرا خوفِ خدا کریں۔
شادی صرف دو افراد کا ملاپ نہیں، دو خاندانوں کی امید، دعاؤں اور برسوں کی جمع پونجی کا نام بھی ہے۔ اس لیے رشتہ جوڑتے وقت جتنی سنجیدگی چاہیے، اسے نبھاتے وقت اس سے کہیں زیادہ انسانیت درکار ہے۔
اور اگر کسی رشتے میں ظلم، نشہ، تشدد، مسلسل تحقیر یا ناقابلِ برداشت اذیت داخل ہو جائے تو صرف اس لیے انسان کو اس میں قید نہیں کیا جا سکتا کہ شادی پر بہت پیسہ خرچ ہوا تھا۔
والدین نے بیٹی کی شادی پر اپنی جمع پونجی لگائی تھی، اس کی پوری زندگی داؤ پر نہیں لگائی تھی۔
کچھ تو خوفِ خدا کریں رشتہ بچانے سے پہلے انسان کو بچانے کی فکر کریں۔
عورت کا زوال طلاق سے نہیں ہوتا اس کا زوال تب شروع ہوتا ہے جب وہ اپنی ذات کی بے توقیری کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لیتی ہے، جب وہ اپنی آواز کو دبا دیتی ہے اور اپنے وجود کو دوسروں کی رضا کے لیے مسلسل گھساتی رہتی ہے
عورت کا اصل روپ تب درخشاں ہوتا ہے جب وہ دوسروں کی نگہداشت کے ساتھ اپنے وجود کی پذیرائی، اپنی عزتِ نفس اور اپنی ذہنی و جذباتی سلامتی کو بھی اہمیت دینا سیکھتی ہے۔ وہ تب باوقار دکھائی دیتی ہے جب اسے اپنی ذات پر اعتماد ہو اور وہ اپنی روح کی بے بہا قدر و قیمت سے واقف ہو جائے۔
اگر اس کے دشتِ حیات میں کوئی ایسا ہم سفر میسر آ جائے جو اس کے خود شناسی کے سفر میں اس کا دست و بازو بنے، تو یہ یقیناً خوش بختی ہے۔ لیکن اگر ایسا ہم سفر میسر نہ آئے، یا کوئی غلط اور اذیت ناک سفر اپنے اختتام کو پہنچ جائے، تو اس کے باوجود اس کے حسن، وقار اور انسانی قدر میں ذرہ برابر کمی نہیں آتی۔
کاش! ہم مسرت اور ملال کی کیفیات کو کسی دوسرے شخص کی ذات اور معاشرتی تصدیق سے مشروط کرنا چھوڑ دیں۔ انسان اگر اپنی ذات سے محبت اور اپنے وجود کی قدر کا ہنر نہیں سیکھتا تو دنیا کی کوئی بھی تعریف اسے مکمل اطمینان نہیں دے سکتی۔
ہمیں طلاق سے زیادہ انسان کی پامالی سے ڈرنا چاہیے۔ ہمیں رشتہ بچانے کی فکر ضرور ہونی چاہیے مگر اس سے پہلے انسان کو بچانے کی فکر بھی ہونی چاہیے۔ کیونکہ ہر رشتہ مقدس ہو سکتا ہے، مگر کسی انسان کی عزت، سلامتی اور وقار کو مسلسل کچلتے رہنا کسی رشتے کو مقدس نہیں بنا دیتا خدارا
عورت کا وجود کسی رشتے کی مہر کا محتاج نہیں
وہ بیوی بن کر بھی مکمل ہے، ماں بن کر بھی، اور اگر زندگی اسے کسی مقام پر تنہا کھڑا کر دے تو تب بھی وہ اپنی ذات میں ایک مکمل انسان ہے۔
اسے صرف معاشرے کی نظر سے نہیں انسان ہونے کے حق سے دیکھیے۔
مزید پڑھیں






