دہشت گردی سے بڑا فتنہ: اسلحہ کلچر،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
خیبر پختونخوا کے گزشتہ دس سالہ سیکیورٹی اور کرائم ریکارڈ کا اگر دیانت داری سے ورق الٹا جائے، تو بیرونی خطرات سے زیادہ اندرونی بربریت کے ہوش ربا حقائق سامنے آتے ہیں۔ تھنک ٹینکس اور پولیس ڈیٹا کے مطابق پچھلی ایک دہائی کے دوران دہشت گردی کے جملہ حملوں، بم دھماکوں اور سیکیورٹی آپریشنز میں عام شہریوں اور فورسز کی شہادتوں کی مجموعی تعداد تقریباً چار سے پانچ ہزار کے درمیان رہی۔ اس کے بالکل برعکس، صوبے کے سرکاری تھانوں میں درج قتل کے مقدمات کا تلخ ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ اسی عرصے میں باہمی دشمنیوں، اراضی کے تنازعات، جھوٹی غیرت اور معمولی تکرار پر جدید اسلحے کے بے دریغ استعمال سے مرنے والوں کی تعداد پچیس سے تیس ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ یہ لرزہ خیز تقابل بلا خوفِ تردید ثابت کرتا ہے کہ پختون دھرتی پر اسلحہ کلچر اور باہمی عدم برداشت کا عفریت دہشت گردی کے مقابلے میں پانچ سے چھ گنا زیادہ انسان نگل چکا ہے۔ بیرونی دہشت گردی ریاست اور معیشت کو نشانے پر رکھ کر توجہ سمیٹ لیتی ہے، لیکن ہمارے اپنے حجروں اور گھروں میں لٹکی غیر قانونی بندوقیں ہر سال خاموشی سے ہزاروں گھر اجاڑ رہی ہیں۔ جب تک اس صوبے میں فوری انصاف کا بول بالا اور ہر قسم کے غیر قانونی ہتھیاروں کی تلفی ممکن نہیں بنائی جاتی، تب تک اس خطے کا سب سے بڑا قاتل اس کا اپنا اندرونی اسلحہ کلچر ہی رہے گا۔
اعداد و شمار کی دنیا میں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اور یہ ریکارڈ چیخ چیخ کر اصل قاتل کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اگر ہم گزشتہ برسوں کے سرکاری و غیر سرکاری ڈیٹا کا تقابلی جائزہ لیں تو ہوش اڑ جاتے ہیں۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) جیسے معتبر اداروں کے مطابق سال 2024 میں خیبر پختونخوا کے اندر دہشت گردی کے جملہ واقعات، خودکش دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے جوانوں کی کل تعداد تقریباً 378 سے 500 کے درمیان تھی۔ اس کے برعکس، اسی سال کے پی کے پولیس کے اپنے جرائم ریکارڈ کے مطابق صوبے کے اندر ذاتی دشمنیوں، خاندانی عناد، گھریلو جھگڑوں اور زمین کے تنازعات پر قتل ہونے والے افراد کی تعداد 3,100 سے تجاوز کر چکی تھی۔ یہی خوفناک تسلسل سال 2025 اور حالیہ مہینوں میں بھی برقرار رہا، جہاں دہشت گردی کے مجموعی حملوں میں جانی نقصان 500 سے 600 کے لگ بھگ رہا، جبکہ محض دس گیارہ ماہ کے عرصے میں شہریوں نے معمولی تنازعات، چوری، ڈکیتی اور طعنوں پر بندوق، کلہاڑی اور خنجر کے وار سے 3,200 سے زائد اپنے ہی بھائی بندوں کو قبر میں اتار دیا۔
یہ وہ مسلمہ ریکارڈ ہے جو ریاضیاتی طور پر ثابت کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے نتیجے میں جتنے لوگ شہید ہوتے ہیں، اس کے مقابلے میں خود پشتون اپنے ہی ہاتھوں سے باہمی تنازعات پر اس سے چھ سے سات گنا زیادہ لاشیں گراتے ہیں۔ دہشت گرد کے ہاتھ کا بم کبھی کبھار پھٹتا ہے اور پوری ریاست دہل جاتی ہے، مگر غیر قانونی کلاشنکوفوں، پستولوں اور رائفلوں کے دہانے ہر روز، ہر گھنٹے اور ہر محلے میں آگ اگل رہے ہیں اور اس خونریزی پر پورا معاشرہ ایک مجرمانہ خاموشی سادھے بیٹھا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سا خبط ہے جس نے اس خوبصورت دھرتی کو ایک مستقل ذبح خانے میں تبدیل کر دیا ہے؟ اس کا سب سے بڑا مجرم وہ بے لگام اسلحہ کلچر ہے جو دہائیوں کے افغان تنازعات کی راکھ سے پیدا ہوا اور جسے مردانگی، شجاعت اور ننگ و ناموس کا جھوٹا لبادہ پہنا دیا گیا۔ آج خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں دودھ، روٹی اور دوائی اتنی آسانی سے نہیں ملتی جتنی آسانی سے بغیر کسی لائسنس کے جدید خودکار ہتھیار بازاروں اور اسمگلنگ کے راستوں سے مل جاتے ہیں۔ جب ہر نوجوان کی پشت پر بندوق تنی ہو اور اس کے سینے میں عدم برداشت کی آگ لگی ہو، تو مکالمے کی گنجائش خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ ایک انچ زرعی زمین کی باڑ، کچے نالے سے پانی کی باری کا تنازع، گاڑی کے آگے پیچھے ہونے پر لگنے والا چھوٹا سا کٹ، یا بچوں کی گلی میں تکرار—یہ وہ معمولی چنگاریاں ہیں جو جدید اسلحے کے بارود پر گرتے ہی بھڑک اٹھتی ہیں اور لمحوں میں ہنستے کھیلتے گھرانوں کو جنازوں کے ڈھیر میں بدل دیتی ہیں۔
اس قتلِ عام کو تیز کرنے میں ہمارا سڑا گلا عدالتی اور پٹوار کا نظام برابر کا شریک ہے۔ اگر کسی غریب کی زمین پر اس کا چچازاد قبضہ کر لے، تو اس کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں: یا تو وہ کچہریوں کے چکر کاٹتے کاٹتے سفید داڑھی لے کر اسی کٹہرے میں مر جائے جہاں اس کے باپ نے کیس دائر کیا تھا، یا پھر وہ مایوس ہو کر کندھے پر کلاشنکوف لٹکائے اور فیصلہ خود اپنی انگلی کی جنبش سے کر ڈالے۔ پٹوار خانوں کی اندھی بدعنوانی، زمین کی حد بندی کے جدید نظام کا فقدان، اور فوری انصاف دینے والی مقامی پنچایتوں اور معتبر جرگوں کا زوال اس بندوق بردار انصاف کو جنم دیتا ہے۔ روایتی غیر جانبدار مشران اب نہیں رہے، ان کی جگہ سیاسی اثر و رسوخ اور سرمائے کے پجاریوں نے لے لی ہے، جس سے صلح اور مصالحت کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں۔
اور اس جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام وہ سیاسی اور سماجی قیادت کر رہی ہے جو مائیک سنبھالتے ہی ماتھے پر تیوریاں چڑھا کر صرف غصہ، نفرت، دھمکی اور تقسیم بانٹتی ہے۔ سکرینوں اور جلسوں پر بولنے والے جب جھاگ اڑاتے ہوئے بدلے اور تصادم کے بیانیے بیچیں گے، تو گلی کے نوجوان سے رواداری اور حلم کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ مذہبی منبر سے حقوق العباد اور انسانی جان کی حرمت کا وہ پرچار غائب ہو چکا ہے جو دلوں کو نرم کرتا تھا، اب وہاں بھی جذباتیت اور اختلافی فتووں کی گرم بازاری ہے۔
ریکارڈ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر چکا ہے کہ بیرونی دہشت گردی ایک سیاسی و عسکری خطرہ ضرور ہے، مگر پختونخوا کے اندر کا اصل کینسر یہ اسلحہ کلچر اور باہمی دشمنی کا جنون ہے۔ جب تک اس صوبے میں غیر قانونی ہتھیاروں کی ایک ایک گولی واپس لینے کی مہم نہیں چلائی جاتی، جب تک زمینوں کے جھگڑے ختم کرنے کے لیے پٹوار اور عدلیہ کی تطہیر نہیں ہوتی، اور جب تک قتل کے روایتی بدلے کو بہادری کے بجائے گھناؤنی بربریت قرار نہیں دیا جاتا، تب تک اس خطے کا مقدر نہیں بدلے گا۔ اس دھرتی کو سب سے پہلے اپنے ہی حجروں میں سجے ان ہتھیاروں سے نجات دلانا ہو گی جن کے سائے میں ہر سال ہزاروں جوان موت کی نیند سلا دیے جاتے ہیں، ورنہ بیرونی دشمن تو بعد میں آئے گا، ہم اپنے آپ کو خود ہی ختم کر لیں گے۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
