Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دل سے دعا یا بد دعا؟ تحریر:ایس اے شازِم

s a shazim

کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے دوراہے پر لا کھڑا کرتی ہے، جہاں دل میں اٹھنے والے طوفان کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں رہتا اور کبھی زندگی انسان کے ساتھ ایسا کھیل کھیلتی ہے کہ جہاں اپنے ہی اجنبی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ جن کے ساتھ بچپن کی یادیں جڑی ہوں، جن کے ساتھ ایک ہی آنگن میں کھیلتے ہوئے عمر گزری ہو، جن کے ساتھ ایک ہی ماں کی ممتا بانٹی ہو، جب وہی لوگ دل دکھانے لگیں تو انسان آخر اپنا درد کس سے کہے؟

ایسے رشتے کو بددعا کیسے دیں؟

کیسے کہیں کہ اللہ تمہیں بھی وہی دکھ دے جو تم نے مجھے دیا۔ جب دل کو آج بھی یاد ہو کہ کبھی اسی شخص کے بیمار ہونے پر ہماری آنکھوں سے نیند روٹھ جایا کرتی تھی؟ کیسے اُس کے لیے بُرا مانگیں جس کے ساتھ بچپن میں روٹی بانٹ کر کھائی تھی؟ کیسے اُس کی خوشیوں سے بے نیاز ہو جائیں جس کی ذرا سی اداسی کبھی ہمارے دل کو بے چین کر دیا کرتی تھی؟

مگر افسوس! وقت ہمیشہ رشتوں کی مٹھاس برقرار نہیں رکھتا۔ کبھی جائیداد کے چند ٹکڑے برسوں کی محبت کو نگل جاتے ہیں، کبھی وراثت کی تقسیم دلوں میں ایسی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے جنہیں گرانے کے لیے پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔ کبھی انا اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ بہن کی آنکھوں کے آنسو بھائی کو دکھائی نہیں دیتے، اور کبھی رشتوں کا تقدس پامال کرنے کی گھناؤنی کوشش بہن کے دل میں ایسی گرہ ڈال دیتی ہے جو عمر بھر نہیں کھلتی۔ پھر ایک دن وہی بہن یا بھائی، جو کبھی ایک دوسرے کے لیے ڈھال ہوا کرتے تھے، ایک دوسرے کے سامنے اپنے حق کے ثبوت لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ محبت کی جگہ حساب کتاب لے لیتا ہے، اپنائیت کی جگہ الزام آ جاتے ہیں، وہ ہاتھ جو کبھی دعا کے لیے اٹھتے تھے انہی ہاتھوں میں بد دعاؤں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور رشتوں کی حرمت کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔

ایسے میں دل چیخ کر کہتا ہے: اے میرے اپنے! کیا تمہیں وہ دن یاد نہیں جب ہم ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہوا کرتے تھے؟ کیا تمہیں وہ ماں یاد نہیں جس نے ہم سب کو ایک ہی دعا میں مانگا تھا؟ کیا تمہیں اُس باپ کی محنت یاد نہیں جس نے ہماری ضرورتوں کے لیے اپنی خواہشیں قربان کی تھیں؟

کیا ہمارے درمیان صرف اختلافِ رائے، چند تلخ جملے یا مال و دولت کی تقسیم ہی باقی رہ گئی ہے؟

پھر دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ جس رشتے کو کبھی دعاؤں میں مانگا تھا، آج اُسی کے لیے بددعا کیوں لبوں تک آنے لگی ہے؟ آنکھیں شکایت کرتی ہیں، دل فریاد کرتا ہے اور زبان خاموش رہ جاتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ یہ کیفیت کسی اجنبی کے دیے ہوئے دکھ سے نہیں، بلکہ اُن لوگوں کے رویّوں سے جنم لیتی ہے جنہیں ہم نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی جگہ دی ہوتی ہے۔

اُنہیں کیسے بددعا دیں جن کے لیے کبھی سجدوں میں ہاتھ اٹھائے تھے؟ جن کی خوشیوں کے لیے اپنی خوشیاں قربان کی تھیں؟ جن کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے کے لیے اپنی آنکھوں کے آنسو چھپائے تھے؟ جن کے ایک جملے کو دل کا سکون اور جن کی ایک مسکراہٹ کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی دولت سمجھا تھا؟

کیا اُن کے لیے بددعا مانگتے ہوئے وہ تمام لمحے یاد نہیں آئیں گے جب ہم نے اُن کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا تھا؟ کیا زبان سے نکلنے والے ہر تلخ لفظ کے ساتھ ماضی کی کوئی خوب صورت یاد دل کے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟

یہی تو المیہ ہے کہ اجنبیوں سے ملنے والے زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں لیکن اپنوں کے دیے ہوئے زخم اکثر انسان کے اندر کہیں اتھا میں اتر جاتے ہیں۔ وہاں، جہاں کسی کی نظر نہیں پہنچتی۔ انسان ہنستا ہے، لوگوں سے بات کرتا ہے، اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے مگر اس کے اندر ایک خاموش کمرہ ایسا بھی ہوتا ہے جہاں روز کوئی یاد دستک دیتی ہے اور روز کوئی درد جاگ اٹھتا ہے۔

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ جن لوگوں نے ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھا، انہیں بھی ہماری بے بسی کا احساس ہو۔ وہ بھی کسی رات اپنے رویّوں پر غور کریں، وہ بھی کسی لمحے یہ سوچ کر بے چین ہوں کہ جس رشتے کو انہوں نے معمولی سمجھ کر استعمال کیا تھا، وہ دل کبھی اُن کے لیے کتنی محبت سے دھڑکتا تھا۔

ایک ہی ماں کی کوکھ سے جنم لینے والے، ایک ہی آنگن میں پلنے والے، ایک ہی دسترخوان پر کھانے والے بہن بھائی جب ایک دوسرے کے دکھ کا سبب بن جائیں تو دل میں اٹھنے والی کسک لفظوں میں بیان کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔

جہاں تک میرا خیال ہے تو بددعا سوچ سمجھ کر نہیں دی جاتی، یہ تو خود بخود زبان سے نکل جاتی ہے جب دل میں دکھوں کے انبار لگ جائیں۔ بددعا دینے کے لیے بھی تو دل میں ایک خاص قسم کی سختی درکار ہوتی ہے اور ہم تو وہ لوگ ہیں جو کسی کی تکلیف دیکھ کر خود بے چین ہو جاتے ہیں۔ ہم کسی کے لیے برا سوچنے بیٹھتے ہیں تو اپنی ہی محبتیں راستہ روک لیتی ہیں۔ جنہیں دل سے نکالنا چاہتے ہیں، اُن کے لیے ہی دعا کے لفظ لبوں تک آ جاتے ہیں۔

کتنا عجیب ہے نا! جن لوگوں نے ہمیں رُلایا، اکثر اُنہی کے لیے ہماری آنکھیں دعا کرتے ہوئے نم ہو جاتی ہیں۔


بعض اوقات انسان کو بددعا نہیں، بس فاصلے اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے فاصلے جہاں دل کو سانس لینے کا موقع ملے، جہاں یادیں تو رہیں مگر روز نئے زخم نہ ملیں، جہاں کسی کی محبت کی بھیک مانگنے کے بجائے انسان اپنی عزتِ نفس کے ساتھ جینا سیکھ سکے۔

اور اگر کبھی دل کی ساری تھکن لفظوں کا روپ دھار لے، اگر کبھی آنکھوں میں جمع برسوں کا پانی دعا بن کر بہنے لگے، تو بس اتنا کہہ دیجیے:

"یا اللّہ! تو میرے دل کا حال جانتا ہے۔ تو جانتا ہے کہ میں نے کس کے لیے کتنی دعائیں مانگیں، کس کی خوشی کے لیے کتنی بار اپنی خوشیاں بھلائیں، اور کس کے رویّے اور برے فعل نے مجھے اندر سے کتنا خاموش کر دیا۔

یا اللہ! میں کسی کے لیے اپنے دل میں نفرت نہیں پالنا چاہتی مگر اب مزید ٹوٹنے کی ہمت بھی نہیں رکھتی۔ جنہوں نے مجھے دکھ دیا، انہیں اپنی غلطیوں کا احساس عطا فرما۔ اگر میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو مجھے انصاف عطا فرما، اور اگر میرے لیے کسی رشتے سے دوری بہتر ہے تو میرے دل کو اس دوری کو قبول کرنے کا حوصلہ دے۔ مجھے اتنا مضبوط بنا دے کہ میں کسی کے لیے برا چاہے بغیر خود کو اُس کے ظلم سے محفوظ رکھ سکوں۔"


کیونکہ بعض رشتے ختم ہونے کے بعد بھی دل میں زندہ رہتے ہیں، مگر اُن کے ساتھ جینے کی خواہش مر جاتی ہے۔ انسان اُن لوگوں کے لیے برا نہیں چاہتا، بس اب اُن کی زندگی میں اپنی جگہ بھی نہیں چاہتا۔

اور پھر ایک دن وہ دل ہی دل میں کہتا ہے:


یا اللہ! مجھے اُن کے بغیر خوش رہنا سکھا دینا اور مجھے اُن راستوں سے دور رکھنا جہاں پر میری عزتِ نفس کو بار بار مجروح کیا گیا ہو، جہاں پر رشتوں کا پاس نہ رکھا گیا ہو، کیونکہ اب میرے پاس بددعا دینے کے لیے الفاظ نہیں بچے، شکوہ کرنے کے لیے حوصلہ نہیں بچا اور کسی بھی رشتے کو اپنا درد سمجھانے کی خواہش بھی نہیں رہی۔

شاید اپنوں کو بددعائیں دینا اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ ہمارا دل اُن کی محبت کے آثار سے ابھی تک خالی نہیں ہوا ہوتا۔ اس لیے کچھ لوگ ہماری زندگی سے چلے بھی جائیں تو اُن کے لیے بددعا نہیں نکلتی؛ بس دل خاموشی سے کہتا ہے کہ

کاش! کہ ہم اِک ماں جائے نہ ہوتے۔۔۔۔۔!!