دودھ کے نام پر کیا عوام کو زہر پلایا جا رہا ہے؟تحریر:مہر بشارت صدیقی
نقطہ نظر
خالص اور معیاری دودھ ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے، مگر پنجاب کے مختلف علاقوں میں دودھ کے معیار کے حوالے سے شہریوں کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض ملک شاپس پر مبینہ طور پر ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری دودھ فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے باعث خصوصاً بچوں اور بزرگوں کی صحت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کے مطابق دودھ روزانہ لاکھوں خاندانوں کے استعمال میں آتا ہے، اس لیے اس میں ملاوٹ کا معاملہ محض کاروباری بے ضابطگی نہیں بلکہ عوامی صحت سے براہِ راست جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دودھ خریدتے ہیں اور ان کا حق ہے کہ انہیں خالص، صاف اور انسانی استعمال کے لیے محفوظ دودھ ملے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم دودھ کی قیمت ادا کرتے ہیں، پانی، کیمیکل یا ملاوٹ شدہ اشیا کی نہیں۔
شہریوں نے متعلقہ انتظامیہ اور فوڈ سیفٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ فروخت کرنے والی دکانوں کی باقاعدہ اور اچانک چیکنگ کی جائے، مختلف مقامات سے دودھ کے نمونے حاصل کرکے مستند لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروائے جائیں اور جہاں ملاوٹ یا غیر معیاری دودھ ثابت ہو وہاں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
عوام یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر دودھ کے معیار کے حوالے سے شکایات سامنے آ رہی ہیں تو انتظامیہ کی جانب سے کتنی ملک شاپس کا معائنہ کیا گیا؟ کتنے نمونے حاصل کرکے ٹیسٹ کیے گئے؟ کتنے نمونے معیار پر پورے نہیں اترے اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟
شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف وقتی مہمات یا چند روزہ کارروائی کافی نہیں، بلکہ دودھ کے معیار کی مسلسل نگرانی، اچانک انسپکشن اور شفاف لیبارٹری ٹیسٹنگ کا مستقل نظام ضروری ہے۔ اگر کسی دکاندار یا سپلائر کے خلاف ملاوٹ ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ اگر دودھ معیار کے مطابق ہے تو متعلقہ ادارے شفاف ٹیسٹنگ کے ذریعے عوام کو مطمئن کریں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بڑے سانحے یا سنگین نقصان کا انتظار کرنے کے بجائے احتیاطی اقدامات ابھی سے کیے جانے چاہئیں۔ بچوں اور بزرگوں سمیت ہر شہری کو محفوظ خوراک کی فراہمی ریاستی اداروں اور متعلقہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ دودھ کے معیار کے حوالے سے عوامی خدشات کو محض شکایات سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے شفاف طریقے سے جانچا جائے۔ دودھ کے نمونے لیے جائیں، ٹیسٹ کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں اور جہاں قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو وہاں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
عوام کا سوال آج بھی وہی ہے: آخر خالص دودھ کی فراہمی یقینی بنانے اور مبینہ ملاوٹ کے خاتمے کے لیے مؤثر اور مستقل کارروائی کب ہوگی؟





