محبت میں کبھی کبھی انسان ان فیصلوں کے آگے سر جھکا لیتا ہے جنہیں بدلنے کی طاقت اس کے پاس نہیں ہوتی۔ جسے وہ شدت سے مانگ رہا ہوتا ہے، وہ کسی اور کے نصیب میں لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر انسان اپنی تمام خواہشوں کو دل کی گہرائیوں میں دفن کرکے خاموشی سے جینا سیکھ لیتا ہے، مگر کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بھلانے کے لیے پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔
زلیخا بی بی اپنی بہن صالحہ کے گھر کے کچے صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی محلے کے بچوں کو قرآن پڑھا رہی تھی۔ ساٹھ برس کی عمر میں بھی اس کے چہرے پر ایک عجیب سی معصومیت تھی، البتہ آنکھوں میں چھپا دکھ اس کی زندگی کی ادھوری داستان سناتا تھا۔ وہ بچوں کو پڑھانے کے بعد گھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتی۔ اس کی زندگی کا دائرہ اب اسی گھر، عبادت اور اپنی بہن کے بچوں تک محدود ہو چکا تھا۔
صالحہ باورچی خانے میں کھڑی اپنی بہن کو دیکھ رہی تھی۔ آج جانے کیوں اس کے دل میں ایک سوال شدت سے ابھرا تھا۔ وہ گزشتہ تیس برس سے زلیخا کے دل میں چھپے راز سے بے خبر تھی، مگر اسے ہمیشہ محسوس ہوتا کہ اس کی بہن نے اپنی زندگی کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتا کیا ہے جس کی قیمت وہ آج تک ادا کر رہی ہے۔
بچے قرآن پڑھ کر چلے گئے تو صالحہ اپنی بہن کے پاس آ بیٹھی۔
’’زلیخا! آج مجھے سچ سچ بتا دو، کون تھا وہ جس کی محبت کی دیوانگی میں تم نے کسی اور کا ساتھ قبول نہیں کیا "
زلیخا کے ہاتھ میں موجود تسبیح رک گئی۔ اس نے اپنی بہن کی طرف دیکھا۔ عمر کے اس حصے میں پہنچ کر اب اسے کسی الزام کا خوف نہیں تھا۔ جس محبت کو اس نے تیس برس تک اپنے سینے میں دفن رکھا تھا، اس کا نام لینے سے اب کسی کی زندگی میں طوفان نہیں آ سکتا تھا۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا، ’’الیاس!‘‘
صالحہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ الیاس اس کا شوہر تھا۔
’’کیا؟ الیاس؟ تم نے مجھے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی؟‘‘ اس کی آواز میں حیرت، دکھ اور بے شمار سوال تھے۔
زلیخا نے ایک گہری سانس لی اور ماضی کی گلیوں میں کھو گئی۔
الیاس، صالحہ اور زلیخا بچپن کے ساتھی تھے۔ الیاس عمر میں زلیخا سے سات برس اور صالحہ سے پانچ برس بڑا تھا۔ تینوں ایک ہی گھر میں پل کر جوان ہوئے تھے۔ ان کی ماؤں کی شادی ایک ہی خاندان میں ہوئی تھی، اسی لیے ان کے درمیان ہمیشہ سے اپنائیت اور محبت کا رشتہ تھا۔
وقت گزرا تو زلیخا کے دل میں الیاس کے لیے محبت نے خاموشی سے جگہ بنا لی۔ یہ کوئی معمولی پسندیدگی نہیں تھی جو چند دنوں میں ختم ہو جاتی۔ الیاس اس کی سوچ، اس کی دعاؤں اور اس کے خوابوں کا حصہ بن چکا تھا۔ اس کی ایک جھلک زلیخا کے پورے دن کو روشن کر دیتی، جبکہ اس کی ذرا سی بے رخی اس کے دل میں کئی سوال جگا دیتی۔ وہ الیاس کی آواز سننے کے لیے بے چین رہتی، اس کے آنے کے وقت کا انتظار کرتی اور اس کی معمولی سی ضرورت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتی۔
اس کی محبت آہستہ آہستہ ایسی دیوانگی میں بدل چکی تھی کہ اگر کوئی اس سے پوچھتا کہ وہ الیاس کے لیے کیا کر سکتی ہے تو شاید اس کے پاس کوئی حد نا ہوتی کہ کبھی کبھی اسے خود بھی خوف محسوس ہوتا کہ اگر الیاس کسی اور کا ہو گیا تو وہ اپنی زندگی کیسے گزارے گی۔
مگر زلیخا نے کبھی اپنے جذبات کو اپنی عقل پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ وہ الیاس کا خیال ایسے رکھتی جیسے کوئی قیمتی چیز سنبھال کر رکھتا ہے۔ الیاس کہیں باہر جاتا تو وہ اس کی خیریت کے لیے دعائیں کرتی اور آیت الکرسی پڑھ کر اس کی حفاظت اللہ کے سپرد کر دیتی۔
الیاس کبھی اس کی بے پناہ فکر پر ہنس کر پوچھتا، ’’زلیخا! آخر تم میرا اتنا خیال کیوں رکھتی ہو؟‘‘
وہ مسکرا کر جواب دیتی، ’’بس میرا دل چاہتا ہے کہ تمہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں کی حفاظت میں رکھوں۔‘‘
وہ دور ایسا تھا جب لڑکیاں اپنے دل کی بات زبان پر لاتے ہوئے بھی جھجکتی تھیں۔ زلیخا نے بھی اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا۔ اس کی محبت خاموشی سے بڑھتی رہی، یہاں تک کہ الیاس اس کی دعاؤں کا سب سے خوب صورت حصہ بن گیا۔
ایک دن اسے معلوم ہوا کہ گھر والے صالحہ کی شادی الیاس سے کرنا چاہتے ہیں۔
یہ خبر اس پر بجلی بن کر گری۔ اس رات اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ کبھی اپنے دل کو سمجھاتی کہ شاید ابھی کوئی راستہ نکل آئے، کبھی سوچتی کہ وہ گھر والوں سے بات کر لے، اور کبھی خیال آتا کہ سب کے سامنے اپنے دل کی بات رکھ دے۔ آخر وہ کیوں خاموش رہے؟ کیا اس کی محبت کی کوئی اہمیت نہیں تھی؟ کیا اسے اپنی خوشی کے لیے آواز اٹھانے کا حق نہیں تھا؟
وہ چاہتی تو اس فیصلے کو بدلنے کی کوشش کر سکتی تھی۔ وہ الیاس کے لیے اپنی محبت کا اظہار کرکے سب کو حیران کر سکتی تھی، مگر پھر اس کی نظر اپنی بہن صالحہ پر پڑتی، جس کی آنکھوں میں اسی رشتے کے خواب سجنے لگے تھے۔
زلیخا کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ ایک طرف وہ شخص تھا جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی اسے ادھورا لگتا تھا، اور دوسری طرف اس کی اپنی بہن تھی، جس کی خوشیوں کو وہ اپنی خوشیوں سے الگ نہیں سمجھتی تھی۔
وہ رات کو تہجد کے لیے اٹھی تو سجدے میں اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
’’یا اللہ! میں نے تجھ سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔ آج صرف الیاس کو اپنے نصیب میں مانگتی ہوں۔ میرا دل اس کے بغیر کسی اور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر کوئی راستہ ہے تو میرے لیے کھول دے۔ میں اسے کھونا نہیں چاہتی۔‘‘
وہ ہر رات یہی دعا کرتی، مگر جب اسے اپنی بہن کی خوشی یاد آتی تو اس کی دعا کے الفاظ بدل جاتے۔
’’یا اللہ! اگر الیاس میرے نصیب میں نہیں تو مجھے اتنی ہمت دے کہ میں اپنے دل کی خواہش کو اپنے رشتوں پر حاوی نہ ہونے دوں۔ میری محبت کو کسی کی خوشیوں کی قیمت نہ بننے دینا۔‘‘
مگر قدرت کے فیصلے کچھ اور تھے۔اس کی خالہ نےصالحہ کو الیاس کے لیے پسند کر لیا اور دونوں کی شادی ہو گئی۔
زلیخا نے اپنی محبت کی خاطر نہ بہن کے خلاف آواز اٹھائی، نہ کسی کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کیا۔ شادی سے پہلے کے دن اس کے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھے۔ ہر تیاری، ہر رسم اور ہر خوشی اسے یاد دلاتی کہ جس شخص کو وہ برسوں سے اپنے لیے مانگ رہی تھی، وہ اب اس کی بہن کی زندگی کا حصہ بننے جا رہا ہے۔
زلیخا نے اپنے دل کو مضبوط کیا اور بہن کی خوشی میں شریک ہوئی۔ رخصتی کے وقت اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کو سب نے بہن کی جدائی کا دکھ سمجھا۔ کسی کو خبر نہ ہوئی کہ ان آنسوؤں میں ایک ایسی محبت بھی دفن تھی جس کے لیے اس نے اپنی تمام خواہشیں قربان کر دی تھیں۔
شادی کے بعد زلیخا کے لیے بھی کئی رشتے آئے، مگر اس نے ہر بار کوئی نہ کوئی عذر پیش کرکے انکار کر دیا۔ والدین کے انتقال کے بعد تو اس نے شادی کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیا۔ خالہ نے بہت سمجھایا، مگر اس کا فیصلہ اٹل رہا۔
وقت گزرتا گیا۔ صالحہ کے بچے بڑے ہونے لگے، مگر اس کی صحت مسلسل خراب رہنے لگی۔ جب وہ بستر تک محدود ہوئی تو زلیخا نے اس کے بچوں کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا لی۔ وہ انہیں اپنے بچوں کی طرح چاہتی، ان کی ضروریات پوری کرتی اور ان کی خوشیوں کے لیے اپنی خواہشیں قربان کر دیتی۔
الیاس بھی اب عمر کے اس حصے میں داخل ہو چکا تھا جہاں زندگی کی تیز رفتار دھیمی پڑنے لگتی ہے۔ زلیخا اس کی عزت کرتی، اس کی ضروریات کا خیال رکھتی، مگر کبھی اپنی محبت کو اس کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیتی۔ اس کے لیے الیاس اب اس کی بہن کا شوہر تھا، اور یہی رشتہ اس کے لیے سب سے محترم تھا۔
ایک دن الیاس نے اس سے پوچھ ہی لیا، ’’زلیخا! تم نے اپنی پوری زندگی ہمارے بچوں کے لیے وقف کر دی۔ کبھی اپنے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟ کیا تمہیں کبھی کسی سے محبت نہیں ہوئی؟‘‘
زلیخا نے نظریں جھکا لیں۔
’’محبت ہوئی تھی، مگر میں نے اسے اپنی خواہش نہیں، اپنی آزمائش سمجھا۔ میں چاہتی تو اپنے دل کی بات کہہ سکتی تھی، مگر پھر تمہاری زندگی، میری بہن کی خوشیاں اور اس گھر کا سکون داؤ پر لگ جاتا۔ میں نے تمہیں کھونے کا دکھ تو برداشت کر لیا، لیکن اپنی بہن کا گھر اجاڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔‘‘
الیاس خاموش ہو گیا۔ شاید پہلی مرتبہ اسے احساس ہوا تھا کہ اس کی زندگی کے آس پاس ایک ایسی محبت بھی موجود تھی جس نے کبھی اپنے لیے کچھ نہیں مانگا۔ پھر الیاس کی حادثاتی موت نے اس راز کو ہمیشہ کےلئے دفن کر دیا۔
زلیخا نے دوبارہ تسبیح ہاتھ میں تھام لی۔
’’میں نے اسے اللہ سے مانگا تھا، مگر جب وہ تمہارے نصیب میں لکھا گیا تو میں نے اللہ کے فیصلے کو قبول کر لیا۔ پھر میں نے دعا کی کہ میرے دل میں کوئی ایسی خواہش نہ رہے جو مجھے میرے رب کی رضا سے دور کر دے۔‘‘
صالحہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس نے اپنی بہن کا ہاتھ تھام لیا، مگر زلیخہ کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
اس کی دیوانگی کی حد یہ نہیں تھی کہ وہ اپنی محبت حاصل کرنے کے لیے ہر رشتے کو بھول جاتی، بلکہ اس کی محبت کی انتہا یہ تھی کہ اس نے اپنے دل کی سب سے عزیز خواہش کو قربان کرکے اپنی بہن کی خوشیوں کی حفاظت کی۔
کچھ محبتیں وصال کی محتاج نہیں ہوتیں۔ وہ انسان کے اندر خاموشی سے زندہ رہتی ہیں اور اسے قربانی، وفا اور صبر کا مفہوم سمجھا جاتی ہیں۔
زلیخہ کی دیوانگی کی حد یہی تھی کہ اس نے اپنی محبت کو پانے کے بجائے اسے عزت کے ساتھ کھو دینا قبول کیا۔
مزید پڑھیں




