سکوٹی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا ؟ تحریر: کلثوم افتخار
نقطہ نظر
حضرت انسان نے ذرائع آمد و رفت کے لیے مختلف ذریعے اور وسائل استعمال کیے انہی میں سے آج کل استعمال کیا جانے والا ایک اہم ذریعہ سکوٹی بھی ہے یہ آمد و رفت کا ایک بہترین اور مقبول ترین ذریعہ تو ہے ہی بالخصوص خواتین طالب علموں اور ملازمت پیشہ لڑکیوں کے لیے بہت کرامت ثابت ہو رہا ہے جہاں اس کے بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے نقصانات سے چشم پوشی اختیار کرنا بے وقوفی ہے بے شک پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے سکوٹی کا استعمال پٹرول سے نجات ہی ہے پھر بجلی سے چارج کر کے اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے سب سے اہم بات سکیورٹی کی وجہ سے خواتین اور کالج یونیورسٹی جانے والی بچیوں کو عوامی سفر سے نجات ملی ہے بس یا ویگن اڈوں پر گھنٹوں انتظار ختم ہوا اب بغیر کسی کی محتاجی کے وہ خود مختاری سے سفر کر سکتی ہیں چونکہ اس کا سائز بھی چھوٹا ہے تو ٹریفک میں سے بھی اسانی سے گزارا جا سکتا ہے پھر اس کا چلانے کا سسٹم بھی بہت اسان ہے کلچ دبانے کی ضرورت نہیں اس کو اسانی سے سیکھا اور چلایا جا سکتا ہے اور اگلی اہم بات کہ یہ ماحول دوست ہے فضائی الودگی کو ختم کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کر سکتی ہے
لیکن سب سے بڑا مسئلہ جو سکوٹی چلانے والی بچیوں کو درپیش ہے وہ ہے ہماری خراب سڑکیں اور اس کے پیوں کا سائز بہت چھوٹا ہے عام موٹر سائیکل جس کو کسی زمانے میں شیطانی چرخا بھی کہا جاتا تھا یوں سمجھ لیں سکوٹی اس شیطانی چرخے کی چھوٹی ہمشیرہ ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوگا کہ کیوں سکوٹی کو چلانے والے لوگوں کی اکثریت میں کم عمر بچے اور بچیاں خواتین اور کالج یونیورسٹی جانے والی نوجوان بچیاں شامل ہیں زیادہ تر نے حفاظتی اقدامات نہیں کیے ہوتے وہ تام جام جو ترقی یافتہ ممالک میں سکوٹر یا سکوٹی چلاتے ہوئے کیا جاتا ہے وہ ہمارے ہاں کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے سکوٹی چلانے کے لیے ذہنی تربیت کی زیادہ ضرورت ہے جس کا فقدان ہے 60 کی سپیڈ اندرون شہر یا گلی کوچوں میں کافی زیادہ ہوتی ہے۔ پھر سب سے بڑی بات کہ سکوٹی ڈرائیوروں نے کوئی لائسنس حاصل نہیں کیا ہوا 16 سال سے کم عمر کے بچے بچیاں بھی چلا رہے ہیں اور 16 سال سے زیادہ عمر کے بچے اور بچیاں بھی چلا رہے ہیں یہ منظر تو بارہا سامنے اتا ہے کہ اپ اپنی گاڑی پر مناسب رفتار کے ساتھ بھی ا رہے ہیں اور اچانک کسی گلی کے نکر یا موڑ سے ایک سکوٹی چلاتی ہوئی ہمشیرہ یا چھوٹا سا بچہ نمودار ہو جاتا ہے اور اس کی رفتار بھی اچھی خاصی ہوتی ہے اس دوران اگر آپ ہوشیار ڈرائیور نہیں ہیں اور اپ اگر اعلی مہارت یافتہ بھی ہیں تب بھی اس اچانک صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے اپ کو اس کی سنگینی کا احساس ہونے لگ جاتا ہے اور اگر ایک طرف نالہ ہو اور سڑک تنگ ہو اور سکوٹی سامنے سے رفتار سے تشریف لا رہی ہے اور اچانک سے آ جائے تو آپ کے لیے خود کو سنبھالنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھنا بڑا ہی مشکل ہو جاتا ہے چھوٹے بچے بالخصوص پانچویں چھٹی کلاس کے بچے بھی سکوٹی چلاتے ہوئے بہت زیادہ دیکھے گئے ہیں چھوٹی گلیوں کی حد تک اگر یہ محدود رہتے ہوتے تو شاید یہی سمجھا جاتا کہ قریب کی دکان پر دودھ نہیں لینے گئے ہیں یا سبزی لینے کے لیے نکلے ہیں لیکن صورتحال گمبھیر اس وقت ہو جاتی ہے جب ان کے پیچھے بیٹھی ہوئی اماں جان اور ان کے ساتھ ایک عدد اور بچہ بھی بیٹھا ہو اور بچہ اور اگے ڈرائیور بمشکل نو یا 10 سال کا ہو اور بغیر کسی کام جام کے تو حادثات کا ہونا یقینی بن جاتا ہے پھر اکثر سکوٹی سکوٹیوں کا ہارن اتنا دھیما ہوتا ہے اول تو اس کو بچانے کی زحمت ہی نہیں کی جاتی اور یہ معلوم ہی نہیں ہو پڑتا کہ سکوٹی والی باجی دائیں مڑیں گی یا بائیں مڑیں گی یا سیدھے جائیں گی اور پھر اچانک بائیں مڑتے مڑتے انہیں یاد ا جاتا ہے کہ انہیں تو دائیں جانا تھا اور اس دائیں بائیں کے چکر میں اپنی اپنی لائن میں لگے ہوئے ڈرائیور حضرات اور خواتین کو اچھی خاصی گھمبیر صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی کبھی اپ مرکزی شاہراہ پر 60 70 کی رفتار سے سفر کر رہے ہوں اور اچانک مددگاری سڑک یا کسی چوک سے 12یا 13 سال کا سکوٹی ڈرائیور اپنی سکوٹی پر نمودار ہو جائے اور رفتار بھی خاصی تیز ہو تو ایسے میں سڑک پر رواں جلدی ہوئی گاڑیوں کو ہٹو بچو ہٹو بچو کی اواز ہی سنائی دیتی ہے اور یہ صورتحال کافی مضحکہ خیز تب بھی بن جاتی ہے جب سکوٹی ڈرائیور کی سکوٹی کی اچانک بیٹری بیچ چوراہے یا سڑک پہ بند ہو جائے ایسے میں ان ننھے منے ڈرائیور بچوں اور بچیوں پر ترسانے لگتا ہے اس کو پیدل لے کر چلنا کافی تھکا دینے والا اور مشکل امر ہے ہمارے ہاں سکوٹی ایسے ہی بن چکی ہے جیسے کسی نہ تجربہ کار شخص کے ہاتھ میں گولا بار و د تھما دیا جائے ۔ سڑکوں پر آج کل سکوٹیاں چلتے پھرتی موت کے کنویں ہیں یہ بات تو طے ہے کہ سکوٹی سے پٹرول کی بچت تو ہوتی ہے لیکن اس کے اگے کیا ہوگا اور اس سے درپیش مسائل سے کیسے نمٹا جائے گا یہ بہت بڑا اہم مسئلہ ہے سکوٹی چلانے والے تربیتی مراکز کہ نہ ہونے کی وجہ سے بغیر لائسنس کے سات سال سے لے کر اکثریت 18یا 19 سال تک کے بچوں اور بچیوں کے چلانے والوں کی ہے جس میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہے ٹریننگ بس اتنی سی دی جاتی ہے کہ گھر کے کسی بزرگ والد یا بڑے بھائی نے سکوٹی یا بائیک چلانا سکھا دیا اور گھر کی طرف سے ان کو لائسنس از خود جاری کر دیا گیا کہ اب اپ سڑک پر سکوٹی لے کر جا سکتی ہیں یہ صریحاً خودکشی کے مترادف ہے بلکہ یہ خودکش بمبار کسی حیثیت اس کو حاصل ہے کہ آپ خود بھی محفوظ نہیں اور دوسرے بھی آپ کی سکوٹی سے محفوظ نہیں ابھی حال ہی میں سکوٹی کی بیٹری کی وجہ سے ہونے والے مسائل سامنے ائے ہیں غیر معیاری بیٹریوں کے گرم ہو کر آگ پکڑنے کے واقعات بھی کافی تعداد میں ہو چکے ہیں سکوٹی کا وزن ہلکا ہونے کی وجہ سے چوروں کے لیے اسے اٹھا کر لے کر جانا اور اس پر لاک توڑنا تالا توڑنا بڑا اسان ہو جاتا ہے سب سے اہم مسئلہ چارجنگ کرنے کے لیے ایسے مقامات اور مراکز موجود نہیں ہیں ہم من حیث القوم بہت سے معاملات میں ترقی یافتہ قوموں کی نقل کرتے تو نظر اتے ہیں اس کی ایک اہم مثال برگر کھانا ترقی یافتہ ممالک کے مرد و زن کے پاس کھانا پکانے کے لیے وقت نہ ہونے کی وجہ سے برگر اور پیزے ایجاد ہوئے کیونکہ وہ کام کاج کرنے والی اقوام ہیں اور ان کے پاس ہماری طرح فراغت کے لمحات نصیب میں نہیں ہوتے تو وہ جلدی جلدی کچھ نہ کچھ کھا کر اپنا پیٹ بھرنے کا انتظام کر لیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کو صحت کے کچھ مسائل بھی صحت کے وہ مسائل درپیش نہیں ہوئے جو برگر اور پیزے کھانے کی وجہ سے ہمیں ہوئے کیونکہ انہوں نے کام کے دوران برگر اور پیزا چلتے چلتے کھایا اور پھر ان کے پیدل چلنے کا راستہ بہت لمبا ہوتا ہے کبھی اپ باہر جائیں تو اپ کو انگریز بہت لمبا لمبا دورانیہ پیدل چلتے ہوئے نظر ائیں گے جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے برگر اور پیزے کھا کر اگر ہم نے بستروں پر اس طرح فرمانا ہے تو پھر موٹاپا اور دوسری بیماریاں جلد حملہ آور ہو جاتی ہیں اسی طرح ہم نے سکوٹی کو چلانا تو شروع کر دیا اور خود مختاری کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لیا ہم اس فہرست میں شامل ہو گئے بلکہ خود کو اس فہرست میں شامل سمجھنے لگ گئے کہ ہماری خواتین معاشی خود مختاری اور ذرائع آمد و رفت کی خواری سے بچنے کے لیے سکوٹی کو ذریعہ
آمد و رفت استعمال کر لیں بالکل درست ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن سکوٹی چلانے والوں کے لیے ایک خاص عمر کی حد طے ہونی ضروری ہے دوسرا اہم نکتہ لائسنس جاری کرنا ہے اور ایک مخصوص ٹیسٹ پاس کرنا ہے اور تیسرا اہم نکتہ سکوٹی والوں کو بھی دائیں بائیں مڑنے کا اشارہ دینا ضروری ہے ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے اندھا دھند تقلید ضروری نہیں ہے بلکہ اپنے وسائل اور مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے افراد کے لیے سہولت مہیا کرنا ترقی یافتہ ہونے کی علامت ہے پاکستان کے ہر بڑے شہر میں اس وقت سکوٹی چلانے لانے والی بچیوں کی بہت بڑی تعداد ہے ۔ اگرچہ سماجی رویے بڑی حد تک اس سلسلے میں رکاوٹ بن رہے ہیں گاؤں دیہاتوں قصبوں اور کچھ علاقوں میں اب بھی خواتین کا سکوٹی چلانا معاشرتی طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ سکوٹی چلانے سے بچیاں مناسب حد تک ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کے سفر کے دوران دوسرے مرد مسافروں کے نازیبا اشاروں اور گفتگو سے محفوظ رہتی ہے لیکن جناب اس کا کیا کیجیے۔ کہ جب سڑک پر ہماری خواتین یا بچیاں سکیورٹی لے کر نکلیں تو مرد حضرات ان پر جملے کسنا شروع کر دیتے ہیں یا نا مناسب فقرے بازیاں ہوتی ہیں یہ بھی ایک بڑی تلخ صورتحال ہے لیکن سلام ہے ان بچیوں کے جوش و خروش اور ان کی ہمت کو کہ وہ سکوٹی لے کر اپنی منزل کی طرف گامزن ہوتی ہیں جن مسائل کا ذکر اوپر کیا گیا ہے وہ صرف اور صرف سکوٹی ڈرائیور بچوں بچیوں کے لیے تحفظ کی گارنٹی بنتے ہیں آگاہی مہم کے ذریعے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کس عمر سے بچے اور بچیاں سکوٹی چلانے کی اجازت حاصل کر سکتے ہیں اور ان کے لیے بھی کوئی ٹیسٹ رکھا جائے تاکہ ان کی ڈرائیونگ کی صلاحیت کا جائزہ لیا جا سکے ۔ لائسنس دیا جائے تاکہ وہ بھی مزید پر اعتماد ہو کر اس سواری کو اپنے لیے شیطانی چرخہ نہ بنائے بلکہ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں بیٹری کا مسئلہ حل کرنے کے لیے شدت سے ضرورت ہے بدقسمتی سے من حیث القوم ہم نے ہر چیز کو دو نمبر کرنا شروع کر دیا ہے اگر اعلیٰ معیار کی بیٹری لگائی جائے تو اس کو بھی تبدیل کروانا پڑے گا لیکن کم سے کم تین چار سال کے بعد ائے دن بیٹریاں پھٹنے کے واقعات ہونے لگ گئے ہیں۔ یہ غیر معیاری ساز و سامان بیٹریوں میں لگانے کی وجہ سے ہے۔. مناسب پالیسیوں اور اقدامات سے سکوٹ کو فروغ دینا چاہئے لیکن حفظان زندگی کے اصولوں پر عمل پیرا کروانا اشد ضرورت ہے
مزید پڑھیں



