بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

غزہ میں بھوک،تحریر:دانیال حسن چغتائی

نقطہ نظر
danial hassan

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک نے مالی وسائل کی کمی کے باعث فلسطینیوں کے لیے غذائی امداد میں ایک تہائی کمی کا اعلان کیا ہے جس کے بعد غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ادارے کے مطابق اب 16 لاکھ کے بجائے صرف 11 لاکھ افراد کو غذائی امداد فراہم کی جائے گی، جبکہ روزانہ خوراک دینے کے بجائے ایک دن چھوڑ کر کھانا فراہم کیا جائے گا۔ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث لاکھوں فلسطینی امدادی خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں امداد میں کمی ہزاروں خاندانوں کو مزید مشکلات سے دوچار کر سکتی ہے۔

جنگیں گولیوں، بموں اور میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ جب بھوک کو ہتھیار بنا لیا جائے تو انسانی المیہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ غزہ آج اسی تلخ حقیقت کا سامنا کر رہا ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں نے شہری ڈھانچے، اسپتالوں، اسکولوں، عبادت گاہوں اور رہائشی علاقوں کو تباہ کر دیا ہے۔ ہزاروں مرد، خواتین اور بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوکر خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں خوراک کی فراہمی میں کمی متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گی۔

بظاہر جنگ بندی اور امن کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن اگر بچے بھوک سے بلکتے رہیں، بیمار مناسب غذا سے محروم ہوں اور خاندانوں کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہ آئے تو ایسے امن کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟ غزہ کے لاکھوں باشندوں کو درپیش صورت حال عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ جنگ کے اثرات صرف تباہ شدہ عمارتوں اور جانی نقصان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ بھوک، بیماری اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی بھی انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔

دنیا کا ایک بڑا المیہ وسائل کی کمی سے زیادہ ان کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ عالمی سطح پر ہر سال ایک ارب ٹن سے زائد خوراک ضائع ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ کروڑوں انسان بھوک کا شکار ہیں۔ شادی بیاہ، دعوتوں، ہوٹلوں اور گھریلو تقریبات میں بڑی مقدار میں کھانا کچرے کی نذر ہو جاتا ہے۔ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں بھی خوراک کے ضیاع پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعلیمات رزق کی قدر، اسراف سے اجتناب اور ضرورت مندوں کی مدد کا درس دیتی ہیں، لیکن عملی زندگی میں ان اصولوں پر مکمل عمل دکھائی نہیں دیتا۔ اگر ضائع ہونے والی خوراک کا ایک حصہ بھی منظم انداز میں مستحق افراد تک پہنچایا جائے تو بہت سے بھوکے انسانوں کی مدد ممکن ہے۔

غزہ کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا المیہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی برادری، اسلامی تعاون تنظیم، عرب ممالک اور امدادی اداروں پر لازم ہے کہ وہ غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ امدادی اداروں کی مالی ضروریات پوری کی جائیں اور غزہ تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے۔ انسانی امداد کو سیاسی اختلافات اور مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔

مسلم دنیا کو بھی بیانات اور مذمتی قراردادوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ زکوٰۃ، صدقات، اوقاف اور فلاحی اداروں کے منظم نظام کے ذریعے غزہ کے متاثرین کے لیے مستقل غذائی امداد کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے آگاہی مہمات اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

خوراک اور زندہ رہنے کا حق ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ غزہ کے بچے بھی اسی طرح زندگی، تحفظ اور بہتر مستقبل کے حق دار ہیں جیسے دنیا کے کسی دوسرے خطے کے بچے۔ اگر عالمی برادری اس حق کے تحفظ میں ناکام رہتی ہے تو یہ صرف غزہ کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی اخلاقی شکست ہوگی۔ غزہ پہلے ہی تباہی، بے گھری اور انسانی مصائب کا سامنا کر رہا ہے۔ کیا اب باقی رہ جانے والے لاکھوں انسانوں کو بھوک کے حوالے کر دیا جائے؟ دنیا کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ بھوک کو ہتھیار بننے سے روکنا انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔