ہماری زندگی، ہمارے فیصلے،تحریر:دانیال حسن چغتائی
نقطہ نظر
انسان معاشرتی حیوان ہے اور معاشرے کا حصہ ہونے کے ناطے وہ لوگوں سے جڑا رہتا ہے۔ لیکن اکثر اوقات معاشرتی تعلقات اور لوگوں کی باتوں میں آ کر انسان اپنی زندگی کا مالک ہونے کے بجائے دوسروں کو مطمئن کرنے والی وضاحتی مشین بن کر رہ جاتا ہے۔ ہر بات پر دلیل دینا، اپنے ہر عمل کی صفائی پیش کرنا اور دوسروں کی نظر میں خود کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنا انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ کی زندگی آپ کی اپنی ملکیت ہے۔ خالقِ حقیقی نے آپ کو منفرد انسان بنا کر بھیجا ہے اور آپ کو اپنی زندگی کے راستے منتخب کرنے کا پورا حق دیا ہے۔ ہماری زندگی میں کچھ پہلو ایسے ہوتے ہیں جو بالکل ذاتی، مقدس اور حساس ہوتے ہیں۔ ان پر کسی دوسرے کو سوال اٹھانے کا حق ہے اور نہ ہی آپ کو ان کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارا قد، رنگت، جسمانی بناوٹ، بالوں کا انداز یا لباس کا انتخاب یہ تمام چیزیں ہماری انفرادیت کا حصہ ہیں۔ بدقسمتی سے، ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں خوبصورتی کے مصنوعی معیارات قائم کر دیے گئے ہیں۔ لوگ اکثر بغیر سوچے سمجھے دوسروں کے جسم، وزن، رنگت یا کپڑوں کے انتخاب پر تبصرے کرتے نظر آتے ہیں۔
آپ کو خوبصورت، سلم، گورا یا معینہ معیار پر پورا اترنے کے لیے کسی کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ کا جسم آپ کا اپنا گھر ہے۔ آپ کس طرح کے کپڑے پہنتے ہیں، کس انداز میں رہتے ہیں یا کیسے نظر آتے ہیں، یہ آپ کا ذاتی انتخاب ہے۔ اگر آپ اپنے لُک سے مطمئن ہیں اور وہ آپ کو خوشی دیتا ہے، تو آپ کو کسی کے آپ ایسی کیوں لگ رہی ہیں؟ یا آپ نے یہ رنگ کیوں پہنا؟ جیسے سوالات کے جواب دینے کا کوئی مکلف نہیں۔ آپ کی ظاہری شخصیت آپ کے لیے ہے، دنیا کی پسند و ناپسند کا پابند ہونا آپ کی ذمہ داری نہیں۔
تعلیم حاصل کرنا بہترین سفر ہے لیکن تعلیم کا مقصد شعور پیدا کرنا ہے نہ کہ دوسروں پر رعب کمانا یا ان کے سامنے خود کو ثابت کرنا ہوتا ہے ۔ معاشرے میں لوگ ڈگریوں کی بنیاد پر دوسروں کو ناپتے ہیں۔ کون کتنا پڑھا لکھا ہے، کس نے اعلیٰ یونیورسٹی سے ڈگری لی، اور کون تعلیم مکمل نہ کر سکا۔
اگر آپ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکے یا آپ نے روایت سے ہٹ کر کوئی ہنر سیکھنے کو ترجیح دی یا کسی وجہ سے آپ کا تعلیمی سفر درمیان میں ادھورا رہ گیا تو آپ کو اس پر شرمندہ ہونے یا کسی کے سامنے لمبی لمبی وضاحتیں پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ڈگری کاغذ کا ٹکڑا ہے جبکہ حکمت، قابلیت، محنت اور انسان کا اخلاق اس کا حقیقی اثاثہ ہوتے ہیں۔ آپ کی صلاحیتیں اور زندگی کا تجربہ تعلیمی ڈگریوں کا مرہونِ منت نہیں ہے۔
ایمان، روحانیت اور خدا سے تعلق انسان کا سب سے پرائیویٹ اور مقدس معاملہ ہے۔ آپ کا خالق سے کیا رشتہ ہے، آپ کی عبادات کا طریقہ کیا ہے، یا آپ زندگی کے کس روحانی مرحلے پر ہیں، یہ صرف آپ اور آپ کے رب کے درمیان کا معاملہ ہے۔
معاشرے میں اکثر لوگ روحانی جج بن کر دوسروں کے ایمان کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ آپ کتنے مذہبی ہیں، آپ کا طریقہ کار کیا ہے یا آپ کی سوچ مختلف کیوں ہے۔
آپ کا ایمان کتنا گہرا ہے؟
آپ خلوت میں اپنے رب سے کیسے مانگتے ہیں؟
آپ کا طریقہ عبادت کیا ہے؟
ان تمام باتوں کی وضاحت دنیا کے کسی انسان کو دینا آپ پر فرض نہیں ہے۔ خدا دلوں کے حال خوب جانتا ہے اور وہی واحد منصف ہے۔ کسی دوسرے انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ آپ کی نیت یا ایمان کا سرٹیفکیٹ جاری کرے اور نہ ہی آپ پر لازم ہے کہ آپ اس کی عدالت میں پیش ہوں۔
انسان کو مسلسل لوگوں کے درمیان رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنے کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ تنہائی کے لمحات انسان کی ذہنی صحت، سوچ بچار اور اندرونی سکون کے لیے لازمی ہیں۔
اگر آپ کبھی کسی پارٹی، تقریب یا اجتماع میں جانے سے انکار کرتے ہیں یا چند دن سوشل میڈیا سے دور ہو کر اپنے کمرے کی تنہائی کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ مغرور ہیں یا دوسروں سے نفرت کرتے ہیں۔
می ٹائم کوئی گناہ نہیں ہے: آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ آپ اکیلے کیوں رہنا چاہتے ہیں یا آپ نے فون کیوں اٹینڈ نہیں کیا۔ اپنی توانائی کو بحال کرنے اور ذہن کو سکون دینے کے لیے تنہائی اختیار کرنا آپ کا بنیادی حق ہے، جس کی صفائی پیش کرنا کسی صورت لازم نہیں ہے۔
آپ کی زندگی کا سفر صرف آپ کا اپنا سفر ہے۔ اس سفر میں آپ کیا فیصلے کرتے ہیں مثلاً: آپ شادی کب اور کس سے کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔
آپ کے بچے کتنے ہوں گے یا کب ہوں گے۔
آپ اپنے کیریئر میں کیا راستہ منتخب کرتے ہیں۔
آپ کہاں رہتے ہیں اور اپنے پیسے کہاں خرچ کرتے ہیں۔
یہ تمام فیصلے آپ کی زندگی کی بنیاد ہیں۔ لوگ آپ کو مشورے دے سکتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ اور اس کے اثرات صرف آپ کو جھیلنے ہوتے ہیں۔ جب نتائج آپ نے بھگتنے ہیں، تو پھر فیصلہ بھی آپ کا ہی ہونا چاہیے۔
اگر آپ اپنے کیریئر کی سمت بدلتے ہیں، یا کسی ناخوشگوار رشتے سے نکلنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو آپ کو لوگوں کی باتوں یا ان کی عدم منظوری کا بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کی زندگی آپ کی اپنی پسند اور ترجیحات پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ اس بات پر کہ لوگ کیا کہیں گے۔
زندگی بہت مختصر ہے اور اسے دوسروں کو خوش کرنے یا ان کے سامنے صفائیاں پیش کرنے میں ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ جب آپ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ آپ کو ہر کسی کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہے تو آپ کے اندر عجیب و غریب سکون اور طاقت پیدا ہوتی ہے۔
اپنی زندگی کو عزت دیں، اپنی ترجیحات کا احترام کریں اور اپنے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔ لوگ کیا سوچتے ہیں اور کیا کہتے ہیں، یہ ان کا ظرف اور ان کا زوایہ نظر ہے۔ آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ آپ اپنے آپ سے مخلص رہیں، اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں اور پرسکون زندگی گزاریں۔
آج سے ہی خود سے یہ عہد کریں کہ ان پانچ شعبوں میں کسی کے سامنے وضاحتی خطوط پیش کرنا بند کریں گے۔ اپنی حدود قائم کریں اور اپنی زندگی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں۔ یہی پرسکون، باوقار اور آزادانہ زندگی کا حقیقی راز ہے۔
مزید پڑھیں





