دریائے چناب کے کنارے آباد ایک چھوٹے سے گاؤں میں فجر کی اذان کے ساتھ ہی زندگی جاگ اٹھتی تھی۔ کچے مکانوں کی چھتوں سے دھواں اٹھتا، مرغ بانگ دیتے، اور کھیتوں کی طرف جانے والی پگڈنڈیوں پر کسانوں کے قدموں کی آہٹ سنائی دینے لگتی۔ اسی گاؤں کے آخری سرے پر ایک چھوٹا سا گھر تھا، جس کے صحن میں نیم کا گھنا درخت اپنی ٹھنڈی چھاؤں بکھیرے کھڑا رہتا تھا۔ اس گھر میں رحمت علی اپنی بیوی سکینہ، بیٹی زینب اور چھوٹے بیٹے بلال کے ساتھ رہتا تھا۔
رحمت علی کے پاس ڈھائی ایکڑ زمین تھی اور دو بھینسیں۔ یہی ان کی کل کائنات تھی۔ محنت وہ دن رات کرتا تھا، مگر کمائی اتنی ہی ہوتی کہ بس دو وقت کی روٹی چل جاتی۔ پھر بھی اس کے چہرے پر شکایت کبھی نہ آتی تھی۔ وہ اکثر کہتا، «اللہ نے ہاتھ دیے ہیں تو رزق بھی دے گا۔»
زینب چودہ برس کی تھی اور گاؤں سے تین کلومیٹر دور سرکاری گرلز اسکول میں آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ وہ روز صبح سویرے اٹھ کر ماں کے ساتھ روٹیاں پکواتی، بھینسوں کو چارہ ڈالتی، پھر کتابوں کا تھیلا کندھے پر ڈال کر سہیلیوں کے ساتھ پیدل اسکول روانہ ہو جاتی۔ راستے میں گندم کے کھیت لہلہاتے، نہر کا پانی چمکتا، اور زینب دل ہی دل میں اپنے خواب دہراتی رہتی۔
زینب کا خواب بہت سادہ مگر بہت بڑا تھا۔ وہ استانی بننا چاہتی تھی۔ اس کی استانی مس فرح اس کے لیے روشنی کا مینار تھیں۔ وہ جب تختۂ سیاہ پر لکھتیں تو زینب کو لگتا جیسے ہر حرف ایک دروازہ ہے جو کسی نئی دنیا میں کھلتا ہے۔ ایک دن مس فرح نے کلاس میں کہا تھا، «بیٹیو! علم وہ دولت ہے جسے نہ سیلاب بہا سکتا ہے، نہ کوئی چور چرا سکتا ہے۔» یہ جملہ زینب کے دل پر نقش ہو گیا۔
رات کو جب سب سو جاتے تو زینب مٹی کے تیل کے دیے کی مدھم روشنی میں پڑھتی رہتی۔ ماں کبھی کبھی ٹوکتی، «بیٹی، آنکھیں خراب ہو جائیں گی، سو جا۔» زینب مسکرا کر کہتی، «اماں، آنکھیں تو پھر بھی بنیں گی، یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا۔»
رحمت علی بیٹی کی لگن دیکھ کر دل میں خوش ہوتا۔ وہ خود پڑھا لکھا نہ تھا، مگر اس نے ٹھان رکھی تھی کہ بیٹی کو ضرور پڑھائے گا، چاہے اسے اپنی زمین کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ بیچنا پڑے۔
اس سال برسات معمول سے کہیں زیادہ سخت تھی۔ کئی دن مسلسل بارش ہوتی رہی۔ بزرگ آسمان کی طرف دیکھ کر دعائیں مانگتے، مگر بادل تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ پھر ایک رات پہاڑوں سے آنے والے پانی نے دریا کا بند توڑ دیا۔
آدھی رات کو گاؤں میں شور مچ گیا، «پانی آ گیا! پانی آ گیا!» لوگ بچوں کو اٹھائے، سامان چھوڑے، اونچی جگہوں کی طرف بھاگنے لگے۔ رحمت علی نے بیوی اور بچوں کو مسجد کی چھت پر پہنچایا۔ پھر اسے اپنی بھینسوں کا خیال آیا۔ وہ واپس دوڑا، رسیاں کھولیں اور جانوروں کو محفوظ جگہ کی طرف ہانکا۔ اسی افراتفری میں کیچڑ میں اس کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے ملبے پر گر پڑا۔ اس کی ٹانگ کی ہڈی بری طرح ٹوٹ گئی۔
جب صبح ہوئی تو منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ کھیت پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، فصل برباد ہو چکی تھی، اور گھر کی ایک دیوار بیٹھ گئی تھی۔ ایک بھینس سیلاب کی نذر ہو گئی تھی۔ رحمت علی کو شہر کے اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ آپریشن ہوگا اور کئی مہینے چلنا پھرنا ممکن نہیں۔
سکینہ کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ بلال صرف نو برس کا تھا اور سہما ہوا ماں کا دوپٹہ پکڑے کھڑا تھا۔ گھر پر قرض کا بوجھ بھی تھا، اور اب کمانے والا ہاتھ بستر پر پڑا تھا۔
چند دن بعد رشتے دار خیریت پوچھنے آئے۔ زینب کے چچا نذیر نے، جو خود کو گھر کا بڑا سمجھتے تھے، سکینہ سے کہا، «بھابھی، حالات سامنے ہیں۔ اب لڑکی کی پڑھائی کا خرچ کون اٹھائے گا؟ اسے اسکول سے اٹھا لو، گھر کے کام میں ہاتھ بٹائے گی۔ دو چار سال میں اچھا رشتہ دیکھ کر ذمہ داری سے فارغ ہو جاؤ۔»
سکینہ خاموش رہ گئی۔ اس کے دل میں بھی خوف تھا۔ وہ جانتی تھی کہ حالات واقعی مشکل ہیں۔ دروازے کی اوٹ میں کھڑی زینب سب سن رہی تھی۔ اس کے دل پر جیسے کسی نے بھاری پتھر رکھ دیا ہو۔ وہ چپ چاپ صحن میں نیم کے نیچے جا بیٹھی اور دیر تک زمین کو دیکھتی رہی۔
پھر اس نے آنکھیں پونچھیں اور ایک فیصلہ کیا۔ وہ اندر آئی اور ماں کے سامنے کھڑی ہو کر بولی، «اماں، میں پڑھائی نہیں چھوڑوں گی۔ مگر میں وعدہ کرتی ہوں کہ گھر کا بوجھ بھی تمھارے ساتھ اٹھاؤں گی۔ مجھے بس ایک موقع دیں۔»
چچا نے ہنس کر کہا، «بیٹی، یہ باتیں کتابوں میں اچھی لگتی ہیں۔» زینب نے ادب سے مگر مضبوط لہجے میں جواب دیا، «چچا جان، میں آپ کو غلط ثابت کرنے کے لیے نہیں، اپنے ابو کا سہارا بننے کے لیے یہ کہہ رہی ہوں۔»
سکینہ نے بیٹی کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھی جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا، «ٹھیک ہے بیٹی، اللہ تیری مدد کرے۔»
ایک نیا معمول
اس دن کے بعد زینب کی زندگی بدل گئی۔ اس نے اپنا دن اس طرح ترتیب دیا:
* فجر سے پہلے اٹھ کر بچی ہوئی ایک بھینس کا دودھ دوہنا، اور ماں کے ساتھ مل کر دودھ گاؤں کے گھروں میں پہنچانا۔
* اسکول جانا اور پوری توجہ سے پڑھنا۔
* واپس آ کر ابو کی دوا اور کھانے کا خیال رکھنا۔
* شام کو سلائی کا کام، جو اسے پڑوس کی خالہ صغریٰ نے سکھایا تھا۔
* رات کو دیے کی روشنی میں اپنی پڑھائی۔
کئی بار تھکن سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگتیں۔ ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے۔ کبھی دل چاہتا کہ سب چھوڑ دے۔ مگر جب وہ ابو کے کمرے میں جاتی اور رحمت علی ٹوٹی ٹانگ کے باوجود مسکرا کر کہتا، «میری بیٹی میرا بیٹا بھی ہے اور میرا فخر بھی»، تو اس کی ساری تھکن اتر جاتی۔
گاؤں میں سب لوگ زینب کے حق میں نہ تھے۔ کچھ عورتیں کنویں پر کھڑی سرگوشیاں کرتیں، «لڑکی ذات کو اتنا پڑھا کر کیا کرنا ہے؟ دودھ بیچتی پھرتی ہے، اسکول جاتی ہے، لوگ کیا کہیں گے؟»
ایک دن چچا نذیر نے بھی راستے میں روک کر طعنہ دیا، «بھتیجی، گھر بیٹھو، گاؤں میں ہماری عزت کا سوال ہے۔»
زینب نے سر جھکا کر نہایت نرمی سے کہا، «چچا جان، عزت محنت سے بنتی ہے، گھر میں بیٹھنے سے نہیں۔ میں کوئی غلط کام نہیں کر رہی۔ آپ دیکھیے گا، ایک دن یہی پڑھائی ہمارے گھر کی عزت بنے گی۔»
اس کے لہجے میں غصہ نہیں تھا، یقین تھا۔ چچا لاجواب ہو کر آگے بڑھ گئے۔
زینب نے محسوس کیا کہ گاؤں کی کئی لڑکیاں اس کی طرح پڑھنا چاہتی ہیں مگر اسکول دور ہونے یا گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے نہیں جا پاتیں۔ اس نے مس فرح سے مشورہ کیا۔ مس فرح کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انھوں نے کہا، «زینب، تم نے وہ بات سمجھ لی جو اکثر بڑے بھی نہیں سمجھ پاتے: علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔»
انھوں نے زینب کو پرانی کتابیں، کاپیاں اور کچھ چاک لا کر دیے۔ یوں شام کو عصر کے بعد نیم کے درخت تلے ایک چھوٹی سی کلاس شروع ہوئی۔ پہلے دن صرف تین بچیاں آئیں۔ ایک ہفتے بعد سات ہو گئیں۔ ایک مہینے بعد بارہ۔ زینب انھیں حروف سکھاتی، گنتی کرواتی اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں سناتی۔
پھر ایک دن عجیب بات ہوئی۔ کچھ مائیں بھی چادریں اوڑھے آ کر کونے میں بیٹھ گئیں۔ ایک نے جھجکتے ہوئے کہا، «بیٹی، ہمیں بھی اپنا نام لکھنا سکھا دو۔» زینب کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے اپنی ماں سکینہ کا ہاتھ پکڑ کر پہلی بار اسے اس کا نام لکھنا سکھایا۔ سکینہ کی انگلیاں کانپ رہی تھیں اور آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔ اس نے ٹیڑھے میڑھے حروف میں اپنا نام لکھا اور بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔
نیم کے درخت تلے جلنے والا یہ چھوٹا سا چراغ آہستہ آہستہ پورے گاؤں میں روشنی پھیلانے لگا۔
دو سال بیتے۔ رحمت علی اب لاٹھی کے سہارے چلنے لگا تھا۔ زینب دسویں جماعت میں پہنچ چکی تھی اور بورڈ کے امتحان سر پر تھے۔ اس نے دن رات ایک کر دیا تھا۔ امتحانی مرکز شہر میں تھا، جو گاؤں سے بیس کلومیٹر دور تھا۔
پہلے پرچے کی صبح پھر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ نہر چڑھ آئی تھی اور گاؤں کو شہر سے ملانے والا کچا پل آدھا ٹوٹ چکا تھا۔ بس کا آنا ناممکن تھا۔ سکینہ پریشان ہو گئی، «بیٹی، شاید اس بار نہ جا سکو۔ اللہ کی یہی مرضی ہوگی۔»
زینب نے کتابوں کا تھیلا پلاسٹک میں لپیٹا اور بولی، «اماں، میں نے دو سال اس دن کے لیے محنت کی ہے۔ راستہ نکل آئے گا۔»
اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ گاؤں کا ملاح، بابا کرم دین، اپنی چھوٹی کشتی کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس نے کہا، «بیٹی، میں نے سنا آج تیرا پرچہ ہے۔ چل، میں تجھے پار اتارتا ہوں۔» نذیر چچا بھی، جو چپ چاپ صحن کے کونے میں کھڑے تھے، آگے بڑھے اور بولے، «میں اپنا موٹر سائیکل لے کر پار کھڑا ہوں، آگے شہر تک میں چھوڑ دوں گا۔»
زینب نے حیرت سے چچا کو دیکھا۔ چچا نے نظریں چرا کر کہا، «چلو بیٹی، دیر ہو رہی ہے۔»
کشتی لہروں پر ہچکولے کھاتی پار پہنچی۔ بارش میں بھیگتی، کانپتی زینب امتحانی مرکز میں پہنچی تو پرچہ شروع ہونے میں صرف پانچ منٹ باقی تھے۔ اس نے گہرا سانس لیا، آنکھیں بند کر کے دعا پڑھی اور قلم اٹھا لیا۔
کچھ ہفتوں بعد نتیجہ آیا۔ زینب نے پورے ضلع میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔
جب یہ خبر گاؤں پہنچی تو لوگ ڈھول بجاتے ہوئے رحمت علی کے گھر کی طرف دوڑے۔ وہی عورتیں جو کبھی کنویں پر باتیں بناتی تھیں، آج مٹھائی کے تھال لیے کھڑی تھیں۔ اسکول کی ہیڈ مسٹریس نے زینب کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا، «تم نے پورے گاؤں کا سر فخر سے اونچا کر دیا۔»
چند دن بعد ضلعی انتظامیہ کی طرف سے زینب کو اعزاز اور اعلیٰ تعلیم کے لیے مکمل وظیفے کا اعلان ملا۔ اب وہ شہر کے کالج میں پڑھ سکتی تھی، اور اس کا خرچ اب کوئی بوجھ نہ تھا۔
اس شام نذیر چچا سر جھکائے رحمت علی کے پاس آئے۔ انھوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، «بھائی، میں غلط تھا۔ میں سمجھتا تھا بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں، مگر تمھاری بیٹی تو پورے خاندان کی روشنی نکلی۔» پھر زینب کی طرف مڑ کر بولے، «بیٹی، مجھے معاف کر دینا۔»
زینب نے مسکرا کر چچا کے ہاتھ تھام لیے، «چچا جان، آپ بڑے ہیں، معافی نہیں، بس دعا دیجیے۔»
رحمت علی نے بیٹی کو پاس بلایا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر فخر کی روشنی۔ اس نے کہا، «بیٹی، لوگ کہتے ہیں بیٹا بڑھاپے کا سہارا ہوتا ہے۔ آج تم نے ثابت کر دیا کہ بیٹی بھی سہارا ہوتی ہے، اور کبھی کبھی تو پورے گھر کا آسمان بھی۔»
سال گزرتے گئے۔ زینب نے کالج کے بعد تعلیم میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی اور اسی علاقے کے گرلز اسکول میں استانی بن گئی، بالکل اپنی مس فرح کی طرح۔ نیم کے درخت تلے لگنے والی وہ چھوٹی سی کلاس اب ایک باقاعدہ اسکول کی شکل اختیار کر چکی تھی، جس کی تختی پر لکھا تھا: «رحمت علی گرلز اسکول»۔
ہر صبح جب سینکڑوں بچیاں صاف ستھری وردیوں میں مسکراتی ہوئی اس کے دروازے سے اندر آتیں تو زینب کو اپنا بچپن یاد آ جاتا: دیے کی مدھم لو، تھکے ہوئے ہاتھ، اور ماں کی دعائیں۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر شکر ادا کرتی۔
اور جب کوئی ننھی بچی اس سے پوچھتی، «آپا جی، ہم بھی آپ کی طرح بن سکتے ہیں؟» تو وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر وہی بات کہتی جو کبھی مس فرح نے اس سے کہی تھی:
«بیٹی! مشکلیں آتی ہیں اور گزر جاتی ہیں۔ جو ہمت نہیں ہارتا، راستہ اس کے لیے خود بن جاتا ہے۔»
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ بیٹیاں بوجھ نہیں، رحمت اور طاقت ہوتی ہیں۔ حالات کتنے ہی سخت ہوں، اگر ارادہ پختہ ہو، نیت صاف ہو اور محنت جاری رہے تو کامیابی ضرور قدم چومتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، علم کا چراغ جب ایک گھر میں جلتا ہے تو اس کی روشنی پورے معاشرے کو منور کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیں






