ہم سے ہے یہ زمانہ ،تبصرہ نگار: فائزہ شہزاد
نقطہ نظر
مصنفہ: بشریٰ فرخ ( صدارتی ایوارڈ یافتہ)
16 مئی بروز ہفتہ کو خانہ فرہنگ ایران میں محترمہ بشریٰ فرخ صاحبہ نے ایک کتاب مُجھے دی ـ میں نے جیسے ہی ہاتھ میں لی تو چند لمحے اُس کے سرورق کو دیکھتی رہی ـ سرورق بہت عمدہ اور اپنے اندر گہرائی سموئے ہوئے ہیں ـ اِس میں ہار کا عنصر نہیں بلکہ مزاحمت، خود اعتمادی اور عزم و حوصلہ ہے ـ ٹوٹا ہوا پنچرہ اور اڑتی ہوئی عورت کی تصویر اپنی کہانی خود ہی سنا رہی ہےـ عورت کا پنجرے سے نکلنا یہی بتا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی بہادر بیٹیوں نے اپنے اپنے محاذ زندگی پر کس طرح جنگ لڑی اور پھر آخر میں وہ غازی بن گئی ۔۔۔ سرورق کو دیکھتے دیکھتے میری سوچ کی پرواز ناجانے کہاں کہاں پہنچ گئی اور دکھی دل کے ساتھ کتاب بیگ میں رکھ لی ۔۔ خواہش تھی کہ جلدی سے گھر جاؤں اور پنجرے میں قید پنچھیوں کی آپ بیتیاں پڑھوں ـ
بہت کم ایسی کُتب ہوتی ہیں جن کو آپ ایک ہی نشست میں پڑھ لیتے ہیں ـ فارغ ہوئی تو کتاب لی اور بیٹھ گئی ـ
محترمہ بشریٰ فرخ صاحبہ نے بہت خوبصورت پیش لفظ لکھا اور بہت خوبصورت پیغام دیا کہ" یہ سچی کہانیاں پڑھ کر ضرور سوچیئے گا کہ آپ کے گھر میں آپ کی بھابی، بہو، بیٹی یا بہن کہیں ظلم کا نشانہ تو نہیں بن رہیں ...."
پہلی کہانی " مجازی سے حقیقی تک " بشریٰ صاحبہ کی اپنی کہانی جس نے بہت کُچھ سوچنے پر مجبور کردیاـ ایک عورت جو چار بیٹیوں کے ساتھ تن تنہا معاشرے کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرتی رہی اور آخرکار معاشرے میں اپنا ایک نام، ایک مقام اور پہچان بنائی اور آج وہ ماشاء اللہ 28 کتابوں کی مصنفہ ہیں،
" ایک آنکھ والی " نام سے ہی بھی مختلف لگی ـ واقعی زندگی بھی کیا کیا اپنے رنگ دکھاتی ہے کہ اچھی بھلی بچی اور پھر بلاسٹ اور پھر معاشرے نے نام دے دیا ایک آنکھ والی ۔۔ مگر اُس ایک آنکھ والی نے اپنی ہمت اور حوصلے سے ثابت کیا کہ وہ ایک آنکھ والی نہیں تھی ہمارا معاشرہ تھا وہ تو دو آنکھوں والوں کو راستہ دکھا رہی تھی اور دکھاتی رہے گی ـ " ایک تھی شہزادی " کے آغاز میں لکھا گیا یہ شعر اُن کی داستان الم کو سنانے کے لئے ہی کافی ہے " کب ملی تھی کہاں بچھڑی تھی ہمیں یاد نہیں ، زندگی تُجھ کو تو بس خواب میں پایا ہم نے ـ" جب یہ شہزادی دنیا سے ٹکرائی تو پھر وہ ایک ڈری سہمی سی فاطمہ نہ رہی بلکہ وہ صنف آہن بن گئی، اپنے لئے اپنی بیٹی کے لئےـ
" مائیں نی میں کنوں آکھاں" دبی راکھ نہ چاہتے ہوئے بھی کریدنی پڑی ـ معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے یہ کہانی مگر میں اِس سے نظریں چراتے ہوئے آگے بڑھ گئی کیونکہ بقول شاعر:" گزر گیا جو زمانہ اُسے بھلا ہی دو ، جو نقش بن نہیں سکتا اُسے مٹا ہی دو" مگر یہ مٹانا اتنا آسان تو نہیں، جتنا مرضی رگڑ رگڑ کر مٹاؤ، وہ اتنا ہی اُبھر کر سامنے آ جاتا ہےـ ایک بزدل سی بچی ماں بن کر سامنے ڈٹ گئی اور زندگی کی جنگ جو لڑنا شروع کی تو وہ ابھی تک جاری ہے ـ
" ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم" واقعی ایسی وفا شعار بیویاں آج کے مادیت پرست دور میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں ـ پردہ سکرین پر جب جب اُن کو دیکھا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اداکاری کرتے وقت بھی اُن کے ذہن میں کیا چل رہا ہو گاـ بلکہ اُن کی دکھ بھری کہانی پڑھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ جب وہ رونے کی اداکاری کرتی تھیں تو وہ محض اداکاری نہیں تھی حقیقت تھی اور اُن کے آنسو مصنوعی نہیں تھےـ زندگی نے کیا دیا؟ ابھی تک وہ لڑ رہی ہیں اپنی تقدیر سے اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ" سہاگن وہی جو پیا من بھائےـ"
" عظیم صوبیدار کی عظیم بیٹی " جب بھی پروین عظیم صاحبہ کو دیکھا تو اُن کی رُعب دار شخصیت اور یہ لمبی گاڑی اور گارڈ دیکھ کر ہمیشہ ایک دبنگ لیڈی کا خیال آیا مگر اُس کے پیچھے اُن کے حالات اور مشکلات کی کوئی خبر نہیں تھی ـ واقعی ہم بہ ظاہر ایک انسان کو دیکھ کر کبھی سمجھ ہی نہیں پاتے کہ اُس کی زندگی کس گرداب میں پھنسی ہوئی ہےـ بہت بہت باہمت خاتون ہیں جو بہت دلیری سے اپنی بیماری کا مقابلہ کر رہی ہیں ـ کچھ روز قبل اُن سے ملاقات ہوئی تو اُن کی ہنسی میں چھپے کرب کو اذیت کو میں ایک لمحے میں بھانپ گئی اور دل سے اُن کے لئے دعا نکلی : " اللہ پاک اِن کو شفاء کاملہ و عاجلہ عطا فرما دے آمین یارب العالمین ـ"
وقت کا احساس ہی نہ ہوا اور سب کی زندگی ورقہ ورقہ پڑھتے رات بیت گئی ـ کتاب ایک طرف رکھ کر کبھی بشریٰ جی تو کبھی عطیہ جی کے دکھوں کو گن رہی تھی، اور سوچ رہی تھی کہ کس کا دکھ بڑا ہے مگر کوئی جواب نہیں مل رہا تھا یا یوں کہہ لیں کہ ڈور سلجھانا چاہتی تھی مگر وہ مزید اُلجھ جاتی تھی ـ یہ ایک بہت ہی خوبصورت کتاب ہے اور ہر کہانی اپنی جگہ ایک جنگ کی داستان ہےـ یہ کتاب آج کل کی نوجوان بچیوں کے لئے ایک " موتیویشنل اسپیکر " ہے جس کو پڑھ کر اُنہیں ایک تحریک ملے گی کہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں، گلاب توڑنے کے لئے پہلے کانٹوں سے ہاتھ زخمی کرنا پڑتے ہیں پھر ہی گلاب ہاتھوں میں آتا ہےـ زندگی میں لاکھ مشکلات ہوں مگر کبھی ہمت نہ ہاریں، جب جب زمانہ آپ کو گرائے تو آپ خود کو گرنے نہ دیں ـ ہر کہانی آپ کی ہمت اور حوصلے کو بڑھائے گی ـ آج کی بچیوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئےـ جب جان بوجھ کر آپ کا استحصال کیا جائے، ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جائے اور آپ کی ذات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر صنف نازک، صنف آہن بن جاتی ہے اور کہہ اٹھتی ہے " ہم سے نہ ٹکرانا، ہم سے ہے یہ زمانہ "
میں سب لوہے جیسی مضبوط اور باہمت خواتین کو سلام پیش کرتی ہوں ـ





