سرکاری ہسپتالوں میں علاج یا اذیت - تحریر: عظمیٰ شیخ
نقطہ نظرمجھے بخار تھا۔ گھر والوں نے مشورہ دیا کہ سرکاری ہسپتال چلی جاؤ، وہاں سب مفت ہے۔ میں نے کہا مفت کا سن کر ہی بخار تیز ہو گیا ہے، پھر بھی چادر اوڑھ کر چلی گئی۔ میں نے سوچا چلو اس مفت کی قیمت دیکھ آتی ہوں۔ گیٹ پر پہنچتے ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ ہسپتال نہیں؛ صبر کا امتحانی مرکز ہے۔ پرچی کی کھڑکی پر اتنی لمبی لائن تھی کہ مجھے لگا حج کی قرعہ اندازی ہو رہی ہے۔ ایک گھنٹے بعد جب میری باری آئی تو کھڑکی والے نے بڑے آرام سے کہا: باجی فوٹو کاپی لاؤ۔ میں نے کہا: بھائی مجھے بخار ہے، فوٹو کاپی کا کیا کروں گا؟ کہنے لگا: باجی بخار کو تو دوا چاہیے، پرچی کو فوٹو کاپی چاہیے۔ میں باہر نکلی، فوٹو کاپی والے کے پاس بھی لائن تھی۔ اس نے مجھ سے دس روپے لیے اور کاغذ ایسا دیا جیسے کوئی سند دے رہا ہو۔ واپس آ کر پرچی لی، پرچی پر لکھا تھا: فیس دو روپے۔ میں نے سوچا: واہ! دو روپے میں زندگی کا فیصلہ۔ پرچی لے کر وارڈ میں گئی، پنکھا بند تھا، مریض زیادہ تھے اور ہوا کم تھی۔ ایک کونے میں بورڈ لگا تھا کہ ڈاکٹر صاحب راؤنڈ پر ہیں۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا، کوئی راؤنڈ نظر نہیں آیا۔ پوچھا تو پتہ چلا ڈاکٹر صاحب آئے ہی نہیں، ان کا راؤنڈ گھر سے ہی ہو رہا ہے۔ سامنے کرسی پر ایک صاحب بیٹھے تھے، سفید کوٹ پہنا ہوا تھا۔ میں نے کہا: ڈاکٹر صاحب بخار ہے۔ انہوں نے کہا: میں ڈاکٹر نہیں، میں الیکٹریشن ہوں، ڈاکٹر صاحب نے کوٹ یہیں چھوڑا ہوا ہے۔ آخر ایک اصل ڈاکٹر ملے، وہ بھی جلدی میں تھے۔ انہوں نے میری شکل دیکھی اور کہا: باجی آپ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: بخار ہے۔ کہنے لگے: کھانا کھایا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ کہنے لگے: بس پھر کھانا کھا لیں، ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے کہا: ڈاکٹر صاحب دوا؟ کہنے لگے: دوا باہر سے لے لیں۔ میں نے کہا: اندر والا اسٹور؟ ہنس کر بولے: وہ اسٹور تو صرف وزٹ کے لیے ہے، جیسے شادی میں دولہا صرف دیکھنے کے لیے ہوتا ہے۔ اسی وارڈ میں ایک منظر نے میری ہنسی روک دی۔ ایک بوڑھی اماں اپنے جوان بیٹے کو لے کر آئی تھی، بیٹے کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی۔ اماں کے ہاتھ میں پرچی تھی اور آنکھ میں آنسو تھے۔ وہ ہر کسی سے کہہ رہی تھی: بیٹا میرا بیٹا دیکھ لو، کوئی اسٹریچر دے دو۔ وہاں اسٹریچر تھا، مگر اس کا ایک پہیہ نہیں تھا۔ وارڈ بوائے کہہ رہا تھا: دھکا لگا کر لے جاؤ۔ اماں دھکا لگا رہی تھی اور بیٹا درد سے چیخ رہا تھا۔ میں نے سوچا: یہ ہسپتال ہے یا قیامت کا میدان، جہاں سب بے بس ہیں؟ دوسری طرف ایک نوجوان ماں تھی، گود میں بچہ تھا، بچے کو نمونیا تھا۔ وہ آکسیجن کے لیے بھاگ رہی تھی، آکسیجن سلنڈر خالی تھا۔ نرس کہہ رہی تھی: سلنڈر والا آیا نہیں۔ ماں بچے کو سینے سے لگا کر اس کے منہ میں پھونکیں مار رہی تھی، جیسے اس کی سانس سے بچے کی سانس چل جائے گی۔ اس لمحے مجھے اپنا بخار بہت چھوٹا لگا۔ ہم کہتے ہیں سرکاری ہسپتال غریبوں کے لیے ہیں، سچ یہ ہے کہ غریب وہاں جا کر اور غریب ہو جاتا ہے۔ دو روپے کی پرچی کے پیچھے دو ہزار کا خرچہ ہے۔ ٹیسٹ باہر سے، دوا باہر سے، ایکسرے باہر سے۔ مفت صرف دھکے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کہتی ہے: ایک ہزار لوگوں کے لیے ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے۔ ہمارے سرکاری ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کے پاس تین ہزار مریض ہیں۔ بجٹ میں صحت کے لیے صرف صفر اعشاریہ نو فیصد رکھا جاتا ہے، یعنی ہماری صحت کی قیمت ایک سموسے سے بھی کم ہے۔ ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ پنکھا چلے نہ چلے، ڈاکٹر آئے نہ آئے، دوا ملے نہ ملے، مگر چائے والا ضرور وقت پر آتا ہے، اور پرچی پر مہر لگانے والا بھی کبھی چھٹی نہیں کرتا۔ میرا دل کہتا ہے: ان ہسپتالوں کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں، یہ اپنی بے حسی سے ہی مر رہے ہیں۔ میری تین چھوٹی گزارشات ہیں۔ پہلی مریض سے: بھائی جب سرکاری ہسپتال جاؤ تو دو چیزیں ساتھ لے جاؤ، ایک پانی کی بوتل اور دوسرا صبر کا پہاڑ۔ دوسری حکومت سے: خدارا ڈاکٹر کی کرسی پر ڈاکٹر بٹھائیں، الیکٹریشن کو وارڈ سے نکالیں، اور ہسپتال کے پنکھے ٹھیک کروا دیں۔ مریض گرمی سے مر رہا ہے، بخار سے نہیں۔ تیسری ڈاکٹروں سے: آپ کے ایک جملے سے کسی ماں کی امید بندھ جاتی ہے، خدارا مریض کو انسان سمجھ کر دیکھ لیں، فائل سمجھ کر نہیں۔ آپ کی مسکراہٹ پرچی سے زیادہ قیمتی ہے۔ میں اس دن بخار لے کر گئی تھی، دوا کے بغیر واپس آ گئی۔ بخار تو گھر آ کر ٹھیک ہو گیا، مگر وہ اماں اور وہ نوجوان ماں میرے دل سے نہیں نکلیں۔ سرکاری ہسپتال میں علاج ضرور ہے، مگر اس علاج تک پہنچنے کے لیے پہلے اذیت کے سات دروازے پار کرنے پڑتے ہیں۔ جو پار کر جائے، وہ مریض نہیں رہتا، وہ صابر بن جاتا ہے۔
مزید پڑھیں





