Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک کچوری، دو سموسہ،اِن مردوں کا کیا بھروسہ؟ تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

“ایک کچوری، دو سموسہ، اِن مردوں کا کیا بھروسہ۔”

یہ چند الفاظ ہیں، بظاہر ایک نعرہ، ایک طنز، ایک ہنسی میں اڑا دینے والی بات۔ مگر بعض اوقات الفاظ اپنی ظاہری جسامت سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔ وہ صرف کہے نہیں جاتے، اپنے ساتھ ایک سوچ بھی لے کر چلتے ہیں۔ پھر وہی سوچ کسی میم میں بدل جاتی ہے، کسی پوسٹ کا کیپشن بنتی ہے، کسی محفل میں قہقہہ بن کر اُڑتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اتنی عام ہو جاتی ہے کہ ہم یہ سوچنا بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ ہم ہنس کس بات پر رہے ہیں۔

یہ نعرہ ایک احتجاج کے مخصوص پس منظر سے نکلا، مگر جب کوئی جملہ اپنے اصل سیاق سے نکل کر سوشل میڈیا کے مزاح کا حصہ بن جائے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ اسے کس نے کہا تھا؛ سوال یہ بھی بن جاتا ہے کہ ہم اسے کس معنی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ کسی ایک کے کردار کا حساب پوری جنس سے کیوں لیا جائے؟ یہ سوال صرف مردوں کے بارے میں نہیں، ہمارے اجتماعی رویے کے بارے میں ہے۔

ہم انسان کو سمجھنے سے پہلے اسے خانوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ مرد، عورت، امیر، غریب، خوب صورت، بدصورت، کامیاب، ناکام۔ پھر کسی ایک فرد کی حرکت کو اُس پورے خانے کی خصوصیت بنا دیتے ہیں۔ ایک مرد دھوکا دے تو “مرد ایسے ہی ہوتے ہیں”، ایک عورت بے وفا نکل آئے تو “عورتوں پر اعتبار نہیں”۔ گویا انسان ایک فرد نہیں، ایک نمونہ ہے اور ہم ہر فرد کو اُس نمونے کے مطابق پرکھنے پر مصر ہیں۔ حالانکہ انسان کبھی مکمل طور پر کسی ایک خانے میں سما ہی نہیں سکتا۔

ہر مرد کے اندر ایک ایسا حصہ بھی ہوتا ہے جسے دنیا نہیں جانتی۔ وہ خواہشیں جن کا اس نے کبھی ذکر نہیں کیا، وہ خوف جنہیں اس نے ہنسی کے پیچھے چھپا دیا، اور وہ قربانیاں جن کا حساب کبھی کسی کتاب میں درج نہیں ہوا۔ ہم مرد کو اکثر صرف اُس وقت دیکھتے ہیں جب وہ کسی کردار میں ہمارے سامنے آتا ہے؛ باپ، بھائی، شوہر، بیٹا، مزدور یا افسر۔ مگر کبھی اُس انسان کو نہیں دیکھتے جو ان تمام کرداروں کے پیچھے موجود ہے؛ وہ انسان جو شاید خود بھی کبھی کسی کے سہارے کا محتاج تھا، مگر حالات نے اسے سہارا بننے پر مجبور کر دیا۔

کتنے مرد ایسے ہیں جنہوں نے زندگی میں بہت کچھ چاہا، مگر خاندان کی ضرورت ان کی خواہش سے بڑی نکلی۔ وہ اچھا کاروبار کرنا چاہتے تھے، مگر گھر کے خرچ نے انہیں معمولی ملازمت پر روک دیا۔ وہ سفر کرنا چاہتے تھے، مگر بچوں کی فیس سامنے آ گئی۔ وہ اپنے لیے کچھ خریدنا چاہتے تھے، مگر ماں کی دوا زیادہ ضروری تھی۔ وہ کبھی تھک کر رکنا چاہتے تھے، مگر گھر کی ذمہ داری نے کہا، “ابھی نہیں۔” اور پھر وہ چلتے رہے؛ بغیر اعلان کیے، بغیر رُکے، بغیر اس خواہش کے کہ دنیا انہیں قربانی کا ہیرو سمجھے۔

کیا یہ بھی مرد نہیں؟

وہ باپ جو اپنے بچوں کو مستقبل دینے کے لیے اپنا حال کھو دیتا ہے۔ وہ بیٹا جو والدین کے بڑھاپے کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اپنی جوانی کی بہت سی خواہشیں مؤخر کر دیتا ہے۔ وہ بھائی جو بہن کی خاموش پریشانی کو اُس کے کہنے سے پہلے سمجھ لیتا ہے۔ وہ شوہر جو محبت شاید شاعری میں نہ کہہ سکے، مگر اپنی استطاعت بھر زندگی آسان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ مزدور جس کے ہاتھوں کی سختی میں پورے گھر کی نرمی چھپی ہوتی ہے۔ اور وہ شخص بھی جو سڑک کنارے اپنی چائے پی کر واپس اُس دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں اُس کے آنے کا انتظار شاید صرف ایک گھر کرتا ہے۔

یہ لوگ وائرل نہیں ہوتے، کیونکہ خاموش ذمہ داری کبھی ٹرینڈ نہیں بنتی۔ ہمیں واقعات یاد رہتے ہیں، رویے نہیں۔ ہمیں اسکینڈل دکھائی دیتا ہے، کردار نہیں۔ ایک شخص کی دس غلطیاں ہزار لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں، مگر ایک شخص کی دس سالہ وفاداری شاید اُس کے گھر کی چار دیواری سے باہر نہیں نکلتی۔ شاید یہی انسانی ذہن کا ایک عجیب تعصب ہے کہ ہم غیر معمولی برائی کو معمولی اچھائی سے زیادہ نمایاں سمجھتے ہیں۔ شاید اسی لیے چند خراب مرد پورے مردوں کی نمائندگی کرتے محسوس ہوتے لگتے ہیں۔

لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر کسی ایک عورت کے غلط عمل کی بنیاد پر پوری عورت ذات کو پرکھنا ناانصافی ہے، تو یہی اصول مردوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے؟ انصاف کا حسن ہی یہی ہے کہ اُس کا پیمانہ چہرہ دیکھ کر نہیں بدلتا۔ ہاں، کچھ مرد ایسے ہیں جن سے عورتیں زخمی ہوئی ہیں۔ کچھ نے اعتماد توڑا، کچھ نے حقوق پامال کیے، کچھ نے رشتوں کو اپنی خواہشوں کی بھینٹ چڑھایا۔ ایسے رویوں پر بات ہونی چاہیے، سوال ہونا چاہیے، احتساب ہونا چاہیے۔ مگر کسی غلط شخص کو غلط کہنا اور ایک پوری جنس کو غلط قرار دینا،یہ دونوں ایک بات نہیں۔

پہلی بات شعور ہے، دوسری تعصب۔ اور تعصب چاہے کسی کے خلاف ہو، آخرکار انسان کو چھوٹا ہی کرتا ہے۔ ہم عورتوں کے بارے میں بنائے گئے عمومی جملوں سے ناراض ہوتے ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک عورت صرف اُس عورت کا نام نہیں جسے ہم نے کہیں غلط دیکھا تھا۔ پھر مرد کے بارے میں عمومی جملہ سنتے ہوئے ہمیں وہی اصول کیوں یاد نہیں رہتا؟ شاید اس لیے کہ ہم نے معاشرتی گفتگو کو بھی ایک مقابلہ بنا دیا ہے۔ کس نے زیادہ تکلیف سہی؟ کس پر زیادہ ظلم ہوا؟ کس جنس کے ساتھ زیادہ ناانصافی ہوئی؟ اور یوں اصل انسان کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

درد کو جنسوں کی جنگ بنا دینے سے درد کم نہیں ہوتا۔ اگر ایک عورت کا دل ٹوٹا ہے تو اُس کے درد کی سچائی اپنی جگہ ہے۔ اگر ایک مرد خاموشی سے ٹوٹا ہے تو اُس کا درد بھی اپنی جگہ حقیقت ہے۔ ایک کی تکلیف کو تسلیم کرنے کے لیے دوسرے کی تکلیف کا انکار ضروری نہیں۔ ہمیں شاید پہلی بات یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ درد کا بھی کوئی جنس نہیں ہوتا۔ آنسو مرد کی آنکھ سے نکلیں تو کم قیمتی نہیں ہو جاتے، اور عورت کی آنکھ سے نکلیں تو زیادہ سچے نہیں ہو جاتے۔

وفاداری مرد کرے تو معمول نہیں، قدر ہے۔ قربانی عورت دے تو عظمت نہیں، اگر وہ اپنی مرضی سے نہ ہو تو بوجھ بھی ہو سکتی ہے۔ محبت دونوں کرتے ہیں، غلطی دونوں کرتے ہیں، دھوکا دونوں دے سکتے ہیں، نبھانا دونوں جان سکتے ہیں۔ انسان ہونے کی تمام کمزوریاں اور خوبیاں دونوں کے حصے میں آئی ہیں۔ تو پھر ایک جنس کو اچھائی اور دوسری کو برائی کے پیمانے سے کیوں ناپا جائے؟

شاید ہمیں اپنے جملوں سے پہلے اپنے زاویۂ نظر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ “اِن مردوں کا کیا بھروسہ” کہنا شاید کسی لمحے میں ہنسی دے دے، مگر ذرا اُس مرد کو بھی دیکھیے جو صبح گھر سے نکلتے ہوئے اپنے بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر جاتا ہے اور اُسے معلوم نہیں کہ شام کو اُس کے پاس واپس آنے کے لیے زندگی نے کیا امتحان رکھا ہے۔ اُس مرد کو دیکھیے جو اپنے والد کی وہیل چیئر دھکیلتے ہوئے خود بوڑھا ہو رہا ہے۔ اُس مرد کو دیکھیے جو اپنی بیٹی کو یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیا میں ہر مرد خطرہ نہیں ہوتا۔ اُس مرد کو دیکھیے جو اپنی بیوی کے خوابوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اُن کے لیے جگہ بناتا ہے۔ اُس مرد کو دیکھیے جو کسی عورت کی عزت اس لیے نہیں کرتا کہ وہ اُس کی ماں، بہن یا بیٹی ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خود ایک انسان ہے۔

یہ مرد بھی اسی دنیا میں ہیں۔ بس ان کے ہاتھ میں نعرہ نہیں، ان کی زندگی میں شاید کوئی کیمرہ نہیں اور ان کی نیکی کو کسی ہیش ٹیگ کی ضرورت نہیں۔ ہم نے شاید شور کو سچ سمجھنے کی غلطی کر دی ہے۔ جو زیادہ دکھائی دے، ضروری نہیں کہ وہ زیادہ سچا ہو۔ کچھ مرد واقعی بھروسے کے قابل نہیں ہوتے، مگر بہت سے مرد ایسے بھی ہیں جن پر پورے پورے گھر بھروسہ کرتے ہیں۔

دنیا جس مرد پر ایک جملہ لکھ کر فیصلہ کر دیتی ہے، ممکن ہے کسی گھر میں وہی مرد ایک پوری زندگی کی ضمانت بنا بیٹھا ہو۔ کسی کے لیے وہ صرف ایک عام سا شخص ہو سکتا ہے، مگر کسی بچے کے لیے اُس کا باپ پوری دنیا ہوتا ہے۔ کسی عورت کے لیے وہ صرف ایک مرد نہیں، اُس کی زندگی کا شریکِ سفر ہو سکتا ہے۔ کسی بوڑھے والدین کے لیے وہ آخری سہارا ہو سکتا ہے۔ انسان کی حقیقت ہمیشہ اُس کے وائرل ہونے سے نہیں، اُن زندگیوں سے معلوم ہوتی ہے جن میں اُس کی موجودگی خاموشی سے روشنی پیدا کر رہی ہوتی ہے۔

اس لیے مسئلہ ، نعرے کا نہیں مسئلہ اُس عادت کا ہے جس میں ہم ایک انسان کو دیکھ کر پوری انسانیت کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔ کسی عورت کی غلطی کو عورت مت بنائیے، کسی مرد کی غلطی کو مرد مت بنائیے۔ غلطی کو غلطی رہنے دیجیے، انسان کو انسان رہنے دیجیے۔

کیونکہ شاید معاشرے کی اصل پختگی اُس دن شروع ہوگی جب ہم یہ کہنا چھوڑ دیں گے کہ “مرد ایسے ہوتے ہیں” یا “عورتیں ایسی ہوتی ہیں” اور اس کے بجائے یہ کہنا سیکھیں گے: “یہ انسان ایسا ہے۔”

اور شاید یہی سب سے بڑا انصاف ہے کہ کسی کی جنس اُس کے کردار کا مقدمہ نہ بنے، کسی ایک کے گناہ کا ملبہ کسی دوسرے کے سر نہ ڈالا جائے، اور کسی مرد کو اُس مرد کی غلطیوں سے نہ پرکھا جائے جو وہ کبھی تھا ہی نہیں۔

کچھ مرد واقعی بھروسے کے قابل نہیں ہوتے، جیسے کچھ عورتیں بھی نہیں ہوتیں۔ مگر کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پوری زندگی، کسی ایک گھر کے لیے، “بھروسہ” کا دوسرا نام ہوتی ہے۔

اور شاید ہمیں انہی خاموش مردوں کو بھی دیکھنا چاہیے، کیونکہ ہر وہ شخص جو شور میں نظر نہیں آتا، ضروری نہیں کہ اُس کی کہانی اہم نہ ہو۔ بعض اوقات معاشرے کی سب سے مضبوط بنیادیں وہی لوگ بنتے ہیں جن کا ذکر کسی نعرے، کسی میم اور کسی وائرل جملے میں کبھی نہیں ہوتا۔