جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم ترقی تو کر رہے ہیں، مگر انسان کتنے باقی ہیں؟ تحریر: طاہر محمود

نقطہ نظر
tahir mahmood

انسان نے ترقی کی تاریخ میں ایسے حیرت انگیز سنگِ میل عبور کیے ہیں جن کا تصور چند صدیاں پہلے محض خواب سمجھا جاتا تھا۔ سائنس نے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردے اٹھائے، ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے، مصنوعی ذہانت نے انسانی صلاحیتوں کے نئے دروازے کھول دیے اور جدید ذرائع ابلاغ نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا۔ مگر اس تمام ترقی کے شور میں ایک سوال ایسا ہے جو ہماری سماجی زندگی، اخلاقی اقدار اور اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے: کیا ہم نے دنیا کو تو بدل دیا، مگر اپنے اندر کے انسان کو بدلنا بھول گئے؟


یہ سوال محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہمارے عہد کی ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کر لیں، لیکن کیا ہمارے کردار بھی بلندیوں سے ہم آہنگ ہوئے؟ ہم نے رابطوں کے لاتعداد ذرائع ایجاد کر لیے، لیکن کیا دلوں کے فاصلے کم ہوئے؟ ہمارے ہاتھوں میں دنیا بھر کی معلومات موجود ہیں، مگر کیا ہمارے دل دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں؟ بظاہر ہم آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ مادی ترقی کی دوڑ میں ہماری روحانی آسودگی، اخلاقی تربیت اور انسانی ہمدردی پیچھے رہ گئی ہے؟


آج کامیابی کا پیمانہ دولت، شہرت، عہدے اور ظاہری شان و شوکت کو سمجھا جانے لگا ہے۔ انسان کی قدر کا تعین اکثر اس کے لباس، گاڑی، رہائش اور سماجی مرتبے سے کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے کردار، دیانت، خلوص اور خدمتِ خلق کو وہ اہمیت نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ حالانکہ انسان کی اصل عظمت اس کے پاس موجود وسائل میں نہیں، بلکہ اس کے رویے، کردار اور دوسروں کے لیے اس کے دل میں موجود احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ دولت آسائشیں خرید سکتی ہے، شہرت پہچان دلا سکتی ہے، لیکن دلوں میں مقام صرف محبت، خلوص اور کردار پیدا کرتے ہیں۔


ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے کے لیے تو تیار رہتے ہیں، مگر ان کے دکھوں میں ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ کم دکھائی دیتا ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر ہمدردی کے پیغامات لکھتے ہیں، انسانیت کے حق میں بلند آواز سے بات کرتے ہیں اور معاشرتی اصلاح کے دعوے کرتے ہیں، لیکن حقیقی انسان دوستی کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی پریشان حال شخص کو ہماری توجہ، کسی مجبور کو ہماری مدد اور کسی تنہا انسان کو ہمارے چند مخلصانہ الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانیت بڑے دعووں سے نہیں، چھوٹے مگر سچے اعمال سے زندہ رہتی ہے۔


یہ کہنا درست نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی انسانیت کی دشمن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری؛ اس کی افادیت کا انحصار ہمارے شعور، مقصد اور طرزِ استعمال پر ہے۔ یہی ڈیجیٹل ذرائع علم و آگہی پھیلانے، مظلوم کی آواز بلند کرنے، تعلیم کو عام کرنے اور معاشرتی مسائل اجاگر کرنے کا وسیلہ بن سکتے ہیں، لیکن یہی ذرائع جھوٹ، نفرت، کردار کشی اور غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ خصوصاً صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ خبر کی رفتار سے زیادہ سچائی، سنسنی سے زیادہ صداقت اور شہرت سے زیادہ عوامی مفاد کو اہمیت دیں۔ کیونکہ الفاظ صرف معلومات نہیں پہنچاتے، وہ معاشرے کی سوچ اور رویوں پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔


تعلیم کے میدان میں بھی ہمیں ایک بنیادی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈگری یافتہ ہونا اور باشعور ہونا دو مختلف تصورات ہیں۔ حقیقی تعلیم انسان کو صرف روزگار کے قابل نہیں بناتی، بلکہ اسے دوسروں کے حقوق کا احترام، اختلاف برداشت کرنے، سچائی کا ساتھ دینے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہے۔ اگر علم انسان میں عاجزی پیدا نہ کرے، اختیار اسے انصاف پسند نہ بنائے اور کامیابی اسے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر آمادہ نہ کرے تو ہمیں اپنے تعلیمی اور تربیتی نظام پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔


معاشرے کی اصلاح کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہم دوسروں سے اخلاق، دیانت اور احساس کی توقع رکھنے سے پہلے اپنے کردار کا جائزہ لیں۔ گھروں میں بچوں کو احترام اور برداشت سکھائیں، تعلیمی اداروں میں کردار سازی کو اہمیت دیں، اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں اور اپنے اختیار کو دوسروں کی تذلیل کے بجائے ان کی عزت و آسانی کا ذریعہ بنائیں۔ کسی ضرورت مند کی خاموشی سے مدد کرنا، کسی غم زدہ انسان کی بات سننا، کسی کمزور کے حق میں آواز اٹھانا اور کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا ایسے اعمال ہیں جو معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں۔


حقیقی ترقی وہ نہیں جو صرف شہروں کا نقشہ بدل دے، بلکہ وہ ہے جو انسان کی زندگی میں آسودگی، معاشرے میں انصاف اور رشتوں میں محبت پیدا کرے۔ ترقی تب بامعنی بنتی ہے جب کمزور کو تحفظ، محنت کرنے والے کو حق، نوجوان کو مواقع، بزرگ کو احترام اور ہر انسان کو عزتِ نفس میسر ہو۔


آخرکار سوال یہی ہے کہ ہم ترقی تو کر رہے ہیں، مگر انسان کتنے باقی ہیں؟ اس کا جواب ہمارے نعروں میں نہیں، ہمارے کردار میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہماری ترقی میں احساس، ہمارے علم میں شعور، ہماری کامیابی میں عاجزی اور ہمارے اختیار میں انصاف شامل ہے تو ہم صحیح معنوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بصورتِ دیگر، مادی آسائشوں کے انبار بھی ہماری اخلاقی محرومیوں کا مداوا نہیں کر سکتے۔


یاد رکھیے، دنیا کو فتح کرنا بڑی کامیابی ہو سکتی ہے، مگر اپنے اندر کے انسان کو زندہ رکھنا اس سے کہیں بڑی کامیابی ہے۔ ترقی کا اصل حسن مشینوں کی طاقت، عمارتوں کی بلندی اور دولت کی فراوانی میں نہیں، بلکہ اس احساس میں ہے کہ ہمارے وجود سے کسی دوسرے انسان کی زندگی میں آسانی، امید اور خوشی پیدا ہوئی یا نہیں۔ کیونکہ جس ترقی میں انسانیت نہ ہو، وہ چمکتی ضرور ہے، مگر دلوں کو روشن نہیں کر سکتی۔