Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اقبال کا خواب اور آج کا نوجوان،تحریر:اقصیٰ وحید

نقطہ نظر
aqsa waheed

علامہ محمد اقبال شاعر مشرق مفکر اسلام اور پاکستان کے نظریاتی بانی نے اپنی شاعری اور فلسفے کے ذریعے ایک ایسی امت کا خواب دیکھا تھا جو علم، عمل، خودی اور عزت نفس کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہو۔ انہوں نے نوجوانوں کو "شاہین" کا خطاب دیا اور انہیں اس قابل بنانا چاہا کہ وہ آسمان کی بلندیوں کو چھو سکیں۔ لیکن آج جب ہم اپنے نوجوانوں کی حالت دیکھتے ہیں تو یہ سوال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ کیا ہم اقبال کے خواب کو پورا کر پائے ہیں؟


اقبال نے اپنی شاعری میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:

"تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں"

اقبال کا خواب یہ تھا کہ مسلم نوجوان علم کی روشنی سے منور ہوں اپنی شناخت اور خودی کو پہچانیں محنت اور جدوجہد سے اپنی منزلیں حاصل کریں اور امت کی رہنمائی کریں۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان آزاد خیال، باعزت، اور اپنے مقصد سے آگاہ ہوں۔ انہوں نے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی حاصل کریں اور دنیا میں اپنا مقام بنائیں۔


افسوس کہ آج کا نوجوان اقبال کے خواب سے بہت دور نظر آتا ہے۔ ہمارے بیشتر نوجوان مایوسی، بے روزگاری اور سمت کی کمی کا شکار ہیں۔ تعلیمی نظام کمزور ہے اور نصاب میں وہ چیزیں نہیں جو کردار سازی اور شخصیت کی تعمیر میں مدد کریں۔ نوجوان سوشل میڈیا اور مغربی ثقافت کی چکا چوند میں اپنی اصل شناخت کھو بیٹھے ہیں۔

آج کے نوجوان میں محنت اور جدوجہد کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ بہت سے نوجوان شارٹ کٹ اور آسان راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ اقبال کے "خودی" کے تصور کو بھول چکے ہیں اور اپنی قوت اور صلاحیتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ سیاسی اور معاشی بدحالی نے ان کی امیدوں کو توڑ دیا ہے اور بہت سے نوجوان ملک چھوڑ کر باہر جانے کے خواب دیکھتے ہیں۔

تاہم یہ تصویر مکمل طور پر مایوس کن نہیں ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو اقبال کے خواب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ نوجوان تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا نام روشن کر رہے ہیں، کچھ سماجی خدمت میں مصروف ہیں اور کچھ اپنے فن اور ہنر سے ملک کا نام بلند کر رہے ہیں۔

یہ نوجوان اقبال کے پیغام کی زندہ مثالیں ہیں۔ انہوں نے مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور اپنے مقصد کی طرف بڑھتے رہے۔ یہ وہ شاہین ہیں جن کا اقبال نے خواب دیکھا تھا۔

اقبال کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ہمیں اپنے نوجوانوں کو صحیح سمت دینی ہوگی۔ ہمیں تعلیمی نظام کو بہتر بنانا ہوگا، نوجوانوں میں خود اعتمادی اور خودی کا احساس پیدا کرنا ہوگا اور انہیں اقبال کے پیغام سے روشناس کرانا ہوگا۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کو مل کر نوجوانوں کی رہنمائی کرنی ہوگی۔

نوجوانوں کو خود بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ انہیں اقبال کی شاعری کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے، اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے، اور محنت و لگن سے اپنی منزلوں کی طرف بڑھنا چاہیے۔

اقبال کا خواب آج بھی زندہ ہے اور اسے پورا کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوان اقبال کے پیغام کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ جب ہمارے نوجوان علم، عمل، اور خودی سے آراستہ ہوں گے، تب جا کر اقبال کا خواب حقیقت بن سکے گا اور ہماری امت دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کر سکے گی۔


"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے"