پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گوشئہ فکراقبال: اقبال کی فطرت شناسی، تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

آج کا انسان ایک ایسے ہمہ گیر ماحولیاتی، اخلاقی اور تہذیبی بحران کی زد میں ہے جس نے نہ صرف کرۂ ارض کے طبعی توازن کو تہ و بالا کر دیا ہے بلکہ انسان کے باطن اور اس کے فطری ماحول کے مابین ازل سے قائم پاکیزہ رشتہ بھی توڑ ڈالا ہے۔ فضاؤں میں پھیلا ہوا زہریلا دھواں، گلیشیئرز کی تیزی سے پگھلاوٹ، جنگلات کا بے دردی سے صفایا اور موسموں کا بے ترتیب ہونا دراصل اسی مادّہ پرستانہ صنعتی کلچر کا براہِ راست شاخسانہ ہے جسے حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے صدیوں پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔ اقبال کی شاعری محض جذباتی تخیل کی پرواز یا لفظی بازی گری نہیں ہے، بلکہ یہ کائنات اور فطرت کے ساتھ انسان کے اخلاقی، فکری اور روحانی تعلق کا ایک گہرا تنقیدی مطالعہ ہے۔ جب ہم اکیسویں صدی کے اس دلخراش منظر نامے پر نگاہ ڈالتے ہیں جہاں فضاؤں میں چھائی ہوئی سموگ، دھند اور کاربن کے کثیف بادل محض موسمیاتی تبدیلیاں نہیں بلکہ فطرت کے خلاف انسانی جارحیت کا کھلا اعتراف ہیں، تو اقبال کا فکر ہمیں بتاتا ہے کہ انسان نے ترقی کے نام پر جو اندھی دوڑ شروع کی ہے اس نے کائنات کا حسن برباد کر دیا ہے۔ اقبال نے مغربی تہذیب اور اس کی مشینی روح پر ضرب لگاتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایسی مادی ترقی انسان کو مٹی اور فضا سے کاٹ کر بے روح مشینوں کا غلام بنا دیتی ہے۔ مغربی تمدن کی اس کھوکھلی اور تخریب کار چمک پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا:


تو اسے پیتل سمجھتا ہے، یہ فانوسِ خیال ہے یہ تمدن آفریں، ظلمت پرست و کج ادا!


جب انسان نے فطرت کو فتح کرنے کے جنون میں جنگلات کو کاٹا، پہاڑوں کا سینہ چیرا اور فضاؤں کو زہریلی گیسوں سے بھر دیا، تو فضاؤں کے کٹنے اور کج رو ہونے کا جو عمل شروع ہوا وہ آج سموگ اور خطرناک اے۔کیو۔آئی AQI اشاریوں کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ فضا جو کبھی انسان کے لیے تنفس، سکون اور زندگی کا سرچشمہ تھی، اب ایک دم گھونٹ دینے والا قفس بن چکی ہے کیونکہ جب انسان خدا کی تخلیق کردہ کائنات سے کٹ کر خود ساختہ مصنوعی دنیا میں قید ہو جاتا ہے، تو اس کا اپنا اندرونی سکون بھی ہمیشہ کے لیے برباد ہو جاتا ہے۔ اقبال کے ہاں کوہ و دمن یعنی پہاڑ اور جنگلات اور صبح کا ستارہ یعنی سحر کا تارا محض قدرتی مناظر نہیں ہیں، بلکہ یہ کائنات کے شعور اور اس کی بے زبان فریاد کے طاقتور استعارے ہیں۔ پہاڑ اور دشت اقبال کے نزدیک استقامت اور خاموش تفکر کی علامت ہیں، اور جب صنعتی یلغار اور درختوں کی اندھا دھند کٹائی سے کوہساروں کی خوبصورتی اجڑتی ہے اور سرسبز رقبہ سکڑتا ہے، تو یہ دراصل دشت و کوہ کا وہ نوحہ ہے جو کائنات اپنے بے حس مکین کے خلاف پیش کرتی ہے۔ اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے اقبال نے فطرتی خلوت اور سکون کے چھن جانے کا نوحہ یوں لکھا ہے:


خلوتِ کوہ و دمن میں جو مزا تھا، وہ کہاں لذتِ تعمیرِ ملت ہے مساواتِ امم!


اقبال کے یہاں فطرت کے عناصر انسان سے مخاطب ہو کر شکوہ کناں ہیں کہ اس نے اپنی حقیر ہوس کی تسکین کے لیے امن اور سکون کے ان گہواروں کو ویران کر ڈالا ہے۔ اسی طرح صبح کا ستارہ جو شبِ تاریک کے آخر میں امید، روشنی اور بیداری کا پیغام لے کر نمودار ہوتا ہے، آج کی اس غبار آلود اور دھوئیں سے اٹی ہوئی فضاؤں میں کہیں گم ہو چکا ہے۔ سموگ اور کاربن کے بادلوں نے نہ صرف سورج کی روشنی کو مسخ کیا ہے بلکہ صبح کے ستارے کی جھلملاہٹ کو بھی نگل لیا ہے۔ اقبال کے نزدیک صبح کا ستارہ انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے اور کائنات کے رازوں میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے، مگر جب فضا اتنی آلودہ ہو جائے کہ آسمان کے ستارے تک دکھائی نہ دیں، تو یہ اس بات کی بین علامت ہے کہ انسان کی بصیرت اور روحانی نگاہ بھی تاریکیوں کی نذر ہو چکی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں بارہا اس بات کا نوحہ لکھا ہے کہ جدید سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی نے انسان کو مادی آسائشیں تو بہت فراہم کر دی ہیں، لیکن اس کے بدلے میں اس کا فطری حسن اور روحانی سکون چھین لیا ہے۔ اقبال کے نزدیک اصل المیہ یہ ہے کہ انسان نے فطرت کو ایک بے جان شے یا محض استعمال کی چیز سمجھ لیا ہے، جبکہ قرآنی تعلیمات اور تصوف کی رو سے یہ کائنات ایک زندہ، باشعور اور امانت الٰہی ہے۔ جب تک انسان فطرت کو خالقِ حقیقی کا مظہر اور خود کو اس کا امین نہیں سمجھے گا، تب تک ماحولیاتی بحران کا یہ عفریت یونہی انسانیت کو نگلتا رہے گا۔ اقبال کا انسان وہ ہے جو زمین کے سینے پر محبت اور تخلیق کے پھول کھلائے، نہ کہ کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں سے فضاؤں کا دم گھونٹے، جیسا کہ وہ اس مادّی چکاچوند کی نفی کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:


نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک صُبحِ فرنگی کی یہ نل کی روشنی ہے، حُمرا کا نورِ سینا نہیں!


یہ شعر اس مادّی چکاچوند کی نفی کرتا ہے جو فضاؤں کو زہر آلود کر کے انسان کو اس کی اصل جڑوں سے کاٹ دیتی ہے۔ اس فکری پس منظر میں اقبال کے کلام سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ جب انسان مشینی تمدن کی اندھی تقلید میں دوری اختیار کرتا ہے، تو فطرت کی یلغار اس کا مقدر بن جاتی ہے:


مشرق میں ہو، مغرب میں ہو، فطرت کی یلغار ہے اقلیمِ نظر کیا ہے، یہ دنیا کہ مزار ہے!


یہ اشعار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ فطرت کے قوانین کو روندنے والی ہر ترقی دراصل اس دنیا کو ایک ویران مزار بنا دیتی ہے۔ اس کٹھن ماحولیاتی بحران کا حل اقبال کے نزدیک کسی بیرونی قانون میں نہیں بلکہ انسان کی خودی کی بیداری اور فطرت کے ساتھ عشق و محبت کے رشتے کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔ جب تک انسان اپنے باطن کی طمع، حرص اور مادّہ پرستی کے اندھیروں کو صاف نہیں کرتا، باہر کی فضاؤں کا زہر بھی ختم نہیں ہو سکتا۔ اسی فکری معراج کو بیان کرتے ہوئے اقبال نے خودی کا وہ فلسفہ دیا جو انسان کو کائنات کا ڈکٹیٹر نہیں بلکہ اس کا امین بناتا ہے:


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے؟


یہی رضا اور کائنات کے ساتھ ہما آہنگی کا شعور انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ خدا کی اس زمین اور اس کی فضاؤں کی حفاظت کرے نہ کہ اپنی ہوس کے لیے اس کے توازن کو بگاڑے۔ فطرت سے عشق کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ انسان سحر کی صدیاں سننا سیکھے، فضاؤں میں زہر گھولنے کی بجائے درخت لگائے، دشت و کوہ کے حسن کو محفوظ کرے اور اس کرۂ ارض کو ایک بار پھر جینے کے قابل، سرسبز اور شاداب بنائے۔ صبح کے وقت چلنے والی ٹھنڈی ہوا اور کائنات کی خاموشی کے اس پیغام کو اقبالؒ نے اس طرح سمیٹا ہے:


آتا ہے دَمِ صبح یہ مجھ کو صدا دینا تھا شورِ سلاسل میں بھی ایک پیامِ محبت!


آج جب دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، اقبال کا یہ کلام اور فکری شعور ہمیں پکار کر کہتا ہے کہ غفلت کی اس تاریک چادر اور سموگ کے عذاب سے نکلنے کا واحد راستہ فطرت کے دامن میں پناہ لینا اور اپنے باطن کو پاک کرنا ہے، جیسا کہ ان کا یہ پُرعزم شعر ہمیں بیداری کا درس دیتا ہے:


اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے!