ایران کی جنگ، پاکستان کی آزمائش ،تحریر: طارق نوید سندھو
نقطہ نظر
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی، اس کے شعلے سرحدوں سے نکل کر معیشت، بازار، روزگار، خوراک اور عام آدمی کے چولہے تک پہنچ جاتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان فروری 2026 سے جاری تنازع بھی اب محض دو ملکوں کا عسکری معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیل چکے ہیں۔ ستمبر 2026 میں بھی کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت معمول سے کہیں کم ہے۔
ایران کے لیے اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اسے براہِ راست فوجی حملوں، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات، تجارتی رکاوٹوں اور سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایرانی قیادت کے مطابق جنگ اور امریکی پابندیوں کے دوران ملک کی درآمدات اور برآمدات تقریباً 35 فیصد تک سکڑ چکی ہیں توانائی، صنعتی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
معاشی میدان میں صورتحال مزید سنگین دکھائی دیتی ہے۔ اگست 2026 میں ایران کی سالانہ افراطِ زر 84 فیصد تک پہنچنے اور ایرانی ریال کے ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم سطح تک گرنے کی اطلاع دی گئی۔ خوراک کی قیمتوں میں بھی انتہائی تیزی دیکھی گئی، جبکہ توانائی کی قلت اور بجلی کی بندش نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیا۔ ایران میں جنگ کا اثر براہِ راست تباہی، معاشی دباؤ، مہنگائی، توانائی کے بحران اور تجارت کی بندش کی شکل میں سامنے آیا ہے جبکہ پاکستان میں بم نہیں گرے، مگر قیمت ضرور چکانی پڑی
پاکستان کی صورتحال ایران سے مختلف ہے۔ پاکستان براہِ راست جنگ کا فریق نہیں، لیکن جغرافیائی قربت، خلیج سے توانائی کی درآمدات اور عالمی تیل کی قیمتوں کے باعث جنگ کے معاشی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ وہاں کشیدگی بڑھنے سے تیل اور ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے پٹرول، ڈیزل، گیس، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار پر دباؤ بڑھا۔ پاکستان کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے سبسڈی اور بعد ازاں توانائی بچت کے اقدامات بھی کرنا پڑے۔
ایران اور پاکستان: فرق کہاں ہے؟ اگر دونوں ممالک کا موازنہ کیا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے۔
ایران کو براہِ راست جنگ کا سامنا ہے جبکہ پاکستان کو اس کے معاشی اور علاقائی اثرات کا
ایران میں میزائل، فضائی حملے، بنیادی تنصیبات، تجارت، کرنسی اور روزمرہ زندگی براہِ راست متاثر ہوئی جبکہ پاکستان میں سب سے نمایاں اثر پٹرولیم مصنوعات، ایل این جی، مہنگائی، ٹرانسپورٹ، صنعتی لاگت اور بیرونی ادائیگیوں پر پڑا
ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں اور مہنگائی کے دباؤ میں تھی، جنگ نے ان مسائل کو مزید شدید کیا جبکہ پاکستان بھی پہلے سے بیرونی ادائیگیوں اور توانائی درآمدات کے دباؤ کا سامنا کر رہا تھا، اس لیے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اس کے لیے اضافی بوجھ بن گیا
پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پہلو بھی سامنے آیا۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی کوششوں میں سفارتی کردار ادا کیا۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بارہا مذاکرات اور سفارت کاری کو مسئلے کا حل قرار دیا اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر زور دیا۔
جون 2026 میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بھی سامنے آئی، تاہم بعد میں لڑائی اور کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سفارت کاری کے باوجود بحران ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
اصل سوال یہ ہے جنگ کا بل کون ادا کرے گا؟
یہ سوال صرف ایران یا پاکستان کا نہیں، پوری دنیا کا ہے۔
ایران جنگ کی قیمت اپنی تباہ شدہ تنصیبات، کمزور کرنسی، مہنگائی اور محدود تجارت کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔ پاکستان جنگ سے بچتے ہوئے بھی مہنگے ایندھن، بڑھتی ہوئی توانائی لاگت، درآمدی بل اور عام آدمی پر پڑنے والے مہنگائی کے دباؤ کی صورت میں قیمت ادا کر رہا ہے۔
آج پاکستان کے عام شہری کے لیے جنگ شاید سرحد پر نہیں، پٹرول پمپ، سبزی منڈی، ٹرانسپورٹ کے کرائے اور بجلی و گیس کے بل میں نظر آ رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے اس بحران کا سب سے اہم راستہ جنگ میں کودنا نہیں بلکہ سفارتی توازن، توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی پیداوار، قابلِ تجدید توانائی اور علاقائی امن کی پالیسی کو مضبوط کرنا ہے۔
کیونکہ جنگ میں میزائل چند منٹ میں اپنا ہدف ڈھونڈ لیتا ہے، مگر جنگ کے معاشی زخم برسوں میں بھی نہیں بھرتے۔
ایران کی آزمائش میدانِ جنگ میں ہے، پاکستان کی آزمائش معیشت میں۔ اور دونوں ملکوں کے عوام کی سب سے بڑی ضرورت ایک ہی ہے: امن۔





