بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

باغی رائٹر فورم ،اظہار سے آگہی تک،تحریر: سماویہ اعظم

نقطہ نظر
samavia khayal

میرا نام سماویہ اعظم ہے۔ مجھے کالم، مضامین، افسانے، افسانچے اور کہانیاں لکھنے کا بے حد شوق ہے۔ مناسب پلیٹ فارم نہ ملنے کی وجہ سے میری بہت سی تحریریں قارئین تک نہیں پہنچ سکیں لیکن اس کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری۔ الحمدللہ آج میری تحریریں پچاس سے زائد اخبارات اور تقریباً پندرہ مختلف میگزین میں شائع ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے مختلف اخبارات و رسائل کے علاوہ سری نگر، لکھنؤ اور اورنگ آباد کے اخبارات میں بھی میری تحریریں شائع ہوتی ہیں۔ اب تک میں ڈیڑھ سو سے زائد کہانیاں، کالم اور نظمیں لکھ چکی ہوں۔ میری تحریروں میں معاشرتی مسائل، زندگی کے مختلف پہلو، خواتین اور بچوں کے مسائل سمیت دیگر موضوعات شامل ہیں۔

بقول شاعر:

چلی ہے باد مخالف تو غم نہیں ہے کہ ہم

چراغ اپنے لہو سے جلانے آئے ہیں

جب میں باغی رائٹر فورم کا حصہ بنی تو اس وقت اس کے تقریباً تیس ارکان تھے۔ اس فورم میں شمولیت میرے لیے خوشی کا باعث تھی اور مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ اس فورم کے سرپرست مبشر لقمان صاحب ہیں۔ میرے لیے یہ ایک بہترین موقع تھا کہ میں اپنی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچا سکوں اور اپنے ادبی سفر کو مزید آگے بڑھا سکوں۔ ہمارے ملک میں لکھنے والوں کی کمی نہیں ہر روز بے شمار تحریریں سامنے آتی ہیں، مختلف موضوعات پر اظہار خیال ہوتا ہے اور ہر شخص اپنی تحاریر قارئین تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان تحریروں میں بےشمار باتیں ایسی ہوتی ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں اس کے ذہن میں کوئی نیا سوال پیدا کرتی ہیں یا اسے اپنے گردوپیش کو مختلف زاویے سے دیکھنے کا موقع دیتی ہیں۔ کسی بھی تنظیم کی پہچان اس کے کام اور ان لوگوں سے بنتی ہے۔ باغی لفظ اپنے اندر ایک خاص معنویت رکھتا ہے۔ عام طور پر بغاوت کا تصور کسی رائج نظام کے خلاف کھڑے ہونے سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن فکری بغاوت کی نوعیت مخالفت سے مختلف ہوتی ہے۔ ہر بات کی نفی کرنا، ہر شخص سے اختلاف کرنا یا خود کو دوسروں سے منفرد سمجھنا حقیقی فکری آزادی نہیں بلکہ بغاوت اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان کسی غلط بات کو اس لیے قبول کرنے سے انکار کر دے کہ معاشرے کے سب لوگ اسے تسلیم کر رہے ہیں۔ جب کوئی شخص کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرے یا کسی فیصلے کے بارے میں سوال کرے تو یہ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ادبی فورم کی افادیت اس وقت بڑھتی ہے جب وہ صرف تحریریں شائع کرنے یا ناموں کو نمایاں کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ لکھنے والوں کی فکری تربیت کا ذریعہ بھی بنے۔ نئے لکھاریوں کی خامیوں کی نشان دہی کرے اور ان کی رہ نمائی کرے۔ ابتدا میں غلطیاں ہوتی ہیں، جملوں کی ترتیب درست نہیں ہوتی کسی کی تحریر میں معلومات کم ہوتی ہے۔ ایسے میں مذاق اڑانے یا حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے اصلاح کا راستہ اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ عمدہ تحریر لکھنے میں کئی دن لگتے ہیں۔ مطالعہ، مشاہدہ اور تجربے سے تحریر جان دار بنتی ہے۔ اظہار رائے کا حق ہر باشعور معاشرے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے لیکن اس حق کا درست استعمال بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کسی فرد، ادارے یا سماجی مسئلے پر تنقید کرنا اور بغیر ثبوت کسی پر الزام عائد کرنا غلط ہے۔ لکھاری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے الفاظ کسی کی ساکھ، عزت اور زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات لکھنے کی خواہش، مطالعہ کی عادت سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ انسان اپنی رائے دینا چاہتا ہے لیکن اس موضوع پر کتابوں، تحقیق اور مختلف نقطۂ ہائے نظر سے واقف ہونے کی زحمت کم اٹھاتا ہے نتیجتاً وہی باتیں نئے الفاظ میں دہرائی جاتی ہیں اور تحریر میں انفرادیت پیدا نہیں ہو پاتی۔ اگر کسی فورم پر موضوعاتی مباحثہ، تحریری مشق کی حوصلہ افزائی کی جائے تو وہاں وابستہ افراد کے لیے اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تحریرلکھنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اس میں سوچنے سمجھنے مواد جمع کرنے، مشاہدہ کرنے اور اپنی بات کو مناسب انداز میں ترتیب دینا لازمی ہے۔ علم ہمیشہ مطالعے سے آگے بڑھتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ دوسرے کے خیال سے استفادہ کرتے ہوئے اس کا مناسب حوالہ دیا جائے اور اپنی دلیل، زبان اور تجزیے میں دیانت برقرار رکھی جائے یہی اصول تحریر کو معتبر بناتے ہیں۔ اگر نوجوان مطالعے سے دور ہو رہے ہیں تو انہیں مورد الزام ٹھہرانے کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھانا چاہیے کہ کتابوں تک رسائی، تعلیمی ماحول اور مثبت رہ نمائی کے کتنے مواقع موجود ہیں۔ ایک ادبی ماحول میں کسی تحریر سے اختلاف کرنے والے کو دشمن نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی تعریف کو تحریر کے معیار کا واحد پیمانہ بنایا جاتا ہے وہاں دلیل کا جواب دلیل سے دینے، غلطی تسلیم کرنے اور نئی معلومات کی روشنی میں اپنی رائے نظرثانی کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں لکھاری دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے نہیں لکھتا بلکہ خود بھی سیکھتا ہے یہی عمل کسی فکری پلیٹ فارم کو محض نام یا گروہ کے بجائے ایک بامقصد ادبی روایت کی طرف لے جا سکتا ہے۔ باغی رائٹر فورم جس کے سربراہ مبشر لقمان صاحب ہیں ان کے پلیٹ فارم کو روشن کرنے کا اصول بھی یہی ہے کہ تحاریر بامعنی ہوں ، لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔اختلاف کو برداشت کیا جائے اور عمدہ تخلیق کو اہمیت دی جائے۔ اگر قلم کار اپنے معاشرے کو سمجھنے، اس کے مسائل کو دیانت داری سے بیان کرنے اور اپنی تحریر کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تو منزل مقصود پر پہنچ سکتے ہیں قلم کی تاثیر آواز کی محتاج نہیں ہوتی اس کے لفظ خود اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔