ہم اپنی صحت کو روز تھوڑا تھوڑا داؤ پر لگاتے ہیں، مگر اسے نقصان پہنچانے کا اعتراف تب کرتے ہیں جب جسم بیماری کی صورت میں ہم سے حساب مانگتا ہے۔ ہم جانتے بوجھتے ایسی عادات اپناتے ہیں جو ہمیں بیماری کے قریب لے جاتی ہیں، پھر انہی بیماریوں سے نجات کے لیے اسپتالوں کے چکر لگاتے، دواؤں پر رقم خرچ کرتے اور صحت یابی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس صحت کو بچانے کے لیے بعد میں سب کچھ داؤ پر لگانا پڑتا ہے، اسے برباد کرنے میں ہم اتنے بے فکر کیوں ہیں؟
جدید طرزِ زندگی میں جسمانی مشقت سے گریز، غیر متوازن خوراک، نیند کی بے ترتیبی اور مسلسل ذہنی دباؤ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ہم دل کے امراض، ذیابیطس، بلند فشارِ خون اور موٹاپے کو مہلک مسائل تو سمجھتے ہیں، مگر ان کے خطرات بڑھانے والی عادات پر کم توجہ دیتے ہیں۔ جسمانی سرگرمی کی کمی ان بیماریوں کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔ گھنٹوں کرسی پر بیٹھنا، ہر چھوٹے فاصلے کے لیے گاڑی استعمال کرنا اور ورزش کو کل پر چھوڑ دینا بظاہر معمولی باتیں ہیں، مگر مسلسل یہی طرزِ عمل صحت کو متاثر کرتا ہے۔
پاکستان میں نوجوانوں کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش ناک اشارے موجود ہیں۔ 2026 میں کراچی کے چار بنیادی طبی مراکز میں 614 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں 40 سال سے کم عمر 237 شرکا شامل تھے۔ ان میں 156 افراد، یعنی تقریباً 66 فیصد، میں دل کی شریانوں کی بیماری کے پانچ یا اس سے زیادہ خطرے کے عوامل پائے گئے۔ یہ نتائج پورے پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتے، لیکن اس بات کی نشان دہی ضرور کرتے ہیں کہ نوجوانی میں بھی متعدد خطرات جمع ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد دل کے مریضوں کی نہیں خطرناک عوامل کی ہے ۔مگر گھنئی تو بج اٹھی ناں ۔
خوراک کے معاملے میں بھی ہماری ترجیحات قابلِ غور ہیں۔ فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیا، میٹھے مشروبات اور ضرورت سے زیادہ نمک و شکر وقتی ذائقہ تو دیتے ہیں، مگر ان کا مسلسل استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس سبزیاں، پھل، دالیں، مناسب پروٹین اور متوازن غذا جسم کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ صحت مند رہنے کے لیے مہنگی غذاؤں کی نہیں، درست انتخاب اور اعتدال کی ضرورت ہے۔
نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ بھی صحت کے اہم مسائل ہیں۔ رات گئے تک موبائل استعمال کرنا، سونے جاگنے کے اوقات میں بے قاعدگی اور کام کی پریشانیوں کو مسلسل ذہن پر سوار رکھنا جسمانی و ذہنی صحت متاثر کر سکتا ہے۔ مناسب نیند، روزمرہ سرگرمیوں میں توازن اور اہلِ خانہ کے ساتھ خوش گوار وقت ذہنی آسودگی کے لیے اہم ہیں۔ ذہنی صحت کو نظر انداز کرکے جسمانی صحت کی تکمیل ممکن نہیں۔
اس صورتِ حال کا ایک دلچسپ مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ صحت کے اصولوں سے غفلت صرف عام لوگوں تک محدود نہیں۔ میرے دو تین ڈاکٹر دوست اور عزیز بھی ہیں۔ بدقسمتی سے ان میں سے بعض کو میں نے خود حفظانِ صحت کے اصولوں پر پوری طرح عمل کرتے نہیں دیکھا۔ دوسروں کو متوازن غذا، ورزش اور احتیاط کی اہمیت سمجھانے والے کبھی اپنی صحت کے معاملے میں وہی سنجیدگی نہیں دکھاتے جس کی دوسروں سے توقع رکھتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ کا استعمال، ورزش سے دوری اور چہل قدمی سے گریز بعض پڑھے لکھے افراد میں بھی عام ہے۔ ایسے موقع پر محاورہ یاد آتا ہے: ”اوروں کو نصیحت، خود میاں فصیحت!“ یہ کسی پیشے پر طنز نہیں، انسانی کمزوری کی نشان دہی ہے۔ علم ہونا اور اس پر عمل کرنا دو الگ باتیں ہیں؛ صحت کی نصیحت کی اصل قوت الفاظ میں نہیں، عمل میں ہوتی ہے۔
تاہم ہر بیماری کو خراب طرزِ زندگی کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔ عمر، موروثی عوامل، ماحول اور دیگر طبی وجوہ بھی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لیے مریض کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے بروقت علاج اور مناسب رہنمائی کو ترجیح دینی چاہیے۔ اسی طرح انٹرنیٹ کے ہر نسخے پر یقین کرنا، خود تشخیص کرنا یا معالج کے مشورے کے بغیر ادویات استعمال کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
عملی طور پر چند بنیادی عادات صحت کے تحفظ میں مدد دیتی ہیں: متوازن غذا، مناسب نیند، تمباکو سے اجتناب، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور ضرورت کے مطابق طبی معائنہ۔ بالغ افراد کے لیے عمومی سفارش ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی ہے۔ بلڈ پریشر اور خون میں شکر کی جانچ بھی اپنی عمر، خطرات اور معالج کے مشورے کے مطابق کرانی چاہیے۔ سینے میں شدید درد، اچانک سانس کی دشواری یا فالج کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ہم صحت خراب ہونے کے بعد وقت، دولت اور توانائی علاج پر صرف کرتے ہیں، مگر صحت برقرار رکھنے کے لیے روزانہ چند منٹ نکالنے میں تامل کرتے ہیں۔ ہم مستقبل کے لیے سرمایہ جمع کرتے ہیں، بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اور آسائشیں حاصل کرنے میں عمر گزار دیتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ ان سب سے لطف اندوز ہونے کے لیے صحت مند جسم اور پُرسکون ذہن بھی درکار ہیں۔
یاد رکھیے، صحت ایسی دولت ہے جس کی قدر اکثر اس وقت سمجھ آتی ہے جب وہ خطرے میں پڑ جائے۔ بیماری کے بعد علاج ضرورت ہے، مگر بیماری کے خطرات کو سمجھ کر احتیاط کرنا دانش مندی۔ زندگی کی رفتار بڑھائیے، مگر اپنی صحت کو اس دوڑ میں پیچھے نہ چھوڑیے؛ کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔
مزید پڑھیں






