اوورتھنکنگ، جب سوچیں ذہن پر بوجھ بن جائیں،تحریر: شمسہ رانی
نقطہ نظر
کبھی کبھی انسان زندگی کی مشکلات سے اتنا نہیں تھکتا جتنا اپنے ذہن میں جاری بے شمار سوالوں سے ہارنے لگتا ہے۔ کچھ باتیں گزر جانے کے باوجود دل و دماغ میں ٹھہری رہتی ہیں، کچھ خدشات حقیقت بننے سے پہلے ہی ہماری خوشیاں چھین لیتے ہیں اور کچھ یادیں بار بار لوٹ کر ہمیں ماضی کے دریچوں میں لے جاتی ہیں۔ ہم بظاہر زندگی کے معمولات میں مصروف ہوتے ہیں، مگر ہمارے اندر سوچوں کا ایسا شور برپا ہوتا ہے جو ہمیں سکون سے جینے نہیں دیتا۔ اسی کیفیت کو اوورتھنکنگ (Overthinking) کہا جاتا ہے۔
اوورتھنکنگ کا مطلب کسی بات، واقعے یا مسئلے کے بارے میں ضرورت سے زیادہ اور مسلسل سوچتے رہنا ہے۔ کوئی ماضی کی غلطیوں پر پشیمان رہتا ہے، کوئی دوسروں کے رویوں میں سوال تلاش کرتا ہے، تو کوئی مستقبل کے خدشات میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ حال کی خوشیاں بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل ہونے لگتی ہیں۔ معاشی پریشانیاں، رشتوں کی الجھنیں، بچوں کے مستقبل کی فکر اور ناکامی کا خوف انسان کو ذہنی تھکن میں مبتلا کر سکتے ہیں۔
سوچنا بری بات نہیں، بلکہ دانش مندی کی علامت ہے، لیکن جب سوچ ہمیں حل کے بجائے الجھنوں کی طرف لے جانے لگے تو ہمیں رک کر اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ مسئلے پر غور کرنا اور ایک ہی مسئلے کو بار بار دہراتے رہنا دو مختلف باتیں ہیں۔ غور و فکر ہمیں راستہ دکھاتا ہے، جبکہ بے مقصد سوچ ہمیں اسی مقام پر کھڑا رکھتی ہے۔ محض پریشان ہونے سے حالات تبدیل نہیں ہوتے؛ تبدیلی کے لیے منصوبہ بندی، حوصلے اور عملی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں معاشی دباؤ بھی مسلسل سوچ کا ایک بڑا سبب ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی اور محدود آمدنی نے بہت سے لوگوں کو مستقبل کے خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک باپ اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہے، ایک ماں اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کی فکر میں مبتلا ہے، جبکہ نوجوان روزگار اور کامیابی کی تلاش میں ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پریشان ہونا فطری ہے، مگر جہاں عمل کی گنجائش موجود ہو، وہاں اپنی صلاحیتیں بڑھانا، نئے ہنر سیکھنا اور مواقع تلاش کرنا ضروری ہے۔ البتہ ہر شخص کے حالات یکساں نہیں ہوتے؛ اس لیے پریشان حال انسان کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اس کی مشکلات کو سمجھنا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
مسلسل ذہنی الجھن نیند، بھوک، توجہ اور مزاج کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کا اثر ہمارے رشتوں پر بھی پڑتا ہے۔ بعض اوقات انسان دوسروں کی معمولی بات کو بھی اپنے خلاف سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے تصور سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ہر رویے کا منفی مطلب نکالنے کے بجائے حقیقت کو سمجھنے اور کھل کر بات کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ ہمیں ایسے افراد کی بات تحمل سے سننی چاہیے، کیونکہ بعض اوقات انسان کو مشورے سے پہلے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے احساسات کو سمجھ سکے۔ اگر یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو کسی مستند ذہنی صحت کے ماہر سے رہنمائی لینا مناسب ہے۔
اپنے خیالات کو لکھنا، مسائل کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا، چہل قدمی، مناسب نیند، عبادت اور قابلِ اعتماد لوگوں سے گفتگو ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ خود سے پوچھیے: کیا جس بات نے مجھے پریشان کر رکھا ہے، اس کا حل میرے اختیار میں ہے؟ اگر ہاں، تو پہلا قدم کیا ہو سکتا ہے؟ اور اگر نہیں، تو کیا مسلسل سوچتے رہنے سے حقیقت بدل جائے گی؟ یہ سوال ہمیں اپنی توانائی بے مقصد خدشات پر صرف کرنے کے بجائے بہتر فیصلوں کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
زندگی ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے اندیشوں میں الجھے رہنے کا نام نہیں، بلکہ حال میں رہتے ہوئے اپنے حصے کی کوشش کرنے کا نام ہے۔ ماضی ہمیں سبق دیتا ہے، مستقبل تیاری کا پیغام دیتا ہے، مگر عمل کرنے کا وقت حال ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر سوال کا جواب فوراً ملنا ضروری نہیں اور ہر مسئلے کا حل ہماری مرضی کے مطابق نکلنا بھی ممکن نہیں۔
یاد رکھیے، ہر خیال حقیقت نہیں ہوتا، ہر خدشہ مستقبل کی خبر نہیں دیتا اور ہر مشکل ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ اپنے ذہن کو سوچوں کا قید خانہ نہیں، امکانات کی طرف کھلنے والا دروازہ بنائیے، کیونکہ زندگی بدلنے کے لیے کبھی کبھی ہزار بار سوچنے کے بجائے صرف ایک درست قدم اٹھانا کافی ہوتا ہے۔





