پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایران، امریکہ اور اسرائیل: جنگ کی دہلیز پر کھڑی دنیا ،تحریر:شبنم مرزا

نقطہ نظر

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ممکنہ تصادم کے اسباب کیا ہیں اور اگر یہ آگ بھڑک اٹھی ہے اب اس کے شعلے کہاں تک جائیں گے؟ کیونکہ خامنہ ای صاحب کی شھادت سے نہ صرف ایران کی عوام بلکہ پاکستان دیگر مسلم ممالک کے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہیں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے


ایران کا جوہری پروگرام برسوں سے عالمی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ اسرائیل اسے اپنی بقا کا مسئلہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ اسے خطے میں طاقت کے توازن کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ماضی میں جوہری معاہدہ ہوا، پابندیاں لگیں، مذاکرات ہوئے، مگر بداعتمادی کی خلیج کم نہ ہو سکی۔ اسرائیل کا مؤقف واضح ہے کہ وہ ایران کو ایٹمی طاقت بنتا نہیں دیکھ سکتا، اور اسی خدشے کے تحت خفیہ کارروائیوں اور سفارتی دباؤ کا سلسلہ جاری رہا ہے۔


دوسری طرف ایران خود کو خطے میں ایک بااثر طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں حماس جیسے گروہوں کی حمایت اسرائیل کے لیے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل اسے اپنی سرحدوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی حکمتِ عملی قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تل ابیب اور تہران کے درمیان لفظی جنگ اکثر عملی کارروائیوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔


امریکہ اس پورے منظرنامے میں محض تماشائی نہیں۔ واشنگٹن اپنے اتحادی اسرائیل کی سلامتی کو اولین ترجیح دیتا ہے، جبکہ خلیجی ریاستوں میں اپنے فوجی اڈوں اور توانائی مفادات کا تحفظ بھی اس کی پالیسی کا حصہ ہے۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں اسی حکمتِ عملی کا تسلسل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دباؤ اور دھمکی مسئلے کا حل ہیں، یا یہ آگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں؟


اگر خدانخواستہ براہِ راست جنگ چھڑ گئی تو اس کے اثرات محض تین ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی تیل کی رسد کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لے گی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اس جھٹکے کو زیادہ شدت سے محسوس کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ لبنان، شام اور عراق جیسے ممالک ایک بار پھر پراکسی جنگوں کا میدان بن سکتے ہیں۔


تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان مگر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ عراق اور افغانستان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں طاقت کے استعمال نے مسائل حل کرنے کے بجائے پیچیدہ کر دیے۔ ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم بھی اگر سفارت کاری کے بجائے عسکری راستہ اختیار کرتا ہے تو خطہ کئی دہائیوں تک عدم استحکام کا شکار رہ سکتا ہے۔


آج ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے مذاکرات کی میز سجائی جائے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ کیونکہ جنگ کا انجام صرف تباہی ہے، جبکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو خطے کو استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔


فیصلہ طاقت کے ایوانوں میں ہوگا، مگر اس کے اثرات گلی کوچوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ سوال یہ ہے: کیا دنیا ایک اور بڑی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ یا پھر عقل و تدبر کا چراغ اس اندھیرے کو روک لے گا؟

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی صرف تین ریاستوں کا مسئلہ نہیں، یہ پوری اُمتِ مسلمہ اور عالمی امن کے لیے آزمائش ہے۔ ایسے نازک مرحلے پر اسلامی ممالک اور بااثر عالمی طاقتوں کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون آگ بجھانے کے لیے آگے بڑھتا ہے۔



اسلامی دنیا کو سب سے پہلے داخلی تقسیم سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) محض علامتی بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی سفارتی مشن تشکیل دے۔ مشترکہ وفد تہران، واشنگٹن اور تل ابیب سے بیک وقت رابطہ کرے تاکہ غلط فہمیوں اور اشتعال انگیزی کو کم کیا جا سکے۔


خلیجی ریاستیں، ترکی اور پاکستان جیسے ممالک ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے ایران اور امریکہ دونوں سے سفارتی روابط موجود ہیں۔ اگر یہ ممالک غیر جانبدار پلیٹ فارم مہیا کریں تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔


مزید برآں، اسلامی ممالک کو فرقہ وارانہ یا جذباتی بیانیے سے گریز کرنا چاہیے۔ میڈیا اور مذہبی قیادت کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ عوامی جذبات کو اشتعال کی بجائے اعتدال کی طرف موڑا جا سکے۔




اقوام متحدہ کو فوری طور پر فعال سفارت کاری شروع کرنی چاہیے۔ سلامتی کونسل میں ہنگامی اجلاس اور فریقین کے درمیان براہِ راست رابطہ کشیدگی کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔


یورپی یونین، چین اور روس جیسے ممالک بھی پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ طاقت کے توازن کی سیاست کے بجائے اگر وہ امن کو ترجیح دیں تو ممکن ہے کہ تصادم ٹل جائے۔ عالمی معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے؛ ایک نئی جنگ پوری دنیا کو معاشی بحران میں دھکیل سکتی ہے۔


عملی اقدامات کیا ہوں؟ جنگ بندی اور اشتعال انگیز بیانات پر فوری روک جوہری پروگرام پر شفاف مذاکرات کی بحالی علاقائی سلامتی کا نیا فریم ورک انسانی امداد اور ممکنہ مہاجر بحران کے لیے پیشگی منصوبہ بندی



اسلامی ممالک کے لیے یہ لمحۂ آزمائش ہے کہ وہ صرف مذمتی قراردادوں تک محدود رہتے ہیں یا حقیقی قیادت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح بااثر طاقتوں کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اس بحران کو اپنے مفادات کے کھیل میں استعمال کریں گی یا تاریخ میں امن کے معمار کے طور پر یاد کی جائیں گی۔


آگ پھیلتی ہے تو سرحدیں نہیں دیکھتی۔ اگر آج دانشمندی سے قدم نہ اٹھایا گیا تو کل پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ امن کی سیاست ہی اصل کامیابی ہے، اور یہی وقت کا تقاضا بھی۔