کچھ ہستیوں کے غم پڑھ کر انسان کو اپنے دکھ چھوٹے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں مصائب نے بارہا دستک دی، مگر ہر آزمائش میں صبر، رحمت اور خیرخواہی کا چراغ روشن رہا۔ وہ زندگی جسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنایا، خود کتنی جدائیوں، محرومیوں اور اپنوں کی مخالفت سے گزری، اس کا تصور بھی دل کو لرزا دیتا ہے۔
ذرا اس بچے کا تصور کیجیے جو پیدائش سے پہلے ہی والد کی شفقت سے محروم ہوچکا تھا۔ چھ برس کی عمر میں ماں کی آغوش چھن گئی اور آٹھ برس کی عمر میں دادا عبدالمطلب بھی رخصت ہوگئے۔ پھر چچا ابو طالب نے محبت سے پالا، حفاظت کی، مخالفت اپنے سر لی؛ لیکن ایک دن وہ سہارا بھی اٹھ گیا۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وہ رفیقۂ حیات تھیں جنہوں نے پہلی وحی کے بعد تسلی دی اور ہر مشکل میں ساتھ کھڑی رہیں۔ ان کی وفات سے زندگی کی ایک عظیم ڈھارس چھن گئی۔ اسی زمانے میں ابو طالب بھی رخصت ہوئے۔ سیرت میں یہ دور عام الحزن، یعنی غم کے سال، کے نام سے معروف ہے۔
یہ دکھ محض جدائیوں کے نہ تھے۔ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و امانت کو تسلیم کیا تھا، انہی میں سے بہت سوں نے دعوتِ توحید کا انکار کردیا۔ بعض قریبی رشتے بھی مخالفت میں کھڑے ہوگئے۔ طعنے دیے گئے، اذیتیں پہنچائی گئیں۔ اجنبی کی سختی دکھ دیتی ہے، مگر اپنوں کی مخالفت کا زخم کہیں گہرا ہوتا ہے۔
شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں بنو ہاشم اور ان کے ساتھ کھڑے لوگوں پر معاشی و معاشرتی تنگی مسلط ہوئی۔ سیرت کی روایات میں درختوں کے پتے کھانے اور بھوک سے بچوں کے رونے کا ذکر ملتا ہے۔ وہ ہستی جس کا پیغام بھوکوں کو کھلانا تھا، خود اہلِ خانہ سمیت بھوک کی آزمائش سے گزر رہی تھی۔ مگر دعوتِ حق نہ رکی۔
طائف میں امید لے کر گئے، مگر جواب میں اذیت ملی۔ پہاڑوں کے فرشتے کی جانب سے سزا کی پیشکش کے باوجود ستانے والوں کی نسلوں کے لیے ہدایت کی امید ظاہر کی۔ ہم تو ایک تلخ جملہ برسوں یاد رکھتے ہیں؛ وہ زخم کھا کر بھی انسانوں کی بھلائی چاہتے رہے۔
پھر مکہ چھوڑنا پڑا؛ مانوس گلیاں، بیت اللہ کا قرب اور بچپن کی یادیں پیچھے رہ گئیں۔ یہ محض سفر نہیں، دین کی خاطر محبوب وطن سے جدائی تھی۔ مدینہ میں بھی منافقین کی ریشہ دوانیاں، بعض معاہدہ شکن گروہوں کی مخالفت اور مکہ کے مشرکین کے حملے سامنے آئے۔ جگہ بدلی، امتحان ختم نہ ہوا۔
گھر کے غم اور بھی دل گرفتہ ہیں۔ حضرت رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو ابو لہب کے بیٹوں نے رخصتی سے پہلے طلاق دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تینوں بیٹوں، قاسم، عبداللہ اور ابراہیم، کی جدائی دیکھی۔ بیٹیوں میں حضرت زینب، رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہن بھی آپ کی زندگی ہی میں وفات پاگئیں؛ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے بعد زندہ رہیں۔ حضرت ابراہیم کے انتقال پر آپ کی آنکھیں اشک بار ہوئیں۔ فرمایا کہ آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، مگر زبان سے وہی نکلتا ہے جو رب کو پسند ہو۔ (صحیح بخاری) صبر بے حسی کا نام نہیں۔
سیرت یہ بھی سکھاتی ہے کہ غم سہہ کر انسان دوسروں کے لیے کیا بنتا ہے۔ کسی نے اذیت پہنچائی اور کسی نے سہارا دیا؛ کسی نے مخالفت کی اور کسی نے جان نچھاور کی۔ ہر انسان اپنے رویے سے اپنا کردار تراشتا ہے؛ کوئی مرہم بنتا ہے، کوئی عمر بھر رہنے والا زخم۔
دنیا دارالعمل ہے، آخری جزا کا مقام نہیں۔ یہاں ہر نیکی کا بدلہ فوراً نہیں ملتا، ہر ظلم کا حساب فوراً سامنے نہیں آتا؛ مگر کوئی عمل بے حساب بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے: سکون دینے والے انسان کے طور پر یا تکلیف بڑھانے والے کے طور پر؟
ہم اپنے گھروں میں بھی یہی منظر روز بناتے اور بگاڑتے ہیں۔ کبھی کوئی شوہر غصے میں ایسا لفظ کہہ دیتا ہے جو بیوی کی عزتِ نفس کو زخمی کردیتا ہے؛ کبھی بیوی کی تحقیر شوہر کے دل میں مستقل فاصلے پیدا کردیتی ہے۔ کبھی والدین کی بے احتیاطی اولاد کے اعتماد کو توڑتی ہے اور کبھی اولاد کے سخت لہجے سے بوڑھے والدین اندر ہی اندر بکھر جاتے ہیں۔ ہمیں اختلاف کا حق ضرور ہے، تذلیل کا نہیں؛ ناراضی ہوسکتی ہے، مگر دل توڑنا ضروری نہیں۔ اپنے دکھ کا عذر بنا کر دوسروں کو دکھ دینا کوئی بہادری نہیں۔
خصوصاً اپنے الفاظ کا حساب رکھیے۔ زبان سے نکلا جملہ کہنے والا بھول جاتا ہے، سننے والا کبھی پوری عمر اسے اٹھائے پھرتا ہے۔ ہم نہیں جانتے سامنے والا کس جدائی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ ایک طعنہ اس کا حوصلہ توڑ سکتا ہے؛ ایک نرم بات اسے سنبھال سکتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت دکھوں کے درمیان پاکیزہ کردار کی راہ دکھاتی ہے۔ کوشش کیجیے کہ ہمارے نام کے ساتھ کسی کی آہ نہیں، کسی کی دعا جڑی ہو؛ ہمارے لفظوں کا زخم نہیں، حسنِ سلوک کی یاد باقی رہے۔
غم ملنا ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں، مگر کسی کے غم کی وجہ بننے سے بچنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت

