تھکن کو پسِ پشت ڈال کر دیکھو جستجو
منزل کا پہلا زینہ ہے
راستے دشوار ہیں
مگر ناممکن نہیں
بس خود پر یقین کی شمع جلاؤ کامیابی تمہارے قدموں کا پتا پوچھے گی۔
تڑپ دل میں کچھ کر گزرنے کی پیاس رکھو منزل ملے نہ ملے،
تم آس رکھو
جستجو کو ہمیشہ اپنے پاس رکھو۔
یقین
اندھیروں سے
لڑ کر ہی سویرا آئے گا
جستجو کرو گے
تو راستہ نظر آئے گا
منزل تک وہی پہنچے گا
جو ہمت پائے گا۔
جستجو تھم جانا تو
دریا کی صفت نہیں ہے
منزل پانا ہی مسافر کی حقیقت ہے بڑھتے رہنا
انسان کی فضیلت ہے۔
عزم ارادے جن کے پختہ ہوں،
منزل ان کی ہے
جستجو جن کا شیوہ ہو،
جیت ان کی ہے
راستوں کی ہر رکاوٹ اب ان کی ہے۔
کامیابی
خوابوں کو حقیقت کا رنگ دو تم جستجو کی راہ میں
خود کو ڈھال دو تم
منزل کا پرچم
فضا میں لہرا دو تم۔
...................................................
غزل
ندیم یعقوب گوہر
محبت کی لہر ہے اور عشق کا کنارا ہے
خدا جانے مقدر نے کہاں ہم کو اتارا ہے
تلاطم خیز موجوں میں ہے ڈولتی اپنی کشتی
مگر تیرے سہارے نے ہمیں پار اتارا ہے
جہاں میں ہر کسی نے دی ہمیں دھوکے کی ہی صورت
فقط اک نام ہے تیرا جو دنیا میں پیارا ہے
بڑی مشکل سے کٹتی ہے شبِ ہجراں کی تنہائی
مگر یادوں کی شمع سے کیا ہم نے گزارا ہے
نہ مندر سے ہمیں مطلب نہ کعبے سے کوئی نسبت
ترا دربار ہی مولا! عقیدت کا پجارا ہے
زمانے بھر کی رسوائی ملی ہے پیار میں لیکن
یہ سودا عشق کا دیکھو ہمیں کتنا گوآرا ہے
ستارے ٹوٹتے ہیں جب فلک سے درد کی صورت
سمجھ لینا کہ قسمت نے کیا کوئی اشارہ ہے
ہمارے حال پر دنیا بھلے ہنستی رہے لیکن
ہمیں معلوم ہے سائیں! کہ تو ہی بس ہمارا ہے
ترا چہرہ تری آنکھیں ترے گیسو تری باتیں
خدا نے حسن کا کتنا حسیں منظر سنوارا ہے
سخن کی موجِ دریا میں سفینہ لے کے نکلے ہیں
خدا کا شکر ہے گوہر ملا ہم کو کنارا ہے
مزید پڑھیں






