کھانے میں نمک کی اہمیت، تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم ( حصہ اول)
نقطہ نظر
کھانے میں نمک کی اہمیت، کیمیائی خواص اور انسانی جسم میں افادیت کا جائزہ لیا جائے تو یہ کائنات کے ان بنیادی اور ناگزیر اجزا میں سر فہرست نظر آتا ہے جن پر ہماری حیات اور بقا کا دارومدار ہے۔ دسترخوان پر رکھی جانے والی یہ معمولی سی سفید یا گلابی ڈلی بظاہر ایک سادہ شے معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر اس کے باطن میں جھانک کر دیکھا جائے تو یہ زمین اور سمندر کے طویل ارضیاتی اور کیمیائی سفر کا نچوڑ ہے۔
انسانی تاریخ میں نمک صرف ذائقے کا نام نہیں رہا بلکہ اس کی اہمیت تہذیبوں کے عروج و زوال سے جڑی رہی ہے۔ قدیم دور میں یہ اتنی قیمتی شے تھا کہ رومن فوجیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی نمک کی صورت میں کی جاتی تھی، اور آج بھی انگریزی زبان کا لفظ سیلری اسی تاریخی پس منظر کا امین ہے۔ ہماری معاشرتی اور ادبی روایات میں نمک حلال اور نمک حرام جیسے الفاظ احسان شناسی اور وفاداری کے استعارے بن چکے ہیں۔
کیمیائی لحاظ سے نمک بنیادی طور پر سوڈیم اور کلورائیڈ کا ایک ایسا مرکب ہے جو فطرت میں مختلف صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ جب ہم اس کے کیمیائی خواص کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسانی جسم کے اندر داخل ہو کر یہ ایک الیکٹرولائٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔ جسم کے اعصابی نظام کو متحرک رکھنے، دماغی پیغامات کو پٹھوں تک پہنچانے، اور خلیات کے درمیان پانی کا درست توازن برقرار رکھنے میں سوڈیم اور کلورائیڈ کے آئنز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ معدے کے اندر ہاضمے کی رطوبتیں یعنی ہائیڈروکلورک ایسڈ کی پیداوار بھی اسی سے ممکن ہوتی ہے، جس کے بغیر خوراک کا ہضم ہونا ناممکن ہو جاتا ہے۔
نمک کی اقسام پر نظر ڈالی جائے تو اس کی دنیا نہایت وسیع اور متنوع ہے۔ ایک طرف فیکٹریوں میں تیار ہونے والا عام سفید خوردنی نمک ہے جو ریفائننگ کے عمل سے گزرتا ہے، تو دوسری طرف قدرت کا انمول تحفہ سنگی نمک یا ہمالیائی نمک ہے جو پاکستان کے خطے میں کھیوڑہ کی کانوں سے نکالا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سمندری پانی کو خشک کر کے حاصل کیا جانے والا سمندری نمک، جڑی بوٹیوں کے ساتھ بھٹی میں تیار کردہ کالا نمک، اور موٹے دانوں والا کوشر نمک بھی اپنی اپنی خصوصیات رکھتے ہیں۔ غذائی اور طبی نقطہ نظر سے غیر ریفائنڈ سنگی نمک کو سب سے بہترین مانا جاتا ہے کیونکہ یہ کیمیائی پروسیس سے پاک ہوتا ہے اور اس میں قدرتی طور پر اسی سے زائد معدنیات اور اجزا محفوظ رہتے ہیں جو جسم کو نقصان پہنچانے کے بجائے اس کی اندرونی طاقت کو بڑھاتے ہیں۔
تاہم، جہاں نمک زندگی کی بحالی اور ذائقے کی روح ہے، وہیں اس کا بے اعتدال اور ضرورت سے زیادہ استعمال انسانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق نمک کی زیادتی کئی موذی اور خاموش بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ سب سے پہلا اور بڑا خطرہ ہائی بلڈ پریشر کی صورت میں سامنے آتا ہے، جہاں خون کی شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور فالج یا دل کے دورے کے امکانات خطرناک حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ مسلسل زیادہ نمک کھانے سے دل کے پٹھے کمزور ہو سکتے ہیں، گردوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے جس کے نتیجے میں وہ فیل ہو سکتے ہیں یا پتھری کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہڈیوں سے کیلشیم کے اخراج میں اضافے کی وجہ سے ہڈیوں کی کمزوری یعنی آسٹیوپوروسس لاحق ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ نمکین غذائیں معدے کی اندرونی تہہ کو نقصان پہنچا کر السر اور معدے کے مسائل کا سبب بنتی ہیں۔
اس کے برعکس، اگر نمک کو ایک دوا یا اکسیر کے طور پر دیکھا جائے تو مناسب اور درست استعمال میں یہ کئی امراض کے لیے بہترین علاج ثابت ہوتا ہے۔ طبِ قدیم اور گھریلو حکمت میں گلے کی سوزش، ٹانسلز اور منہ کے چھالوں کے لیے نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر غرارے کرنا ایک جادو اثر نسخہ مانا جاتا ہے جو جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے۔ بند ناک کو کھولنے، بلغمی کی کیفیت میں بہتری لانے، اور دانتوں کے درد یا مسوڑھوں سے خون آنے کی صورت میں نمک کے پانی سے کلی کرنا فوری آرام دیتا ہے۔ جوڑوں کے درد، پٹھوں کے کھچاؤ اور جسم کی تھکن کو دور کرنے کے لیے سنگی نمک یا ایپسم سالٹ کو نیم گرم پانی کے ٹب میں ملا کر استعمال کرنا قدرتی سکون کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح جلدی امراض، معمولی زخموں کی صفائی اور جراثیم کشی کے لیے بھی نمک کا پانی صدیوں سے آزمایا جا رہا ہے۔
ان تمام حقائق کے پیش نظر، روزمرہ زندگی میں نمک کے استعمال کے دوران احتیاطی تدابیر اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق ایک صحت مند بالغ انسان کے لیے یومیہ پانچ گرام سے کم نمک کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ کی خوراک میں عام ریفائنڈ سفید نمک کے بجائے قدرتی سنگی یا کھیوڑہ کے نمک کو ترجیح دیں، جو مصنوعی کیمیکلز سے پاک ہوتا ہے۔ ڈبے میں بند اشیاء، فاسٹ فوڈ اور نمکین پراسیسڈ کھانوں میں نمک کی مقدار چھپی ہوتی ہے، اس لیے ایسی چیزوں کے استعمال سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے۔ کھانا پکاتے وقت یا دسترخوان پر اوپر سے نمک چھڑکنے کی عادت کو ترک کرنا چاہیے تاکہ جسم میں سوڈیم کا توازن برقرار رہے۔ اگر ہم اعتدال کو اپنا شعار بنا لیں اور نمک کو ضرورت کے تحت استعمال کریں تو یہ زہر بننے کے بجائے ہماری صحت، توانائی اور طویل عمر کا ضامن بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں




