وہ جب پیدا ہوا تو اس کے ہاتھ خالی تھے۔ سب کے خالی ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ مرے گا تو بھی اس کے ہاتھ خالی ہوں گے، یہ فرق ہے۔
اس کا نام بشیر تھا۔ گاؤں میں مزدوری کرتا تھا۔ دن بھر اینٹیں ڈھوتا، سیمنٹ ملاتا، سورج اس کی کمر پر ہوتا اور وہ زمین پر۔ شام کو جب مزدوری ملتی تو تین سو روپے۔ اس میں سے دو سو گھر بھیج دیتا، سو اپنے پاس رکھتا۔
اس کی بیوی اکثر کہتی، "بشیر، کچھ اپنے لیے بھی جوڑ لو۔"
وہ ہنستا اور کہتا، "میرے ہاتھ خالی ہیں تو کیا ہوا، دل بھرا ہوا ہے۔"
اس کا ایک بیٹا تھا، سلیم۔ بشیر کا خواب تھا کہ سلیم پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے گا۔ وہ خود ان پڑھ تھا، لیکن بیٹے کی کتابوں کو ایسے چھوتا جیسے وہ قرآن ہوں۔
سلیم پڑھنے میں بہت لائق نکلا۔ میٹرک میں اس کے نمبر پورے ضلع میں سب سے زیادہ آئے۔ بشیر خوشی سے پورے گاؤں میں مٹھائی بانٹتا پھرا۔ مزدوروں نے کہا، "بشیر، آج تو دیہاڑی چھوڑ دی؟" وہ بولا، "آج میرا بیٹا کمایا ہے، میں نہیں۔"
پھر سلیم کو شہر کے کالج میں داخلہ مل گیا۔ فیس پچیس ہزار تھی۔ بشیر کے پاس پچیس سو بھی نہیں تھے۔
وہ رات بھر سو نہ سکا۔ صبح ٹھیکیدار کے پاس گیا۔ بولا، "سائیں، پیشگی دے دو۔"
ٹھیکیدار نے کہا، "بشیر، تو تو پہلے ہی قرض میں ہے۔"
بشیر نے کہا، "میری گردن رکھ لو، لیکن بیٹے کی فیس دے دو۔"
ٹھیکیدار نے پیسے دے دیے، لیکن بدلے میں بشیر کو چھ مہینے بغیر کسی چھٹی کے کام کرنا تھا۔
بشیر نے کام کیا۔ گرمی میں، سردی میں، بیمار ہو کر بھی۔ اس کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے، پیروں میں زخم۔ لیکن جب سلیم کالج سے فون کرتا اور کہتا، "ابا، میرا رزلٹ آ گیا، میں فرسٹ آیا ہوں۔" تو بشیر کے سارے زخم ٹھیک ہو جاتے۔
وقت گزرا سلیم یونیورسٹی چلا گیا۔ پھر اسے بیرون ملک سکالرشپ مل گئی۔ بشیر نے گاؤں والوں کو پھر مٹھائی کھلائی، ادھار لے کر۔
جس دن سلیم باہر جا رہا تھا، بشیر ایئرپورٹ پر اسے چھوڑنے گیا۔ پرانے کپڑے، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ۔ سلیم نے نئے کپڑے پہنے تھے۔ بشیر نے اس کے ہاتھ میں سو کا نوٹ رکھا اور کہا، "بیٹا، خالی ہاتھ مت جانا۔"
سلیم ہنس پڑا، "ابا، اب میں خود کماؤں گا۔"
سلیم چلا گیا۔ پہلے سال فون آتے رہے، پھر کم ہو گئے، پھر بند ہو گئے۔
بشیر اب بوڑھا ہو گیا تھا۔ مزدوری نہیں ہوتی تھی۔ بیوی بھی بیمار رہنے لگی۔ گھر کا چولہا ٹھنڈا رہنے لگا۔
ایک دن بشیر نے ہمت کر کے سلیم کو فون کیا۔ سلیم نے فون اٹھایا، آواز بدل گئی تھی۔ بولا، "ابا، میں بہت مصروف ہوں، بعد میں بات کرتا ہوں۔"
بعد میں کبھی نہ آیا۔
بشیر سمجھ گیا۔ اس کا بیٹا اب بڑا آدمی بن گیا ہے۔ بڑے آدمیوں کے ہاتھ بھرے ہوتے ہیں، لیکن دل خالی۔
پچھلے مہینے بشیر بہت بیمار ہوا۔ گاؤں کے ڈاکٹر نے کہا، "شہر لے جاؤ۔" پیسے نہیں تھے۔ بیوی نے سلیم کو فون کیا۔ سلیم نے کہا، "میرے پاس وقت نہیں، پیسے بھیج دیتا ہوں۔" پیسے کبھی نہ آئے۔
بشیر آج چارپائی پر لیٹا ہے۔ اس کے ہاتھ دیکھو تو خالی ہیں۔ زندگی بھر مزدوری کی، لیکن ہاتھ میں کچھ نہ رہا۔ اس نے سب کچھ بیٹے پر لگا دیا۔
لیکن وہ خوش ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ کہتا ہے، "میرے ہاتھ خالی ہیں، لیکن میں نے اپنا فرض پورا کیا۔ میرا بیٹا بھلے مجھے بھول گیا، لیکن میں نے اسے بھوکا نہیں سونے دیا۔ میں نے اسے خالی ہاتھ نہیں رکھا۔"
لوگ کہتے ہیں، بشیر نے کیا کمایا؟ میں کہتا ہوں، بشیر نے وہ کمایا جو کوئی نہیں کماتا، دل کا سکون۔
ہم سب اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ خالی ہاتھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ خالی دل۔
بشیر خالی ہاتھ ہے، خالی دل نہیں۔
مزید پڑھیں






